بابری مسجد ملکیت مقدمہ سماعت ۸؍فروری تک ملتوی

بابری مسجد ملکیت مقدمہ سماعت ۸؍فروری تک ملتوی

معاملہ پانچ یا سات ججوں پر مشتمل بنچ کو کرنا چاہئے کیونکہ معاملہ سیاسی ہوچکا ہے ۔ نئی وقف بورڈ کے کپل سبل کا استدلال ، ۹ ہزار دستاویزات اور ۹۰ ہزار صفحات پر مشتمل دستاویزات کے ترجمہ کا کام بھی ادھورا ہے
نئی دہلی ۔۵؍دسمبر: بابری مسجد کی شہادت کو 25 سال ہوچکے ہیں ۔ سپریم کورٹ میں بابری مسجد – رام جنم بھومی تنازعہ کے تعلق سے مالکانہ حق پر سماعت کا آغاز آج (یعنی 5 دسمبر 2017) ہو گیا ہے۔ عدالت میں اب اگلی سماعت 8 فروری 2018 کو ہوگی۔ سماعت کے دوران سنی وقف بورڈ کے وکیل کپل سبل نے شنوائی 2019 تک ٹالنے کا مطالبہ کیا تھا۔ سنی وقف بورڈ کا مطالبہ ہے کہ دستاویزات کو پورا کیا جائے۔ کپل سبل نے مطالبہ کیا کہ معاملہ کی سماعت 5 یا 7 ججوں کی بنچ کو 2019 کے عام انتخابات کے بعد کرنی چاہئے کیوں کہ معاملہ سیاسی ہو چکا ہے۔ سبل نے کہا کہ ریکارڈ میں دستاویز ادھورے ہیں۔ کپل سبل اورجمعیۃ علماء کے وکیل راجیو دھون نے اعتراض ظاہر کرتے ہوئے سماعت کے بائیکاٹ کرنے کی بات کہی۔کپل سبل نے کہا کہ رام مندر این ڈی اے کے ایجنڈے میں ہے اور ان کے انتخابی منشور کا حصہ ہے اس لئے 2019 کے بعد ہی اس حوالے سے سماعت ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ جولائی 2019 تک سماعت کو ٹال دیا جا نا چاہئے۔اس کے جواب میں اتر پردیش حکومت کی طرف سے پیش ہوئے تشار مہتا نے کہا جب دستاویز سنی وقف بورڈ کے پاس موجود ہیں تو ترجمہ شدہ کاپی دینے کی ضرورت کیوں ہے؟ عدالت عظمیٰ اس معاملہ پر فیصلہ کن سماعت کر رہی ہے۔ مسلم فریق کا کہنا ہے کہ اگرہر روزاس معاملہ کی سماعت ہوتی ہے تو بھی فیصلہ آنے میں ایک سال کا وقت لگے گا۔واضح رہے کہ اس معاملہ سے وابستہ 9 ہزار دستاویزات اور 90 ہزار صفحات میں درج شہادتیں فارسی، سنسکرت، عربی سمیت مختلف زبانوں میں درج ہیں ۔ سنی وقف بورڈ نے کورٹ سے مانگ کی ہے کہ ان دستاویزات کا ترجمہ کرایا جائے۔ جمعیۃ علماء ہند سمیت دیگر مسلم تنظیموں نے سپریم کورٹ آف انڈیا کی تین رکنی بینچ کے سامنے ایک عرضداشت داخل کرتے ہوئے معاملے کی سماعت ۲۰۱۹ء کے پارلیمانی انتخابات کے بعد کیئے جانے کی گذارش کی ہے جس پر عدالت نے پہلے تو انکار کیا لیکن وکلاء کے شدید احتجاج اور عدالت سے واک آئوٹ کرکے چلے جانے کی دھمکی دینے کے بعد عدالت نے معاملے کی سماعت ۸؍ فروری ۲۰۱۸ ء ملتوی تو کردی لیکن مسلم تنظیموں کے اس رویہ کی شکایت آج کی اپنی عدالتی کارروائی میں درج کی ۔جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ڈاکٹر راجیو دھون نے عدالت کوبتایا کہ بابری مسجد کا معاملہ انتہائی حساس معاملہ ہے اور عدالت کا فیصلہ آئندہ پارلیمانی و اسمبلی انتخابات پراثر انداز ہوسکتا ہے لہذا عدالت کو معاملے کی نوعیت کو سمجھتے ہوئے اسے اس کی سماعت فوراً ملتوی کردینا چاہئے ۔ڈاکٹر راجیو دھون نے کہا کہ وہ مقدمہ کی میریٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے اور جب بھی مقدمہ کی سماعت شروع ہوگی وہ عدالت میں اپنے دلائل پیش کریں گے نیز ابتک ۱۹؍ ہزار سے زائد صفحات عدالت کے ریکارڈ میں فریقین کیجانب سے داخل کیئے جاچکے ہیں جس کے مطالعہ کے لیے مزید وقت مطلوب ہے ۔