25 برس قبل بابری مسجد نہیں بھارت کی کمر ٹوٹی تھی

25 برس قبل بابری مسجد نہیں بھارت کی کمر ٹوٹی تھی

25 برس قبل بابری مسجد نہیں بھارت کی کمر ٹوٹی تھی

ڈاکٹر زین شمسی
بہت ساری چیزوں کو عجائب گھروں میں رکھتے ہیں، اسے عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں۔ اسی طرح ایسے عجائب گھر بھی ہونے چاہیے جس میں نرالی ، انوکھی ، بامعنی اور بے معنی باتوں کو محفوظ کیا جاسکے ۔
اب دیکھئے جس دیش کی تمام پیش رفت یعنی تعمیر، ترقی، مسائل ،وسائل ،پڑھائی ، کمائی اور یہاں تک کہ نفرت و محبت کا دار و مدار الیکشن میں جیت اور ہار پر منحصر ہو اور جہاں ہر سال چناؤ ہوتے ہوں وہاں عدالت میں یہ بات کہی جائے کہ فلاں مقدمہ کی سماعت الیکشن کے بعد کی جائے گی۔
کپل سبل صاحب آپ کی بات ہضم نہیں ہوئی۔
25سال سے شہید بابری مسجد کی تڑپتی روح انصاف کی راہ کو اپنی سونی آنکھوں سے تک رہی ہے اور مسجد کے شیدائی اس امید میں ملک کی عدالت عظمی پر تکیہ کئے بیٹھے ہیں کہ عادلِ ہندوستان انصاف پر مبنی فیصلہ دے کر نہ صرف ملک کے عوام پر نظام عدلیہ کا بھروسہ بڑھائیں گے بلکہ یہ بھی باور کرائیں گے مجرم ایک معمولی انسان ہو یا پایہ اقتدار کا پاسدار ہو،انصاف کے کٹہرے دونوں کے لیے ایک جیسے ہیں۔
پاکستان کی عدالت کرپشن کے ایشو پر وزیر اعظم کو معزول کر سکتی ہے تو ہندوستان کی عدالت بھی بابری کے مجرموں کو سلاخوں کے پیچھے دھکیل سکتی ہے اور دنیا کو یہ پیغام دے سکتی ہے کہ انصاف کی ڈگر پر بھارت کے قد م نہیں لڑکھڑاتے۔
مگر یہ کیا ،کپل سبل اور دھون جیسے وکلا پرہجوم عدالتی کارروائیوں کے دوران یہ کہتے نظر آ ئے کہ سماعت آئندہ لوک سبھا الیکشن کے بعد کی جائے۔ دلیل یہ ہے کہ بابری مسجد مقدمہ کی سماعت اور اس پر آنے والا فیصلہعوام کو متاثر کرے گا۔ بابری مسجد اپنی شہادت سے قبل بھی سیاسی پیش قدمی کو متاثر کرتی رہی اور اب شہادت کے بعد بھی یہ سیاسی پیش قدمی کو متاثر کرے گی۔کمال ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ اس پر فیصلہ نہ ہونا سیاست کو متاثر کرتا رہا ہے۔ اس مقدمہ کو تعطل میں رکھنے کی وجہ سے ہی بابری مسجد شہید بھی ہوئی ہے اور مسلمانوں کاہی نہیں سیکولر اقدار کو بھی شدید نقصان پہنچاہے،ساتھ ہی مجرموں کی بھی خوب حوصلہ افزائی ہوئی ہے
مگران کی اس دلیل سے فیصلے کے کچھ اشارے ملتے ہیں۔
سیدھی بات تو کچھ یوں ہے کہ بابری مسجد رات کے اندھیرے کا پراسرار گناہ نہیں، بلکہ دن کے اجالے کا اجتماعی گناہ ہے۔ جس کے عینی شاہدین کی تعداد سفاک سماجی اور بے رحم سیاسی مجرموں سے بھی زیادہ ہے۔ لائیو ٹیلی کاسٹ سمیت ملک و دیگر ممالک سے شائع ہزاروں اخبارات کے رپورٹرس اور کیمرہ مین کی آنکھوں نے وہ دلخراش منظر دیکھا ہے جب بابری مسجد کے ناتواں جسم کے ہر حصے لہولہان ہو رہے تھے اور زہریلی سیاست کی خوفناک فضا میں ” ایک دھکا اور دو، بابری مسجد توڑ دو “ کے نعرے گونج رہے تھے۔ جسے سن کر وہاں کے سماجی اور سیاسی مجرمین کے لبوں پر انوکھی مسکراہٹ پھیل رہی تھی اور بھارت کے امن پسند لوگوں کے کلیجے کسی ناگہانی آفت کے اندیشے سے کپکپا رہے تھے اور مسلمانان ہند اپنی بے بسی اور لا چاری پر کف افسوس ملتے ہوئے دہشت سے بچنے کا کوئی آسرا تلاش کر رہے تھے۔
