اسدالدین اویسی کو سلام!

اسدالدین اویسی کو سلام!

شکیل رشید
(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز؍گروپ ایڈیٹر بصیرت آن لائن)
عام مسلمان کیوں اقتدار کے ایوانوں میں مسلم نمائندے بھیجتے ہیں؟
اس سوال کا جواب یہی ملے گا’ تاکہ وہ مسلمانوں کے مسائل سرکار کے سامنے پیش کرسکیں اور مسائل کے حل نکلوا سکیں‘۔ پر کیا واقعی ایسا ہوتا ہے ؟ کیا مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والے واقعی مسلمانوں کے مسائل اُٹھانے او ران ہیں حل کروانے کی کوشش کرتے ہیں؟ ان سوالوں کے جواب انتہائی مایوس کن ہیں۔ وہ مسلم نمائندے جنہوں نے مسلمانوں کے مسائل واقعی ایوانوں میں اُٹھائے ہوں اور مرکزی وریاستی سرکاروں کو مسائل حل کرنے پر آمادہ کرنے کی کوششیں کی ہوں انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں۔ پارلیمنٹ میں ’طلاق ثلاثہ‘ پر جوبل پیش ہوا اگر اس کی روشنی میں اگر تمام ۲۲ مسلمان ممبران پارلیمان کا جائزہ لیاجائے تو چند ایک کے علاوہ کوئی ایسا نظر نہیں آتا جس نے اس حساس معاملے پر جو شریعت اسلامیہ پر ایک حملہ ہے، حکومت کو للکارنے کی کوشش کی ہو۔ ان میں مجلس اتحاد المسلمین کے قائد اسدالدین اویسی سب سے بلند نظر آتے ہیں۔ کچھ اس قدر بلند کہ معروف عالم دین ، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ترجمان مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی زبان سے ان کے لیے یہ جملے نکلے’’ پارلیمنٹ میں آپ ہی مسلمان نظر آئے‘‘۔ اور اس جملے کو سن کر اویسی کی آنکھیں چھلک پڑیں۔ آنکھوں کا چھلکنا ان کے صاحب ایمان ہونے کی علامت ہے۔
اویسی نے پارلیمنٹ میں جس طرح شریعت پر بی جے پی او رکانگریس کے ’ناپا ک گٹھ جوڑ‘ کے حملوں کا دفاع کیا اس پر اس ملک کے مسلمان انہیں جتنی بار سلام کہیں وہ کم ہے۔ شریعت مخالفین نے انہیں ’پاگل‘ کا مگر اللہ نے یقینا انہیں اپنا  خاص بندہ چن لیا ہوگا او رملک بھر کے مسلمان انہیں اپنا اصل نمائندہ سمجھنے لگے ہوں گے۔ انہوں نے بل کی خامیوں کو اجاگر کرتے ہوئے یہ ثابت کیا کہ مودی سرکار کا اصل نشانہ ’شریعت ‘ ہے۔ یہ سرکار مسلمانوں اور مسلم خواتین کو مشکلات کی دلدل میں دھنسانا چاہتی ہے۔ انہوں نے سِول لاء اور کریمنل لاء کوگڈ مڈ کیے جانے پر نکتہ چینی کی۔ انہوں نے وزیر قانون روی شنکر پرساد کی اس دروغ گوئی کا کہ بہت سے مسلم ممالک میں طلاق ثلاثہ کو ختم کیاگیا ہے، پردہ فاش کیا اور بتایاکہ کسی بھی مسلم ملک میں ’طلاق ثلاثہ‘ تعزیری جرم نہیں ہے۔ انہوں نے صاف صاف کہا کہ یہ بل مسلم خواتین کو انصاف نہیں دلائے گا بلکہ انہیں مزید ذلّت کی دلدلوں میں ڈھکیل دے گا۔ انہوں نے کھل کر کہا کہ مودی سرکار کی منشاء زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو جیلوں میں ڈھکیل دینے کی ہے۔ اور ا نہو ںنے پارلیمنٹ میں ہی وہ سوال بھی اُٹھایا جس کو ا ُٹھانے کی کسی میں ہمت نہیں ہے، ایم جے اکبر میں بھی نہیں جو خود کو خواتین کی آزادی کی تحریک کا علمبردار گردانتے ہیں کہ ’’گجرات کی بھابھی سے کب انصاف کیاجائے گا؟‘‘۔
یہ سوال کوئی ذکیہ سمن کیوں نہیں پوچھتی؟ یہ سوال کوئی لیکھی کیوں دریافت نہیں کرتی؟ کیوں روی شنکر پرساد ’چھوڑی ہوئی عورتوں‘ کو انصاف دلانے کے لیے کیوں بل نہیں لاتے؟ اس لیے کہ یہ معاملے مسلمانوں کے نہیں ہیں! انہیں مسلم مسائل کو الجھانے اور سیاسی روٹی سینکنے اور اس کے سہارے ’ہندو راشٹر‘ کے قیام کی راہ ہموار کرنے سے غرض ہے کوئی چھوڑی ہوئی جسودھا بین کی پریشانی کو رفع کرنے کی فکر تھوڑی۔ افسوس ہے کہ مولانا اسرارالحق قاسمی، عالم دین ہوکر لوک سبھا کے اجلاس سے غیر حاضر رہے۔ غیر حاضری بھی ایک طرح سے بل کی حمایت ہے۔ افسوس کہ ایم جے اکبر خود کو مفسر قرآن مان کر بل کی حمایت میں آئیں بائیں شائیں بولتے رہے۔ سلمان خورشید نےخیر کانگریسی ہوکر بھی بھی اپنے مسلمان ہونے کا لحاظ یوں رکھا کہ اپنی پارٹی کی روش کے خلاف یہ کہہ کر آواز اُٹھائی ’’ہمیں اس بل کی حمایت نہیں کرنی چاہئے کیو ںکہ اس بل میں واضح نہیں کیاگیا ہے کہ طلاق ثلاثہ کو جرم ٹھہرائے جانے سے خواتین کو کیسے فائدہ ملے گا‘ اگر کوئی مرد جیل چلاجائے گا تو پھر خاتون کی کفالت کون کرے گا؟‘‘۔
اویسی کو پھر سے سلام! انہو ںنے ایک ایسے بل کی، جو مسلمان مردوں اور عورتوں کے استحصال کے لیے بنا ہے اور جس کا بنیادی مقصد شریعت میں مداخلت کی راہ ہموار کرنا ہے، مخالفت کرکے واقعی میں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کے جملے ’پارلیمنٹ میں آپ ہی مسلمان نظر آئے‘ کو سچ ثابت کیا ہے۔
(بصیرت فیچرس)