راہل گاندھی اور کانگریس کا مستقبل

راہل گاندھی اور کانگریس کا مستقبل
  • از : ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز‘ایڈیٹر گواہ اردو ویکلی‘ حیدرآباد۔ فون:9395381226

کانگریس۔مسلم صدر
کانگریس کی صدارت پر آزادی کے بعد کئی مسلمان فائز نہیں ہوا۔ آزادی سے پہلے آٹھ مسلمان بدرالدین طیب جی، رحمت اللہ سیانی، نواب سید محمد بہادر، سید حسن امام، حکیم اجمل خان، محمد علی جوہر، مولانا آزاد، مختار احمد انصاری کانگریس کے صدر رہے۔ مولانا آزاد دو مرتبہ صدارت پر رہے۔ وہ چھ برس تک 1940-46ء تک طویل عرصہ تک صدر رہے۔

راہول گاندھی کو کانگریس کی قیادت سونپ دی گئی۔ وہ ایک ایسے وقت پر ذمہ داری قبول کررہے ہیں جب بظاہر کانگریس کا مستقبل غیر یقینی نظر آتا ہے۔ گجرات کے اسمبلی انتخابات سے عین پہلے‘ راہول گاندھی‘ اپنے آپ کو ’’ہندو‘‘ ثابت کرنے کے لئے ممکنہ کوشش کررہے ہیں‘ وہ وہی غلطی دہرارہے ہیں جو ان کے ڈیڈی راجیو گاندھی کرچکے ہیں۔
راجیو گاندھی کو ایک سلجھے ہوئے‘ مہذب‘ سیکولر قائد کے طور پر قبول کیا گیا تھا تاہم رام مندر تحریک سے خائف ہوکر انہوں نے ہندوتوا طاقتوں کے آتے ہتھیار ڈال دےئے تھے۔ ان کے پھوپھی زاد بھائی ارون نہرو وزیر داخلہ تھے‘ ان کے دور میں بابری مسجد کا تالا کھلوایا گیا۔ رام مندر کے لئے شیلانیاس کی گئی۔ راجیو گاندھی نے دیوراہا بابا سے آشیرواد لیا۔ اس کے باوجود کانگریس بری طرح سے الیکشن ہار گئی تھی۔ اب راہول گاندھی وہی تاریخ دہرارہے ہیں۔ یقیناًوہ ہندو ہیں‘ ان کی والدہ سونیا گاندھی عیسائی ہیں مگر راجیو گاندھی سے ان کا بیاہ ہندو رسومات کے مطابق کیا گیا۔ اس سے پہلے ان کی دادی اندرا گاندھی نے پارسی گھرانہ سے تعلق رکھنے والے فیروز جہانگیر گاندھی سے بھی ہندو رسم و رواج کے مطابق شادی کی۔ حالانکہ فیروز نام پر غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔
saveindia ویب سائٹ پر تو فیروز گاندھی کو فیروز خاں قرار دیا گیا تھا اور یہ بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہوں نے اندرا گاندھی سے لندن کی ایک مسجد میں نکاح کیا۔ اور اندرا گاندھی مسلمان تھیں ان کا اصل نام میمونہ بیگم ہے۔ حالانکہ فیروز گاندھی ممبئی کے پارسی گھرانہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے والد کا نام فریدون جہانگیر تھا۔ پرینکا گاندھی نے بھی چوں کہ رابرٹ وڈودرا سے شادی کی اور راہول گاندھی کی بیشتر دوست غیر ملکی ہیں اس لئے ان کے مذہب و عقیدہ پر کافی مباحث ہوئے۔ گجرات میں چوں کے الیکشن مسائل سے زیادہ مذہبی بنیادوں پر لڑا جارہا ہے اس لئے راہول گاندھی کو بار بار یہ ثابت کرنا پڑا کہ وہ ہندو ہیں۔ ان کے ارکان خاندان ’’شیو بھکت‘‘ ہیں۔ اب یہ ان کی بدقسمتی ہی سمجھی جائے گی کہ سومناتھ مندر میں انہوں نے وزیٹرس بک میں اپنا نام غیر ہندو افراد کے خانہ میں لکھا۔ یہ دانستہ ہو یا نادانستہ‘ اس کا فائدہ سنگھ پریوار ضرور اٹھارہی ہے۔
راہول گاندھی کو کانگریس کی صدارت سونپے جانے پر بھی وزیر اعظم نریندر مودی نے سخت تنقید کی اور کہا کہ شہزادہ ہی کو گدی دی جارہی ہے۔ یہ سوال بھی اٹھائے جارہے ہیں کہ آیا کانگریس صرف نہرو۔گاندھی خاندان تک ہی محدود ہے۔ کیا اس خاندان سے باہر کوئی ایسی ہستی نہیں ہے جو ملک کی سب سے قدیم ترین سیاسی جماعت کی قیادت کرسکے اور اس جماعت کو دوبارہ مرکزی اقتدار دلاسکے۔
کانگریس کی تاریخ کے دو باب ہیں۔ ایک آزادی سے پہلے کا اور دوسرا آزادی کے بعد کا۔ قارئین کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ 28؍دسمبر 1885ء کو انڈین نیشنل کانگریس کا قیام عمل میں آیا تھا۔ ہندوستانی سماج کے امراء طبقہ سے Allan Octavian Hume دادا بھائی نوروجی اور دمنشا واچہ کو اس کا بانی کہا جاسکتا ہے۔ 132سالہ تاریخ میں 59صدور رہ چکے ہیں۔ اور نہرو۔گاندھی خاندان کے چار ارکان موتی لعل نہرو، جواہر لعل نہرو، اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی مجموعی طور پر44برس تک صدارت پر فائز رہے۔ موتی لعل نہرو‘ دو مرتبہ صدر رہے۔ پنڈت نہرو پانچ برس، اندرا گاندھی سات سال سے زائد عرصہ تک صدارت پر رہیں۔ ان کی قیادت کو پارٹی کے سینئر قائدین نے چیلنج بھی کیا اور پارٹی دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ اندرا گاندھی کی قیادت میں کانگریس کا دھڑا اندرا کانگریس کہلایا۔ ان کے قتل کے بعد راجیو گاندھی صدر ہوئے اور چھ سال تک فائز رہے۔ راجیو گاندھی کے قتل کے بعد نہرو۔گاندھی خاندان کا کوئی فرد اس عہدہ کو قبول کرنے کا یا تو اہل نہیں تھا یا حالات اس کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔
پی وی نرسمہا راؤ کانگریس کے صدر بھی ہوئے اور ملک کے وزیر اعظم بھی ۔ انہوں نے اپنے دور حکومت میں ایک تو کانگریس کو دفن کیا اور دوسرے ہندوستان کے سیکولر کردار کو ملیامیٹ کردیا۔ بابری مسجد کی شہادت کے وقت وہ غفلت کی نیند سوئے ہوئے تھے۔ ان کے بعد سیتارام کیسری کو دو سال تک صدارت کا موقع ملا۔ 1998ء میں سونیا گاندھی نے پارٹی کے ’’اصرار‘‘ پر کانگریس کی کمان سنبھالی اور راہول گاندھی کو صدارت کی ذمہ داری سونپنے سے پہلے تک وہ لگ بھگ 19برس اس عہدہ پر فائز رہیں۔ان کے دور صدارت میں کانگریس کو دس سال مرکز میں اقتدار ملا۔ اور پھر اس کی غلط پالیسیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے این ڈی اے نے دوبارہ اقتدار چھین لیا۔
راہول گاندھی نے جن حالات اور ماحول میں ذمہ داری قبول کی ہے‘ وہ ناسازگار ہیں۔ مختلف سطحوں پر ہونے والے انتخابات میں کانگریس کی کارکردگی مایوس کن ہے۔ ہندوتوا‘ طاقتیں بہت مستحکم ہیں۔ کانگریس کو ان سے مقابلہ کے لئے اپنے سیکولر کردار سے سمجھوتہ کرنا پڑرہا ہے۔ ویسے گجرات میں کانگریس نے حالات سے سمجھوتہ کررکھا ہے۔ 2002ء کے بدترین فسادات سے لے کر آج تک نہ تو سونیا گاندھی اور نہ ہی راہول گاندھی نے احسان جعفری کی بیوی یا ان کے ارکان خاندان سے اخلاقی طور پر ملاقات کی اور نہ ہی ان سے اظہار تعزیت کیا۔ اب مندر مندر راہول کے درشن کچھ اور کہانی پیش کررہے ہیں۔
راہول گاندھی نے پرچہ نامزدگی داخل کیا تو اس موقع پر نہرو۔گاندھی خاندان کا کوئی فرد بھی موجود نہیں تھا۔ یہ اتفاق ہے یا اس خاندان کی سیاسی مصلحت کہا نہیں جاسکتا۔
راہول گاندھی کو خود ان کی پارٹی کے اندر آگے چل کر مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ بھی نہیں کہا جاسکتا‘ کیوں کہ تاریخ گواہ ہے کہ پنڈت نہرو سے لے کر اندرا گاندھی کو بار بار پارٹی کے بااثر قائدین کی مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ مرار جی دیسائی، چرن سنگھ، وی پی سنگھ، چندر شیکھر، دیوے گوڑا اور اندر کمار گجرال کانگریسی تھے۔ پارٹی سے منحرف ہوئے اور وزیر اعظم کے عہدہ تک پہنچے۔ راہول گاندھی خود وزیر اعظم بن پائیں گے یا نہیں یہ کہنا قبل از وقت ہے۔ ان کے سامنے بیک وقت کئی چیالنجس ہیں۔ پہلے اپنی پارٹی کو تنظیمی سطح پر مستحکم کرنا ہے۔ عوام کا کھویا ہوا اعتماد بحال کرنا ہے۔ فی الحال صرف نو ریاستوں اروناچل پردیش، آسام، ہماچل پردیش، کرناٹک، کیرالا، منی پور، میگھالیہ، میزورم اور اترکھنڈ میں کانگریس کا اقتدار باقی رہ گیا ہے۔
گجرات میں کانگریس کی اقتدار کی واپسی اتنی آسان نہیں ہے۔ یہ مودی اور امیت شاہ کی اپنی ریاست ہے۔ انہوں نے گجراتیوں کے جذبات کو ابھارا ہے۔ اگرچہ ہاردک پٹیل اور دیگر تین نوجوانوں نے بی جے پی کے لئے مسائل کھڑا کئے ہیں۔ اس کے باوجود سرکاری مشنری کا استعمال کیسے ہوگا۔ آنے والا وقت بتائے گا۔ گجرات الیکشن میں مودی اور امیت شاہ نے گجراتی میں تقاریر کو ترجیح دی۔ راہول گاندھی ہندی پر اکتفا کئے ہوئے ہیں۔ یہ ایک دوری سی محسوس ہوتی ہے۔ فلم ’’پدماوتی‘‘ مسجد۔مندر تنازعات کا بھرپور استعمال کیا گیا ہے۔ اس پس منظر میں اگر گجرات کے الیکشن کانگریس کے حق میں نہ ہوں تو راہول گاندھی کو دھکہ لگ سکتا ہے۔ سنبھلنے کے لئے وقت لگ جائے گا۔ اور سنبھلنے سنبھلنے تک پارٹی میں کیا کیا انقلابات رونما ہوں گے کچھ کہا نہیں جاسکتا۔
بصیرت فیچرس