فوج نے منظم طریقہ سے روہنگیامسلمانوں کاقتل عام کیا

فوج نے منظم طریقہ سے روہنگیامسلمانوں کاقتل عام کیا

میانمارکی فوج کاپہلی مرتبہ اعتراف
واشنگٹن: 11؍جنوری(بی این ایس)
میانمار کی فوج نے اعتراف کر لیا ہے کہ ملکی سکیورٹی فورسز کے ارکان اور بودھ دیہاتیوں نے روہنگیا مسلمانوں کو قتل کیا تھا۔ یہ اعتراف ریاست راکھین میں ملنے والی روہنگیا مسلمانوں کی ایک اجتماعی قبر کے حوالے سے کیا گیا ہے۔میانمار میں ینگون سے بدھ دس جنوری کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوس ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق ملکی فوج نے اب باقاعدہ طور پر یہ تسلیم کر لیا ہے کہ راکھین میں، جہاں میانمار کے روہنگیا مسلم اقلیتی باشندوں کی اکثریت آباد تھی، ابھی حال ہی میں ایک اجتماعی قبر سے جن 10 مسلمانوں کی لاشیں ملی تھیں، انہیں حکومتی سکیورٹی دستوں کے ارکان اور بودھ دیہاتیوں نے قتل کیا تھا۔ایسوسی ایٹڈ پریس نے لکھا ہے کہ میانمار کی فوج کا آج دیا جانے والا یہ بیان اپنی نوعیت کا پہلا اعتراف ہے کہ گزشتہ برس اگست کے اواخر سے راکھین میں روہنگیا مسلم اقلیت کے خلاف جو کریک ڈاؤن شروع کیا گیا تھا، اس دوران ملکی فوج قتل و غارت میں بھی ملوث رہی تھی۔
اقوام متحدہ کی طرف سے اس کریک ڈاؤن کو میانمار میں سکیورٹی دستوں کی طرف سے روہنگیا اقلیت کی ’نسلی تطہیر‘ کا نام بھی دیا جا چکا ہے اور یہ اس فوجی آپریشن کے باعث پیدا ہونے والے حالات ہی کا نتیجہ تھا کہ میانمار سے ساڑھے چھ لاکھ سے زائد روہنگیا مہاجرین اپنی جانیں بچانے کے لیے فرار ہو کر ہمسایہ ملک بنگلہ دیش میں پناہ گزین ہو گئے تھے۔میانمار کی فوج کے کمانڈر ان چیف کے فیس بک پیج پر جاری کردہ ایک بیان کے مطابق ایک اجتماعی قبر سے جن روہنگیا مسلمانوں کی لاشیں ملی تھیں، انہوں نے مقامی بودھ دیہاتیوں کو ’دھمکیاں دی تھیں‘ اور وہ ان دیہاتیوں اور سرکاری دستوں کی ’جوابی کارروائی‘ میں مارے گئے تھے۔اقوام متحدہ، امریکا اور کئی بین الاقوامی تنظیموں کی طرف سے میانمار کی فوج پر یہ الزامات بھی لگائے جاتے ہیں کہ وہ راکھین میں روہنگیا مسلم اقلیتی باشندوں کے وسیع تر قتل، خواتین کے ریپ اور ان باشندوں کے سینکڑوں گھروں کو جلانے کی مرتکب ہوئی تھی۔اس کے برعکس میانمار کی فوج اب تک یہ اصرار کرتی رہی تھی کہ وہ اس پورے تنازعے میں کسی بھی قسم کے غلط اقدامات کی مرتکب نہیں ہوئی تھی۔ ملکی فوج کے سربراہ کا دس جنوری کو فیس بک پر دیا جانے والا بیان تاہم اس سلسلے میں سکیورٹی دستوں کی زیادتیوں کا اولین اعتراف ہے۔بین الاقوامی طبی تنظیم ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز کے مطابق میانمار میں اگست میں شروع ہونے والے کریک ڈاؤن کے دوران صرف ایک ماہ کے اندر اندر ہی ملکی فوج نے کم از کم بھی 6700 روہنگیا مسلمانوں کو قتل کر دیا تھا۔