اس ببانگ دہل اقدام جرم کے 25سال گزر جانے کے بعد بھی عدالتوں میں سماعتوں کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری ہے۔ کمال کی بات یہ ہے کہ عدالت اب اس بات پر بحث کو ختم کر چکی ہے کہ بابری کو لاش میں کس نے تبدیل کیا۔عدالت اب یہ طے کرنا چاہتی ہے کہ اس لاش کو ہندو کو سونپا جائے یا مسلمانوں کے سپرد کیا جائے۔ویسے چھوٹی عدالت ایک بار اسے تین حصوں میں تقسیم کرنے کا فرمان جاری کر چکی ہے، جسے کسی نے معقول فیصلہ قرار نہیں دیا اور بڑی عدالت نے یہ ذًمہ داری لی کہ اس پر صرف وہی فیصلہ کی مجاز ہے۔ اس سلسلہ میں اس نے ایک زبردست منطق کا سہارا لیتے ہوئے ایک حیران کن فیصلہ لیا کہ فریقین آپس میں اس تنازع کو حل کریں۔یہ منطق گلے سے اس لیے نہیں اترتی کہ جب باہمی مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تبھی عدالتوں تک بات پہنچتی ہے ۔اب یہ کیسے ممکن ہو کہ عدالت تک پہنچی ہوئی بات پھر فریقین تک واپس آئے ۔ وہ بھی تب جب سیاست کا پورا دار و مدار ہی ہندو اور مسلمان پر منحصر ہے۔
تو جب یہ بات آ ئی تب ایک وسیم رضوی نکلے , پھرہلکے سے کلب جواد بھی بولےاور کئی اور لوگ بابری کی سوداگری پر اتارو ہو گئے یہ جانتے ہوئے کہ اس مقدمہ میں کچھ نہیں بچا ہے ، سوائے اس کے کہ مسلمان اور دنیا یہ دیکھ سکے کہ بھارت کی سپریم عدالت کس طرح اپنے وقار کو بچا پاتی ہے۔ یہ سپریم کورٹ کی اگنی پریکشا ہے۔
رہا سوال آ ستھا کا تو یہ بحث تب ہونی چاہئے تھی جب بابری مسجد زندہ تھی۔ اسے توڑنے کے بعد یہ بحث مضحکہ خیز ہے کہ آستھا کے نام پر مسلمان خود کو اس سے الگ کر لیں۔ آستھا کی بات مان بھی لی جائے تو آستھا کا یہ کھیل کیسا ہے کہ اپنی آستھا کو زندہ کرنے کے لیے دوسروں کی آستھا کا خون کیا جائے۔ معاملہ اب یہ بالکل نہیں ہے کہ ایودھیا کے جس مقام پر بابری مسجد تھی ، اسی جگہ پر شری رام
کاجائے مقام ہے، کیونکہ ہزاروں پیش کئے جا چکے دستاویز میں اب تک کوئی ایسا ٹھوس ثبوت نہیں ملا ہے کہ جس میں یہ ثابت ہو جائے کہ رام وہیں جنمے تھے ، مگر جب سیاست نے مذہب کا سہارا لیا تو دستاویز ضمنی باتیں ہو جاتی ہیں اور جھوٹ اور گڑھی ہوئی باتوں کو اولیت کا مقام حاصل ہوجاتا ہے۔ بابری مسجد کے معاملہ میں بھی یہی ہوا ہے۔