ڈاکٹرراجیو دھون کے ساتھ سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل اور دوشن دوئے نے بھی عدالت کو بتایا کہ عدالت کو اپنے آپ کو اس مقدمہ کی سماعت سے دور رکھنا چاہئے کیونکہ اس کا اثر آنے والے انتخابات پر پڑے گا نیز اس معاملے کی سماعت میں مہینوں درکارہیں اور چیف جسٹس کو ریٹائرڈ ہونے میں کچھ ہی ماہ بچے ہیں ۔مسلم تنظیموں کے وکلاء نے آج عدالت میں بی جے پی کے لیڈر ڈاکٹر سبرامنیم سوامی کے ذریعہ وزیر اعظم ہند نریندر مودی کو لکھے گئے خفیہ خط کی نقول بھی پیش کیں ہیں جس میں سبرامنیم سوامی نے وزیر اعظم کو مخاطب ہوتے ہوئے لکھا تھا کہ آپ کا وعدہ تھا کہ آپ الیکشن جیتنے کے بعد رام مندر کی تعمیر میں حائل رکاوٹیں دور کردیں گے جس میں سب سے بڑی رکاوٹ سپریم کورٹ میں زیر سماعت اپیل پر فیصلہ ہے ۔جمعیۃ علما ہند کی نمائندگی کرتے ہوئے ڈاکٹر راجیو دھون نے عدالت میں بہت غصہ میں دیکھائی دیئے اور انہوں نے عدالت سے اس معاملے کو نہیں چلانے کی گذارش کی اور عدالت کے نہ ماننے پروہ دیگر وکلاء کو لیکر عدالت سے جانے لگے جس کے بعد عدالت نے انہیں منانے کی کوشش کی ۔دوپہر دو بجے چیف جسٹس کی کورٹ میں شروع ہوئی سماعت کے وقت کمرہ عدالت میں تل دھرنے کی بھی جگہ نہیں تھی حالانکہ وکلاء اور فریقین کے علاوہ کسی کو بھی کمرہ عدالت میںداخل ہونے کی اجازت نہیں تھی اس کے باوجود تقریباً دو گھنٹہ تک چلنے والی عدالتی کارروائی میں وکلاء نے کھڑے کھڑے سماعت کی۔بابری مسجد کی ملکیت کے تنازعہ کو لیکر سپریم کورٹ آف انڈیا میں زیر سماعت پٹیشن نمبر 10866-10867/2010 جس کی سماعت چیف جسٹس آف انڈیا کی سربراہی والی تین رکنی بینچ جس میں جسٹس دیپک مشراء، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس عبدالنظیر کے روبرو سماعت عمل میںآئی جس کے دوران مسلم تنظیموں بشمول جمعیۃ علماء ہند، مسلم پرنسل لاء بورڈ، سنی وقف بورڈ اور دیگر کی جانب سے داخل کردہ مشترکہ عرضداشت میں عدالت کو بتایا گیا کہ مسلم تنظیموں نے ہندوستانی عدلیہ پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے اور اس تعلق سے عدالت کافیصلہ انہیں قابل قبول ہوگا اس کے برخلاف ہندو تنظیموں نے عدالت کے فیصلہ کو در کنار کرتے ہوئے مندر بنانے کی ضد لگائی ہوئی ہے او ر انہوں نے ابھی تک ایسا کوئی بھی بیان نہیں دیا جس سے یہ واضح ہوتا ہو کہ وہ عدالت کا فیصلہ قبول کرنے کو تیار ہیں۔مشترکہ عرضداشت میں بتایا گیا کہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد سے ہمیشہ سیاسی جماعتوں نے اس کا فائد الیکشن کے ایام میں اٹھایا ہے لہذا عدالت کو معاملے کی سماعت ۲۰۱۹ء کے انتخابات کے بعد کیئے جانے کے احکامات جاری کرنا چاہئے نیز اس معاملے میں ابتک فریقین کی جانب سے داخل کردہ دستاویزات کا مطالعہ اور ان کے ترجمے مکمل نہیں ہوسکے ہیں جس کے لیے مزید کئی مہینوں کا وقت درکار ہے ۔مشترکہ عرضداشت میں عدالت سے یہ بھی گذارش کی گئی ہیکہ وہ ہندو تنظیموں کے نمائندوں بشمول یوگی ادتیہ ناتھ، ڈاکٹر سبرامنیم سوامی، وی ایچ پی صدر و دیگر کو ایسے بیانات جاری کرنے سے متنبہ کرے جس سے دو فرقوں کے درمیان تفرقہ پیدا ہوتا ہو اور عدالت کا فیصلہ آجانے سے قبل مند ر بنانے کا اعلان کرنا عدالت کی توہین ہے جس پر سخت کارروائی ہونا چاہئے۔