قصور وار ہم ہیں

قصور وار ہم ہیں

نہ کہ ’بورڈ ‘کی قیادت اور ایم پی حضرات! 
شکیل رشید (ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)
’رہنما ہمارے کہنے پر چلیں ہم رہنمائوں کے کہنے پر نہیں چلنے والے‘
ہندوستانی مسلمانوں کی یہ وہ سوچ ہے جس نے ملک بھر میں مسلم قیادت کا بار بار بیڑا غرق کیا ہے۔ مثال آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی ہی لے لیں۔۔۔پارلیمنٹ میں فوری طلاق ثلاثہ پر پابندی اور اس عمل کو تعزیری قرار دینے والے بل کو پیش کیے جانے کے بعد سے ملک بھر میں بورڈ کی قیادت پر انگلیاں اُٹھنے کا ایک سلسلہ سا شروع ہے۔ سوشل میڈیا پر مسلمانوں کے خود ساختہ دانشور سپریم کورٹ کے فیصلے سے لے کر لوک سبھا میں مودی سرکار کی ہٹ دھرمی تک، ہربات کے لیے بورڈ کے ذمےد اران کو قصور وار مان رہے ہیں اور یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ بورڈ کی قیادت استعفیٰ دے۔ بھلا کیوں استعفیٰ دے؟ کیا مولانا سید محمد رابع حسینی ندوی نے بورڈ کے صدر کی حیثیت سے طلاق ثلاثہ کے تعلق سے حکومت کے سامنے مسلمانوں کا نقطہ ٔ نظر رکھنے کی ہر ممکنہ سعی نہیں کی؟ کیا انہوں نے اور ان کی زیر قیادت بورڈ کے دوسرے ذمے داران مثلاً جنرل سکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی اور بورڈ کے دونوں ہی ترجمان مولانا سجاد نعمانی اور مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے طلاق ثلاثہ پر مسلمانوں کے موقف کو کھل کر پیش نہیں کیا؟ یہ الزام عائد کیاجاتا ہے کہ ان قائدین نے مودی سرکارسے ’مذاکرات‘ کی کوشش نہیں کی۔ سوال یہ ہے کہ جو مودی سرکار کھل کر مسلم دشمنی پر آماد ہے اور مسلمانوں کی شریعت کو نشانہ بنانے پر بضد، جو ’گھر واپسی ‘ سے لے کر ’لوجہاد‘ اور اسکولوں میں’لازمی گیتا پاٹھ‘ سے لے کر ’رمضان المبارک کی چھٹیوں کے خاتمے‘ تک کے لیے کوشاں ہے، اس سرکار سے ’مذاکرات‘ کا کیا مطلب! اور اگر مان لیاجائے کہ ’مذاکرات‘ ہوناچاہئے تھے تب بھی سوال یہ ہے کہ جو سرکار گھمنڈ اور غرور سے ایسی چور ہو کہ ’مذاکرات‘ کرنے پر آمادہ ہی نہ ہو، اس سے ’مذاکرات‘ کیسے کیئے جاسکتے تھے، کیا مودی کے دفتر کا دروازہ جبراً کھلوا کر بورڈ کے ذمے داران اندر گھس جاتے؟ لوگ یہ کیوں فراموش کردیتے ہیں کہ اس سرکار نے بل پر غوروفکر کے لیے کسی عالم دین اور کسی مسلم ماہر قانون تک کو بلانے کی بھی زحمت گوارانہیں کی ہے!
اور ادھر قیادت کو صلواتیں سنانے والوں کا یہ حال ہے کہ جب بورڈ نے تحریری احتجاج کا اعلان کیا او رلاء کمیشن کو بھیجنے کے لیے فارم بھروانے شروع کیے تو صرف پانچ کروڑ ہی فارم بھرے گئے! ملک میں مسلمانوں کی آبادی بیس کروڑ ہے۔ فارم پر نصف مسلم آبادی نے بھی دستخط نہیں کیے! قصور وار تو ہم ہیں نہ کہ بورڈ کی قیادت۔
دوسری مثال مولانا بدرالدین اجمل اور مولانا اسرارالحق قاسمی کی لے لیں۔ مانا کہ جب بل لوک سبھا میں پیش ہوا تو دونوں ہی غیر حاضر تھے۔ لوگوں کا غصے میں آنا فطری تھا مگر فطری غصے کے اظہار کے بعد یہ لازمی تھا کہ ان دونوں ہی کی طرف سے جو وضاحتیں پیش کی گئیں انہیں سنا جاتا۔ اور ان کی پرانی خدمات کے اعتراف میں ان وضاحتوں کو مانا جاتا۔ مگر ہو یہ رہا ہے کہ ان دونوں ہی کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے زمین وآسمان کے قلابے ملائے جارہے ہیں۔ اللہ اور اللہ کے رسولﷺ کی ساری تعلیمات کو فراموش کرکے ان حضرات پر لعن طعن کیا جارہا ہے۔ مولانا بدرالدین اجمل کی آسام کی خدمات کو کیا فراموش کیا جاسکتا ہے؟ جب وہ سیاست کے میدان میں نہیں اترے تھے تب بھی انہوں نے ’مسئلہ آسام‘ کے حل کے لیے کوششیں کی تھیں او راب بھی کررہے ہیں۔ مسئلہ کروڑوں مسلمانوں کا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اگر اسے حل نہ کیا گیا تو بڑے پیمانے پر مسلمانوں کا قتل عام ہوسکتا ہے۔ مولانا بدرالدین اجمل کی وضاحت کو قبول کیاجاناچاہئے تھے۔ مولانا اسرارالحق قاسمی جھوٹے نہیں ہیں۔ ان پر بلاشبہ پارٹی کا دبائو تھا اور اگر وہ لوک سبھا میں موجود ہوتے تو ممکن تھا کہ پارٹی ان پر دبائو ڈالتی کہ بل کے حق میں ووٹ دیں۔ ابتداء میں تو تمام مسلمانوں کو ان کی غیر موجودگی پر غصہ آیا، یہ لازمی بھی تھا، مگر ان کی وضاحت کے بعد ان پر لعن طعن کا سلسلہ بند ہوجاناچاہئے تھا۔ بہرحال راجیہ سبھا میں بل کو رکوانے کے لیے انہوں نے بورڈ کے ساتھ مل کر کوشش کی۔۔۔اور یہ کوشش کامیاب رہی۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ فوری اشتعال کے بعد ٹھنڈے دل سے بھی حالات پر غور کرلیا کریں۔ کچھ اپنے قصور کو بھی پہچانیں اوررہنمائوں کی قیادت پر بھروسہ کریں انہیں اپنے اشارے پر چلانے کی کوشش نہ کریں، اس طرح کبھی بھی کوئی بھی مسلم قیادت ابھر نہیں سکے گی۔
(بصیرت فیچرس)