دبستان اردو ادب کا ایک گوہر شب چراغ بجھ گیا

دبستان اردو ادب کا ایک گوہر شب چراغ بجھ گیا

عبدالخالق القاسمی مظفرپوری
ابھی چند ساعت پہلے افسوسناک خبر ملی کہ عالمی شہرت یافتہ شاعر اور ناظم مشاعرہ،اردو ادب کے چشم و چراغ جناب انور جلال پوری اب اس دار فانی سے دار باقی کی طرف کوچ کر گئے انا للہ وانا الیہ راجعون ۔
یہ دنیا فانی ہے جس میں آدم کی اولاد اپنی حیات مستعار گذار رہے ہیں،اس کی چمک دمک اور دلکش دلربا نظارے عارضی اور فانی ہے ،حیات جاودانی صرف دار آخرت ہے،کوئی بھی شخص اس دنیا ئے آب و گل میں حیات دوام لیکر نہیں آیا بلکہ ایک نہ ایک دن بنی نوع انسان کو فنا کے گھاٹ اترنا ہے،یہ الگ بات ہے کہ مرنے والی کچھ شخصیتیں ایسی ہوتی ہیں جن کے انتقال اور موت کا غم لوگ صدیوں تک یاد رکھتے ہیں ,جس کی وجہ سے ان کی حیات لوگوں میں حیات جاوداں بن جاتی ہے،انہیں نفوس اور قابل رشک شخصیتوں میں سرزمین جلالپور کی ایک عظیم شخصیت عالمی شہرت یافتہ شاعر اور ناظم مشاعرہ جناب انور جلال پوری کی ہے،مرحوم منفرد صاحب اسلوب انشا پرداز ادیب کے ساتھ بیباک شاعر بھی تھے،موصوف کا سانحہ ارتحال اسوقت ایک المیہ ہے،ان کی وفات حسرت آیات سے نہ صرف اردو ادب کا اہم ستون گرگیا بلکہ اردو دنیا کی تمام محفلیں ،مجلسیں اداس ہوگئیں،جس کی تلافی بڑی مشکل ہے،یہ غم پورے ملک کا غم ہے،ملک کے ادباء شعراء کے لئے ایک عظیم حادثہ ہے،مرحوم نہایت سادہ لوح تھے،بڑے نیک دل،پاک طبیعت،مزاحیہ اس قدر کے بجھی ہوئی محفل ،مجلس میں بھی اپنے مزاحیہ کلام سے نئی روح پھونک دیتے تھے،آپ کی صحافتی خدمات بھی قابل قدر ہیں ،آپ ایک اچھے شاعر بھی تھے،آپ نے اردو کی ترقی اور اس کے استحکام کے لئے اپنی عمر عزیز کو قربان کردیا،ایسے نازک اور پر آشوب دور میں مرحوم کا اٹھ جانا جب کے ماضی سے زیادہ مستقبل میں ان کی ضرورت تھی ملت کے لئے ایک بڑا خسارہ ہے،یہ وقت امت مسلمہ کے لئے بڑی آزمائش کا ہے،موصوف کے انتقال پر یقینا پوری اردو دنیا متفکر ہوں گی،بلا شبہ ان کا تعلیمی اور تعمیری کارنامہ تاریخ کے صفحات پر نقوش بن کر دل و دماغ پر ہمیشہ محفوظ رہے گا،اللہ تعالی مرحوم کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلی سے اعلی مقام نصیب فرمائے،پسماندگان کو صبر جمیل عطاء کرے اور اردو حلقے کو ان کا بدل عطاء فرمائے ۔آمین
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
(بصیرت فیچرس)