مشترکہ عرضداشت میں عدالت کو متنبہ بھی کیا گیا ہیکہ اگر مقدمہ کی سماعت شروع ہوگئی اورکسی بھی فریق کے حق میں فیصلہ آیا تو فرقہ وارانہ فسادات رونما ہونے کے امکانات ہیں کیونکہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد ممبئی اور دیگر ریاستوں میں ہونے والے فسادات میں ہزاروں لوگوں کی جانیں تلف ہوئیں تھیں لہذا عدالت کو ان باتوں کے مد نظر معاملے کی سماعت فوری طور پر ملتوی کردینا چاہئے تاکہ کوئی بھی سیاسی جماعت اس مدعے پر سیاست نہ کرے۔خیال رہے کہ۲۳؍ دسمبر ۱۹۴۹؁ء کی شب بابری مسجد میں مبینہ طور پر رام للا کی مورتی رکھے جانے کے بعد حکومت اتر پردیش نے بابری مسجد کو سی آر پی سی کی دفعہ ۱۴۵؍ کے تحت اپنے قبضہ میں کرلیا تھا جس کے خلاف اس وقت جمعیۃ علماء اتر پردیش کے نائب صدر مولانا سید نصیر احمد فیض آبادی اور جنرل سیکریٹری مولانا محمد قاسم شاہجاں پوری نے فیض آباد کی عدالت سے رجوع کیا تھا جس کا تصفیہ ۳۰؍ ستمبر ۲۰۱۰ء؍ کو الہ آباد ہائی کورٹ کے ذریعہ ملکیت کو تین حصوں میں تقسیم کرکے دیا گیاتھا ۔متذکرہ فیصلے کے خلاف جمعیۃ علماء نے سپریم کورٹ میں سب سے پہلے عرضداشت داخل کی تھی ۔اس معاملے میں جمعیۃ علماء ہند اول دن سے فریق ہے اور بابری مسجد کی شہادت کے بعد دائر مقدمہ میں جمعیۃ علماء اتر پردیش کے نائب صدر مولانا سید نصیر فیض آبادی اور جنرل سیکریٹری مولانا محمد قاسم شاہجاں پوری نچلی عدالت میں فریق بنے تھے پھر ان کے انتقال کے بعد حافظ محمد صدیق (جنرل سیکریٹری جمعیۃ علماء اتر پردیش) فریق بنے لیکن دوران سماعت ان کی رحلت کے بعد صدر جمعیۃ علماء اتر پردیش مولانا اشہد رشیدی فریق بنے جو عدالت عظمی میں زیر سماعت اپیل میں بطور فریق ہیں ۔صدر جمعیۃعلماء ہند مولانا سیدارشد مدنی کی ہدایت پر ۳۰؍ ستمبر ۲۰۱۰ء؍ کے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ جس میںا س نے ملکیت کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ دیا تھاکے خلاف سب سے پہلے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا پھر اس کے بعد دیگر مسلم تنظیموں نے بطور فریق اپنی عرضداشتیں داخل کی تھیں۔الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں داخل اپیل میں سب سے پہلا مدعا جمعیۃ نے یہ اٹھایا کہ جب کسی بھی فریق(ہندو اور مسلم)نے بابری مسجد ملکیت کو مختلف حصوں میں بانٹنے کا مطالبہ ہی نہیں کیا تو عدالت نے ایسا فیصلہ کیوں دیا ؟جمعیۃ علماء نے اپنی عرضداشت میں یہ بھی سوال اٹھایا کہ آیا الہ آباد ہائی کورٹ نے تاریخ دوبارہ لکھنے کی کوشش کی ہے بابری مسجد کا فیصلہ صادر کرکے نیز اس نے سال ۱۵۲۸ سے لیکر ۶؍ دسمبر ۱۹۹۲ ء تک کے ثبوتوں کو کنارے رکھتے ہوئے آستھا کی بنیاد پر فیصلہ کردیا جو اسے نا منظور ہے۔ جمعیۃ علماء کی جانب سے داخل اپیل میں تاریخوں کے حوالے سے بتایا گیا ہیکہ سن ۱۵۳۱ ؍ میں بابر کا انتقال ہوگیا تھا جس کے بعد رام چرت مانس نامی کتاب مشہور سادھو تلسی داس نے ۱۵۷۵ میں لکھی جس میں ایودھیا میں رام کا جنم، رام مندر کو توڑ کر بابری مسجد تعمیر کرنے کا کوئی ذکر نہیں ملتا ہے ۔