سپریم کورٹ میں لگی ہے ضمیر کی عدالت

سپریم کورٹ میں لگی ہے ضمیر کی عدالت

رویش کمار
آج وویکانند کی سالگرہ ہے۔ اپنےضمیر کو بیدار کرنے کا اس سے اچھا دن نہیں ہو سکتا۔ وویکانند سچ کوبے خوفی سے کہنے کے حمایتی تھے۔
سچ تالے میں بند ہو سکتا ہے مگر اس میں ضمیر کو چیر دینے کی طاقت ہوتی ہے۔ جج لویاکی موت نے آج سپریم کورٹ کو ایک تاریخی موڑ پر کھڑا کر دیا ہے۔ زبان اور الفاظ پر نہ جائیے۔ مگر ججوں کا اس طرح سڑک پر آنا ملک کو خبردار کر رہا ہے۔ میڈیکل کالج اورجج لویا کی سماعت کے معاملے میں تشکیل شدہ بنچ نے ججوں کو اپنا فرض نبھانے کے لئےمتاثر کیا ہے یا کوئی اور وجہ ہے، یہ ان چار ججوں کے جواب پر انحصار کرے‌گا۔ کورٹ کَوَر کرنے والے نامہ نگار بتا رہے ہیں کہ بنچ‌کی تشکیل اور روسٹر بنانے کے معاملے نےان چار ججوں کے دل میں خدشہ پیدا کیا اور انہوں نے آپ ہی ملک سے سچ بولنےکی جرأت کی ہے۔ کیا بنچ کی تشکیل مجلس عاملہ کی ترجیح اور پسند کی بنیاد پر ہو رہی ہے؟
جج لویا کی موت ملک کی ضمیر کو جھنجھوڑتی رہے‌گی۔ آج وویکانند کی سالگرہ ہے۔ اپنےضمیر کو بیدار کرنے کا اس سے اچھا دن نہیں ہو سکتا۔ وویکانند سچ کوبے خوفی سے کہنے کے حمایتی تھے۔ سوال اٹھیں‌گے کہ کیا حکومت ضرورت سے زیادہمداخلت کر رہی ہے؟ کیا عوام ججوں کو حکومت کے قبضے میں دیکھنا برداشت کرپائے‌گی؟ پھر اس کو انصاف کہاں سے ملے‌گا۔ ان سارے سوالوں کے جواب کا انتظارکیجئے۔ سوال کیجئے۔
یہ بھی پڑھیں : سہراب الدین انکاؤنٹر معاملہ : جج کی مشتبہ موت پر سوال ، بہن نے کہا ملزمین کے حق میں فیصلہ کرنے کے لیے ہوئی تھی 100کرو ڑ کی پیشکش
جج لویا سہراب الدین انکاؤنٹر معاملے میں سماعت کر رہے تھے۔ اس معاملے میں بی جےپی صدر امت شاہ ملزم تھے۔ جج کی موت ہوتی ہے۔ اس کے بعد امت شاہ بری ہو جاتے ہیں۔کوئی ثبوت نہیں ہے دونوں میں تعلق قائم کرنے کے لئے مگر ایک جج کی موت ہو، اس پرسوال نہ ہو، بیوی اور بیٹے کو اتنا ڈرا دیا جائے کہ وہ آج تک اپنے پیارے وطن ہندوستان میں سب کے سامنے آکر بولنے کی ہمت نہیں کر سکے۔ کیا یہی وویکا نند کا ہندوستان ہے؟
شکر ہے ہندوستان میں کارواں جیسے رسالے ہیں، نرنجن جیسا صحافی ہے، ونود اور ہرتوش جیسے مدیر ہیں، جنہوں نے بے خوفی اور بہادری کو ایک نیا مقام دیا ہے۔ ان وکیلوں کو سلام جنہوں نےجج لویا کی موت کی جانچ کی مانگ کی۔
آج ہی سپریم کورٹ نے جج لویا کے معاملے میں مہاراشٹر حکومت کو نوٹس بھیج‌کر پندرہ جنوری تک جواب مانگا ہے۔ سپریم کورٹ نے جج لویا کی موت کو سنگین معاملہ بتایا ہے۔ممبئی ہائی کورٹ میں اس کی سماعت ہونے والی تھی۔ دشینت دوے اور اندرا جئے سنگھ جیسے کچھ وکیل چاہتے تھے کہ سپریم کورٹ دخل نہ دے۔ کوئی بات رہی ہوگی کہ سپریم کورٹ معاملے کو خارج نہ کر دے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس معاملے کو ایک خاص بنچ کو دیےجانے کی مخالفت میں چار سینئر ججوں نے ہندوستان کے چیف جسٹس کو خط لکھااور پریس کانفرنس کی۔ خط میں کسی خاص معاملے کا ذکر نہیں ہے۔ ہمارے معاون آشیش بھارگو نے جو خط بھیجا ہے اس کا نچوڑ یہ ہے۔
خط کا مضمون:
چیف جسٹس روایت سے باہر ہو رہے ہیں جس میں اہم معاملوں میں اجتماعی فیصلے لئے جاتے ہیں۔
چیف جسٹس مقدموں کے بٹوارے میں اصولوں کی پیروی نہیں کر رہے ہیں۔
وہ اہم معاملے جو سپریم کورٹ کی اتحاد کو متاثر کرتے ہیں وہ بغیر کسی معقول وجہ کے۔
ان بنچوں کو دیتے ہیں جو چیف جسٹس کی پریفرینس کی ہیں۔
اس نے ادارے کی امیج خراب کی ہے۔
ہم زیادہ کیسوں کا حوالہ نہیں دے رہے ہیں۔
(بشکریہ: دی وائر اردو)