مسلمانوں پر ہرطرف سے آفت

مسلمانوں پر ہرطرف سے آفت

عبدالرحمن صدیقی(ممبئی اردو نیوز)
ایسا لگ رہا ہے کہ مودی حکومت کی سربراہی میں آر ایس ایس اور اس کی ہمنوا تنظیموں نے اسلام اور مسلمانوں کو اس حد تک نقصان پہنچانے کا منصوبہ بنالیا ہے جس کی تلافی آنے والی دہائیوں میں شاید نہ ہوسکے ۔طلاق ثلاثہ بل کے معاملہ میں پوری مسلم قیادت اور پوری ملت اسلامیہ اپنے شرعی موقف پر قائم تھی اور ہے، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اور مسلم قیادت کا رویہ بھی نہایت حکیمانہ رہا ، لوک سبھا میں کانگریس کی جانب سے کوئی مخالفت نہ کیے جانے کی وجہ سے بل صوتی ووٹوں سے منظور ہوگیا ، مسلم قیادت کو تشویش لاحق ہوئی کہ لوک سبھا کی طرح راجیہ سبھا میں بھی اگر کانگریس نے اس بل کی مخالفت نہیں کی تو وہاں بھی یہ منظور ہوجائے ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ذمہ داران نے محنت کی ، مختلف سیاسی پارٹیوں کے ذمہ داران سے ملاقات کی۔ راجیہ سبھا میں بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کی جگہ کانگریس اور اس کی اتحادی جماعتوںکی ا کثریت ہے لوک سبھا میں کانگریس یا دیگر اپوزیشن پارٹیاں مخالفت کرتیں تو بھی حکومت بل منظور کراسکتی تھی لیکن راجیہ سبھا میںایسا ممکن نہیں تھا، کانگریس کو بھی احساس ہوگیاکہ اگر اس موقع پر اس نے دانشمندی نہیں دکھائی تو سیاسی طور پر اسے خاصا سیاسی نقصان ہوسکتا ہے ، حکمراں بی جے پی کی مشکل یہ تھی کہ اس کی اتحادی تین جماعتیں بھی اس معاملے میں اس کی مخالف تھیں، یعنی ڈی ایم کے، بیجو جنتا دل اور تیلگو دیشم پارٹی طلاق ثلاثہ مخالف بل کے حق میں نہیں تھیں۔ راجیہ سبھا میں یہ بل منظور نہیں ہوا اور کم از کم اگلے بجٹ تک کے لیے معاملہ ٹل گیا، اب معلوم ہوا ہے کہ حکومت راجیہ سبھا میں منہ کی کھانے کے بعد آرڈی نینس کے ذریعہ طلاق ثلاثہ کو غیر قانونی قرار دینے پر غور کررہی ہے۔
دوسرا معاملہ دینی مدارس پر شکنجہ کسنے کا ہے، جب سے اترپردیش میں یوگی حکومت اقتدار میں آئی ہے دینی مدارس کے خلاف کسی نہ کسی عنوان سے شرانگیزی جاری ہے، مدارس پر قانونی شکنجہ کسنے کی کوششیں کی جارہی ہیں، یوپی سے الگ ہوکر قائم ہونے والی ریاست اتراکھنڈ بھی اس معاملہ میں کسی سے پیچھے نہیں ہے یہاں بھی بی جے پی کی حکومت ہے ، دینی مدارس کے خلاف طرح طرح کی الزام تراشیاں ہورہی ہیں، تازہ ترین الزام تراشی شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین وسیم رضوی کی طرف سے ہوئی ہے انہوں نے اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر دینی مدارس کو یہ کہہ کر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے کہ یہاں دہشت گردپیدا ہوتے ہیں، وسیم رضوی کے اس بیان کی ملک گیر سطح پر صدائے بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ سید وسیم رضوی اترپردیش شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین ہیں ان پر کروڑوں کی شیعہ وقف املاک میں خورد برد کرنے کا الزام ہے ، ان کے خلاف جانچ چل رہی ہے۔ خود شیعہ کمیونٹی کے معزز افراد ان کے خلاف ہیں اور ان کی اس بیان بازی کی سب نے بیک آواز مذمت کی ہے ان کے بیان پر بھی ان کے خلاف کیس دائر کیاگیا ہے۔
ایک اور معاملہ بابری مسجد کا ہے مرکز اور اترپردیش کی حکومت اور سنگھ پریوار کے کچھ ایجنٹ اس سلسلہ میں مختلف حیلوں سے سرگرم ہیں، معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ اگر مسلمانوں نے اپنی رضا مندی سے بابری مسجد کی زمین کو ہندوئوں کے حوالے نہیں کیا تو حکومت قانون بناکر اس زمین کو اپنے قبضہ میں لے لے گی۔ براہ راست طو رپر یہ دھمکی بی جے پی کے سینئر لیڈر ڈاکٹر سبرامنیم سوامی نے دی ہے اس کے علاوہ شر ی شری روی شنکر ایک خود ساختہ مغل شہزادہ اور کچھ دیگر لوگ بھی اس معاملے میں سرگرم ہیں۔ اور معاملہ کو سنسنی خیز بنانے میں سب سے اہم رول وسیم رضوی کا رہا ہے انہوں نے کچھ عرصہ قبل سپریم کورٹ کو بغیر مانگے مشورہ دیا تھا کہ بابری مسجد کی جگہ ہندوئوں کو دے دی جائے او رایک مسجد کی جگہ لکھنو میں دے دی جائے۔ بہرحال چند روز سرخیاں بٹورنے کے بعد یہ معاملہ بھی ٹائیں ٹائیں فش ہوگیا۔
ان تمام معاملات میں سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ مسلمانوں کے مفاد کو زک پہنچانے کے لیے خود مسلمانوں جیسا نام رکھنے والوں کو ہی استعمال کیاجارہا ہے، اس سے بھی زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ اسی سال راجیہ سبھا میں این ڈی اے کو اکثریت حاصل ہوجائے گی، اس کے بعد مسلمانوں کے لیے بہت بڑی مشکل کھڑی ہوسکتی ہے۔ ۲۰۱۹ میں عام انتخابات ہونے والے ہیں، ان انتخابات میں کس طرح کی حکمت عملی اپنائی جائے اس کا کوئی واضح اشارہ نہیں مل رہا ہے۔ آنے والے دن میں مسلم لیڈر شپ کے لیے امتحان کی گھڑی ثابت ہوں گے۔
(بصیرت فیچرس)