نرسمہا رائو بھی اس بات کو جانتے تھے کہ یہ محض ایک ایشو ہے اور ایک ایسا ایشو ہے جس کا پائیدان پکڑ کر بی جے پی اقتدار میں آنا چاہتی ہے ، اور اپنی سیاست گرم کرنا چاہتی ہے ، اس لیے انہوں نے انتہائی چالاکی اور ہو شیاری کے ساتھ ایس ایشو کو ختم کرنے کی کوشش کی ،لیکن ان کی یہ کوشش کامیاب نہیں ہو سکی ، بابری کی شہادت کے بعد بی جے پی کومزیدعروج حاصل ہوا اور اب تو وہ پورے آب وتاب کے ساتھ اقتدار کامزہ لے رہی ہے۔بابری مسجد ضرور اس کے لیے سیاست تھی ، جس کا راستہ کانگریس نے ہی ہموار کیا تھا ، لیکن بی جے پی بھی یہ اچھی طرح جانتی ہے کہ بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنانا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے ، اس لیے اتر پردیش میں یوگی اور مرکز میں مودی کے رہتے ہوئے بھی رام مندر کا ایشو اس کی ترجیحات میں نہیں۔ وہ خوب جانتی ہے کہ یہ کام عدالت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ وہ یہ بھی جانتی ہے کہ اگر ایک بار پھر کارسیوکوں کا سہارا لیا گیا تو وہاں رام مندر تو خیر بننے سے رہا پارٹی کے منہدم ہونے کا بھی خطرہ ہے۔ اسی لیے اسے بھی عدالت کے فیصلے کا انتظار ہے۔
یہاں پرعدالت کی حالت سب سے زیادہ نازک ہے ۔ اب تک کی سماعت پر اگر فیصلہ ہوا تو بابری کی باریابی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوگا، اور اگر عدالت آستھا کے نام پر فیصلہ کرتی ہے تو اس کی کریڈیبلٹی پر زبردست آنچ آئے گی۔ اسی لیے بابری کا عفریت عدالت کو پریشان کر رہا ہے ، شاید یہی وجہ ہے کہ اس نے باہمی مذاکرات کا نکتہ نکالا تھا ، جو کارگر ثابت نہیں ہو سکتا صرف اس کے اس معاملہ میں کوئی بابری کے خلاف بات کرے گا تو کوئی اس کے حق میں۔ مسلمانوں نے صاف طور پر کہہ دیا ہے کہ عدالت کا جو بھی فیصلہ ہوگا اسے منظور ہوگا، ظاہر ہے کہ اگر انہیں منظور نہیں بھی ہوگا تو وہ کیا کر لیں گے ، اگر وہ کرنے کے اہل ہوتے تو بابری مسجد کو بچا سکتے تھے۔ اسی لیے انہوں نے دفاعی رخ اپناتے ہوئے بال عدالت کے کورٹ میں پھینک دی۔
فیصلہ کیا آئے گا وہ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ کپل سبل کو بھی پتہ ہے ، اور اسی لیے وہ وکیل سے زیادہ کانگریسی بن کر اس معاملہ کو دیکھ رہے ہیں۔ انہیں پتہ ہے کہ دونوں صورتوں میں فائدہ بی جے پی کو ہی ہونا ہے۔ بابری مسجد اگر ہندوئوں کو دی گئی تو رام مندر تحریک کی کامیابی تسلیم کی جائے گی اور مسلمانوں کو دی گئی تو ایک بار پھر ہندوستان جل اٹھے گا ، جس کا براہ راست فائدہ بی جے پی کو ہو گا۔ شاید اسی لیے انہوں نے سماعت ملتوی کرنے کی درخواست دی۔
1947میں آزادی اور 1950میں آئین و دستور حاصل کر لینے کے بعد آزاد ہندوستانیوں نے نئے بھارت کا ایک سنہرا سپنا دیکھا تھا کہ اب ہم ماضی کی کڑوی کسیلی یادوں کو بھول کر تابناک مستقبل کی طرف گامزن ہوں گے ۔ بابری مسجد کی اس شہادت نے اس تصور اور اس سپنے کو منہدم کر دیا اور ساتھ ہی ساتھ انگریزوں کے اس ’بانٹو اور راج کرو‘کے تصور کو زندہ کر دیا جس نے بھارت کی سیکولر روایت کو تار تار کیا تھا۔ آج بابری مسجد کی 25ویں برسی ہمیں یہی یاد دلاتی ہے کہ ہم غیر ملکیوں کے چنگل سے آزادہوگئے ،مگر ملک کے اندر رہ رہے ملک دشمن عناصر سے مات کھا گئے ۔بصیرت فیچرس