بی جے پی نے جیجا ماتا، شیواجی مہاراج کے سپنوں کو توڑ دیا

بی جے پی نے جیجا ماتا، شیواجی مہاراج کے سپنوں کو توڑ دیا

جو سرکار اسکولیں نہیں چلا سکتی وہ حکومت کیا چلائے گی: دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال
بلڈانہ۔ ۱۲؍جنوری: تعلیم کے بغیر ملک کیسے ترقی کرسکتا ہے، مہاراشٹر کی دیویندر فڈنویس کی حکومت ضلع پریشد کی اسکولوں کوبند کرنے کے چکر میں ہے۔ سرکار اسکول نہیں چلا سکتی وہ حکومت کیا چلائے گی، سندھ کھیڈراجہ (بلڈانہ) میں یہ الفاظ عام آدمی پارٹی کے چیف اور دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجری وال نے کہے۔ وہ جمعہ کے روز یہاںمہاراشٹر سنکلپ سبھا خطاب کررہے تھے، انہوں نے بی جے پی سرکار پر سخت تنقید کی،راشٹریہ ماتا جیجا ماتا کے جنم دن کے موقع پر دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجری وال سندھ کھیڈ راجہ آئے تھے۔ انہوں نے کہاکہ ذات پات کی وجہ سے آج مہاراشٹر کانقصان ہورہا ہے۔ بی جے پی سرکار نے یہ کہا کہ ضلع پریشد کے علاوہ دوسری اسکولوں کو بند کرکے جیجا ماتا، چھترپتی شیواجی مہاراج، ساوتری بھائی پھلے اور مہاتما پھلے کے خوابوں کو چکنا چور کیا ہے۔ اروند کیجری وال نے کہاکہ تین سال قبل دہلی میں عام آدمی پارٹی کی سرکار آئی ہم لوگوں نے اسکولوں کی کایا پلٹ دی۔ تین سو سے زائد نئی اسکولیں قائم کیں۔ دہلی کے سرکاری اسکولوں میں سوئمنگ پول، جم، ہاکی میدان کی تعمیر کروائی ہے جس کی وجہ سے اسکول کے نتائج دس فیصد بڑھ گئے ہیں۔ ہماری عام آدمی پارٹی کی سرکار نے جیجا ماتا اور چھترپتی شیواجی مہاراج کے خوابوں کو پورا کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ دہلی سرکار کا بجٹ ۴۰ ہزار کروڑ روپئے ہے او رہم اسکول چلا رہے ہیں، اور نئی اسکولوں کی تعمیر بھی کررہے ہیں، جبکہ مہاراشٹر حکومت کا بجٹ تین لکھ کروڑ روپئے کا ہے اور انہیں اسکولیں بند کرنے کی نوبت آرہی ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان ستر سال سے ہندوستان میں بدامنی پھیلانا چاہتا ہے، لیکن وہ ۷۰ سال میں جو نہیں کرپایا اسے اس سرکار نے تین سال میں کردیا۔ اس حکومت کے دور میں بدامنی پھیلی ہے، اس کی مثال ذات پات کا فساد بڑھ رہا ہے۔ ایسا الزام کیجری وال نے لگایا۔ کورے گائوں بھیما کے حادثے کے بارے میں بتاتے ہوئے کہاکہ یہ سرکار کی پالیسی ہے کہ ذات پات کے دنگے پھیلائو اور راج کرو۔ انہوں نے اس دنگے کی سخت مذمت کی ہے۔ ان کے جلسے میں دہلی کے وزیر، عام آدمی پارٹی کے قومی ترجمان، پریتی مینن، دیویندر وانکھیڈے، بریگیڈیئر سدھیر ساونت، سنیل مورے، لکمشن کولہے، انل پٹیل، سینچائی گھوٹالہ اجاگر کرنے والے وجے پنڈھارے بھی موجود تھے۔