جمعیۃ کا صحیح اور بروقت اقدام

جمعیۃ کا صحیح اور بروقت اقدام

شکیل رشید(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز؍سرپرست ایڈیٹر بصیرت آن لائن)
یوپی شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین وسیم رضوی کو قانونی نوٹس بھیج دیاگیا ہے۔جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) نے نوٹس کے ذریعہ ۲۰ کروڑ روپیے ہرجانے کا دعویٰ کرنے کے ساتھ وسیم رضوی سے ملک بھر کے مسلمانوں سے معافی مانگنے کا مطالبہ بھی کیا ہے تاکہ ان کے ان دو خطوں سے جو انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی اور وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو بھیجے ہیں، اور جن کے ذریعہ مدرسوں پر دہشت گردی کی تعلیم دینے کا الزام عائد کرکے انہیں بند کرنےکا مطالبہ کیا ہے، عام مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو پہنچنے والی ٹھیس کا مداوا ہوسکے۔۔۔جمعیۃ کا یہ اقدام درست ،صحیح اور بروقت ہے۔ وسیم رضوی کو اس ملک میں مسلمانوں اور ہندوئوں کے درمیان نفرت کی وسیع خلیج حائل کرنے کے لیے استعمال کیاجارہا ہے اور اب لوگوں سے یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں رہ گئی ہے کہ ایک جانب سنگھ پریوار وسیم رضوی کی آڑ میں مسلمانوں کو مسلکی بنیادوں پر لڑانے کی سازشیں کررہا ہے اور دوسری جانب مدرسوں کو دہشت گردی کے اڈے ثابت کرنے کے لیے ان کا اس طرح استعمال کررہا ہے کہ برادران وطن کے دلوں میں مدرسوں کے لیے واقعی شکوک وشبہات پیدا ہوں اور وہ وسیم رضوی کے الزام کو سچ مان کر سنگھ پریوار کی ملک کو ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے کی تمنا کے برآنے کا سبب بن جائیں۔ اور یہ سچائی بھی اب کوئی ڈھکی چھپی نہیں رہ گئی ہے کہ وسیم رضوی بھی بی جے پی اور سنگھی ٹولے کو اپنے مفادات کی بقا کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ ان پر شیعہ وقف املاک کی لوٹ مار کا الزام ہے۔ الزام ہے کہ انہوں نے خورد برد کرکے کروڑوں روپئے کمائے ہیں۔ ان کی سی بی آئی انکوائری کا اعلان بھی ہوا تھا لیکن اب جب سنگھ پریوار اور بی جے پی انہیں اپنے مفادات کے فروغ کے لیے اور وہ سنگھی ٹولے کو اپنے مفادات کے فروغ کے لیے استعمال کررہے ہیں تو کہاں کی سی بی آئی انکوائری اور کیسی پولس کارروائی! ان کے لیے معاملہ ’سیاں بھئے کوتوال تو اب ڈر کا ہےکا‘ کے مصدا ق ہے۔
ان کا مدرسوں میں دہشت گردی کی تعلیم دینے کا الزام بے حد گھنائونا اور قابل ملامت ہے اور اس کی جس قدر بھی مذمت کی جائے کم ہے؛ لیکن جہاں معاملہ پیٹھ پر حکومت کے ہا تھ کا ہو وہاں نہ مذمت سے کام چلتا ہے اور نہ ہی لعنت وملامت اور سڑکوں پر احتجاج اور مظاہروں سے۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا ہے کہ سرکار اپنے چند مہروں کو سامنے کرکے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس معاملے میں بھی یہی ہورہا ہے؛ وسیم رضوی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہورہی ہے بس مختار عباس نقوی اور ظفر سریش والا کے ذریعے مدرسوں کو قوم پرستی کا سرٹیفکیٹ دیاجارہا ہے۔ مدرسوں کو ایسے کسی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ مدرسوں کا ملک کی آزادی اور ملک میں قوم پرستی کے تصور کر پروان چڑھانے میں جو مثبت کردار رہا ہے وہ جگ ظاہر ہے۔ سرٹیفکیٹ کی نہیں مدرسوں پر ا لزامات عائد کرنے والو ںپر کارروائی کی ضرورت ہے۔ چونکہ کارروائی سرکار کو کرنی نہیں ہے اس لیے یہ ضروری تھا کہ کوئی جماعت کوئی تنظیم آگے بڑھ کر خود قانونی کارروائی کی کوشش کرتی ۔ جمعیۃ علماء نے یہ کام کیا ہے۔ یہ بنیادی کام ہے، اس طرح کم از کم یہ تو ہوگا کہ وسیم رضویوں کو بولنے سے پہلے سوچنا پڑے گا۔ آج ضرورت یہی ہے کہ ساری مسلم تنظیمیں اور جماعتیں کسی بھی مسئلے کے حل کے لیے احتجاج کریں، مگر احتجاج کے ساتھ قانونی کارروائی کے امکانات کو بھی مدنظر رکھیں۔۔عدالتوں سے آج بھی انصاف کی امید ہے۔۔۔امید ہے کہ جمعیۃ کے اس اقدام کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔
(بصیرت فیچرس)