ٹرمپ کا ’اعلان القدس ‘ صہیونی نسل پرستی میں اضافے کا باعث

ٹرمپ کا ’اعلان القدس ‘ صہیونی نسل پرستی میں اضافے کا باعث

لندن :12؍جنوری(بی این ایس)
انسانی حقوق کی ایک بین الاقوامی تنظیم نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ پچھلے سال دسمبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے بعد فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی نوآبادیاتی [اپارتھائیڈ] اور نسل پرستانہ کارروائیوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق لندن میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم’یورو ۔ مڈل ایسٹ ہیومن رائٹس‘ کے ہیڈ کواٹر سے جاری کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ امریکی صدر کا اعلان القدس فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی نسل پرستانہ نفرت میں غیرمعمولی اضافے کا موجب بنا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کے اعلان القدس کے بعد فلسطین کےمقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی غیرقانونی توسیع پسندی، یہودی آباد کاری، فلسطینیوں کی املاک اور اراضی پر غاصبانہ قبضے اور فلسطینیوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صہیونی ریاست کے ماتحت سیکیورٹی اداروں کی جانب سے غرب اردن اور بیت المقدس میں کریک ڈاؤن میں بھی شدت آگئی ہے۔انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت کے عہدیداروں کا ٹرمپ کے اعلان القدس سے قبل بھی فلسطین میں یہودی آباد کاری اور توسیع پسندی کے حوالے سے موقف سخت تھا مگر ٹرمپ کے اعلان نے صہیونیوں کو ایک نیا حوصلہ دیا ہے اور وہ پہلے سے بڑھ پر پوری شدو مد کے ساتھ غرب اردن کو یہودیانے اور القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کی سرگرمیاں  بڑھ گئی ہیں۔یورو مڈل ایسٹ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے وزیر برائے ہاؤسنگ وآباد کاری یوآف گالانٹ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان القدس کے محض دو روز بعد مشرقی بیت المقدس میں چھ ہزار نئے مکانات کی تعمیر کا اعلان کیا، جس بعد حالیہ عرصے میں منظور ہونے والے مکانات کی تعداد63 ہزار سے تجاوزکرچکی ہے۔اسرائیلی حکومت کے عہدیداروں کے بیانات سے لگتا ہے کہ وہ بیت المقدس کی فلسطینی کالونیوں کو یہودیانے کی مزید سازشیں کررہے ہیں اور  القدس کی فلسطینی کالونیوں میں دو ہزار سے زاید یہودیوں کو آباد کیا گیا ہے۔ ان کالونیوں کے اطراف میں اسرائیلی فوج نے چیک پوسٹیں اور کیمپ قائم کر رکھے ہیں جن کے باعث فلسطینیوں کا آزادانہ نقل وحرکت کرنا مشکل اور زندگی اجیرن بنا دی گئی ہے۔خیال رہے کہ گذشتہ برس چھ دسمبر کو امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے ساتھ امریکی وزارت خارجہ کو امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے القدس منتقل کرنے کے احکامات دیے تھے۔ امریکی صدر کے اس اقدام کے بعد جہاں فلسطینی عوام میں شدید غم وغصے کی فضا پائی جا رہی ہیں وہیں صہیونی ریاست نے اپنی غاصبانہ اور توسیع پسندانہ سرگرمیوں میں اضافہ کردیا ہے۔