دھولیہ میں نکالا گیا مراٹھا کرانتی مورچہ ،نعروں سے گونج اُٹھا شہر

دھولیہ میں نکالا گیا مراٹھا کرانتی مورچہ ،نعروں سے گونج اُٹھا شہر

مورچے میں ۳۰ سے ۳۵ ہزار لوگ شامل ،شرپسندوں پر کاروائی کا مطالبہ
دھولیہ :کورے گاؤں بھیما میں تشدد کے خلاف دلت تنظیموںنے ۳ جنوری کوشہر مورچہ نکالا تھا ۔لیکن اس دن شرپسندوں نے موقع کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے عظیم شخصیتوں کی شان میں نازیبا نعرے لگاتے ہوئے دوکانوں اور بسوں پر پتھراؤ کیاتھااور مارپیٹ کے واقعات بھی رونما ہوئے تھے ۔اس واقعے کی مذمت میں جمعہ کے روز مراٹھا سماج کی طرف سے دھولیہ ضلع کے سکل مراٹھا سماج و دیگر فرقوں کی شمولیت میں مراٹھا کرانتی مورچہ نکالا گیا ۔شیواجی مہاراج اور جیجا ماتا کی شان میں نعروں سے پورا شہرگونج اُٹھا۔شیواجی مہاراج کے پُتلے سے اس مورچے کہ شروعات ہوئی ۔اس کے بعد یہ مورچہ کھنڈے راؤ بازار ،پانچ قندیل چوک ،کراچی والا کھونٹ ،جھانسی کی رانی کے پُتلے سے گذرتے ہوئے پُرانے کامپلیکس تک پہنچا ۔آخر میں ضلع کلکٹر کے دفتر پہنچ کرمراٹھا سماج کے وفد نے کلکٹر کو میمورنڈم پیش کیا۔میمورنڈم میں ۳ جنوری کو نکالے گئے مورچے میں عظیم شخصیتو ں کی شان میں نازیبا اور غیر شائشتہ نعرے بازی کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا گیا۔مورچہ کے دوران سابق ایم ایل اے شرد پاٹل اور این سی پی کے ضلع صدر منوج مورے نے لوگوں سے خطاب کے دوران کہا کہ ۳ جنوری کو جو کچھ ہوا ہے ایسا دوبارہ نہیں ہونا چاہئے انہوں نے ۳ جنوری کو نکلے مورچے کے دوران پولس کی کارگذاری پر بھی سوال اُٹھائے ۔مورچے کے دوران شہر میں سخت پولس بندوبست لگایا گیا تھا ۔واضح ہو کہ مراٹھا سماج کے اس مورچے کو اجازت نہ دینے کی اپیل ایک طبقے نے پولس انتظامیہ سے کی تھی ۔مراٹھا کرانتی مورچہ پُرامن طریقے سے اختتام پزیر ہونے کے بعد پولس انتظامیہ نے بھی راحت کی سانس لی ۔اس مورچے میں دیگر مذاہب کے لوگ بھی شامل ہوئے ۔