مدرسے نعوذباللہ دہشت گرد پیدا کرتے ہیں!

مدرسے نعوذباللہ دہشت گرد پیدا کرتے ہیں!

شیعہ فرقے کی نہیں وسیم رضوی کی مذمت
شکیل رشید (ایڈیٹر ممبئی اردونیوز؍سرپرست ایڈیٹر بصیرت آن لائن)
مدرسے بند کئے جائیں کیونکہ یہ دہشت گرد پیدا کرتے ہیں
یوپی شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین وسیم رضوی کا ملک کے وزیراعظم نریندر مودی اوریوپی کے وزیراعلیٰ آدتیہ ناتھ یوگی سے کیا گیا یہ تحریری مطالبہ بلاشبہ قابلِ مذمت اور قابل ملامت تو ہے ہی شرانگیز ،اشتعال انگیز اور ملک کے مسلمانوں کی اکثریت کے مذہبی اور دینی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والا بھی ہے ۔ اور ’ مسلمانوں میں مسلکوں کی بنیاد پر افتراق پھیلانے والابھی۔ ‘۔۔۔ ننگ دین ، ننگ قوم اور ننگ ملت ، ضمیر فروش وسیم رضوی کا یہ کوئی پہلا ایسا بیان نہیں ہے جو ملک کی اکثریتی سُنّی مسلمانوں کی آبادی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچاتا ہے ، وہ اس سے پہلے شہید بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کا مطالبہ کرکے مذہبی اور دینی جذبات کو ٹھیس پہنچاچکے ہیں ۔ اس سلسلے میں وہ باقاعدہ عدالت میں حلف نامہ داخل کرچکے ہیں ۔ ان کے مطالبے کی بنیاد ان کا یہ دعویٰ ہے کہ چونکہ میرباقی شیعہ تھے لہٰذا بابری مسجد شیعہ مسجد ہے اور ایک شیعہ رہنما کی حیثیت سے وہ چاہتے ہیں کہ اس جگہ رام مندر بنے ۔ انہوں نے ایک ہی نشست کی تین طلاقوں کے سلسلے میں بھی سُنّی مسلمانوں کو چوٹ پہنچانے والا بیان دیا ہے ۔۔۔ اور اب مدرسوں کو بند کرنے والا یہ شرانگیز اور قابلِ مذمت بیان سامنے آیا ہے ۔ وہ مدرسے جن کا ملک کو آزادی دلوانے میں سب سے اہم کردار رہا ہے ۔وہ یہ قطعی نہیں کہہ سکتے کہ انہوں نے مدرسوں میں شیعہ مدرسے بھی شامل کئے ہیں کیونکہ مودی اور یوگی کو تحریرکردہ خط میں انہوں نے ’ سعودی عرب ‘ کا حوالہ دیا ہے اور یہ حوالہ یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ جن مدرسوں کو وہ بند کرانا چاہتے ہیں وہ سُنّی مسلمانوں کے مدرسے ہیں ۔ خط میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے حوالے بھی مدرسوں کو غیر شیعہ مدرسے ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں ۔
وسیم رضوی کے یہ بیانات صرف ان کے اپنے ذہن کی اپج نہیں ہیں بلکہ امکان ہے ، بلکہ یہی سچ ہے کہ ان بیانات کے پس پشت بقول اس مصرعے
کوئی معشوق ہے اس پردۂ زنگاری میں
وہ عناصر اور وہ طاقتیں بھی ہیں جو مسلمانوں کو مسلکی بنیادوں پر اس طرح سے تقسیم کرنے کے درپے ہیں کہ ’ بنیان مرصوص‘ کی بجائے یہ قوم تنکوں کی طرح بکھر جائے اورآسانی سے شکار کرلی جائے ۔ اور یہ عناصر یہ طاقتیں وہی ہیں جنہیں اس ملک میں بھگوا ٹولہ کہا جاتا ہے ۔۔۔ یعنی سنگھ پریوار ۔۔۔۔ ایک ٹی وی مباحثہ کا ذکر یہاں ضروری ہوگیا ہے ، مباحثے کے دوران جب اینکر نے حیدر آباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے ساتھ وسیم رضوی بھی موجود ہیں‘ ، تو اویسی نے کہا کہ ’ وسیم رضوی تو یزید کے ایجنٹ ہیں ۔ ‘ یہ جملہ اپنی پوری صورت میں بجا ہے،وسیم رضوی بلا شبہہ یزید کے ایجنٹ ہیں اورآج کا یزید کوئی اور نہیں سنگھ پریوار ہے ۔ وسیم رضوی سنگھ پریوار کے مسلمانوں کو مسلکوں کی بنیاد پر تنکے تنکے بکھیرنے کی سازش کا ایک اہم مہرہ بنے ہوئے ہیں ۔ لوگوں کو خوب یاد ہوگا کہ سنگھی ایم پی سبرامنیم سوامی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا۔۔۔۔ اور لکھا بھی ہے ۔۔۔ کہ مسلمانوں کو مسلکی اختلافات میں مبتلا کرنا ہے ، شیعہ ہمارے ساتھ ہیں اور سنیوں کو دیوبندی اور بریلوی کے نام پر لڑانا ہے ۔ یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب مسلمانوں کے درمیان شدید ردّعمل پیدا ہوگا ۔ وسیم رضوی بابری مسجد ، طلاق ِ ثلاثہ اور مدرسوں کی بات اسی لئے کررہے ہیں کہ سّنّی مسلمانوں میں شیعہ مسلمانوں کے خلاف شدید ردّعمل پیدا ہو ، دونوں لڑیں اور سنگھ پریوار کی مراد برآئے ۔ لیکن مسلمان اتنے احمق نہیں ہیں ، انہیں شیعہ فرقہ سے کوئی دشمنی نہیں ہے ۔ شیعہ رہنماؤں نے بھی بابری مسجد اور طلاقِ ثلاثہ کے مسئلے میں سُنّی موقف کی حمایت کی ہے ۔ ہمیں یقین ہے کہ وسیم رضوی کے اس بیان کو شیعہ فرقے میں بھی ناپسند کیا گیا ہوگا ۔ لہٰذا عام مسلمانوں کے دلوں میں شیعہ فرقے کے لئے کوئی نفرت نہیں ہے ۔۔۔ مگر چونکہ وسیم رضوی جیسوں کی طرف سے نفرت ابھارنے کی کوششیں ہورہی ہیں اس لئے سب کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے ۔ سُنّی مسلمان یہ کریں کہ شیعہ فرقےکی نہیں وسیم رضوی کی مذمت کریں ۔ نہ صرف مذمت کریں بلکہ حکومت پر زور ڈالیں کہ ان کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ اگر حکومت کارروائی نہ کرے تو ملک کے چاروں کونوں سے وسیم رضوی کو قانونی نوٹس بھجوائے جائیں اور اس کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے ۔ اس نے بڑی تعداد میں مسلمانوں کی دل آزاری کی ہے جو کہ جرم ہے ۔اور شیعہ مسلمان بھی وسیم رضوی جیسوں کا حقّہ پانی بند کرکے یہ بتادیں کہ ان کے دل بھی عام مسلمانوں کے دلوں کے ساتھ ہی دھڑکتے ہیں ۔
(بصیرت فیچرس)