ہندوستانی عدلیہ کی تاریخ کے لئے یوم سیاہ!

ہندوستانی عدلیہ کی تاریخ کے لئے یوم سیاہ!

سپریم کورٹ کے چارسینئرججوں نے چیف جسٹس کے طریقہ کارپرسوالیہ نشان اٹھاتے ہوئے میڈیامیں اپنی بات رکھی
انگریزی صحافی ٹاکلے کی رپورٹ سے امت شاہ شک کے گھیرے میں آگئے تھے ، سہراب الدین معاملہ میں جج لویا کی مشکوک موت سپریم کورٹ کے ججوں کی بغاوت کا سبب ، عدلیہ کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا واحد واقعہ ، ایک عرصہ سے دبا ہوا غصہ اچانک پھوٹ پڑا، جب تک سپریم کورٹ کو طاقتور نہیں بنایا جاتا جمہوریت محفوظ نہیں رہ سکتی
نئی دہلی:12؍جنوری(خصوصی نامہ نگار)
آج پہلی بار سپریم کورٹ کے چار موجودہ ججز عدلیہ کی خامیوں کی شکایت لے کر میڈیا کے سامنے آئے ہیں جس سے سرکار میں ہڑکمپ مچ گئی ہے، ججوں کی پریس کانفرنس کے فورا بعد الزامات کا دور شروع ہوگیا ہے۔ عدلیہ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب سپریم کورٹ کے موجودہ ججوں نے میڈیا کو خطاب کیا، چیف جسٹس کے بعد دوسرے سب سے بڑے سینئر جج جسٹس چیلمیشور نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ میں انتظامی خامیوں کے سلسلے میں اپنی شکایات کا حل نہ نکل پانے کی وجہ سے میڈیا کے ذریعے ملک کے سامنے اپنی پوزیشن رکھنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا ’’ہم چاروں ججوں نے سبھی انتظامی خامیوں کا حوالہ دے کر چیف جسٹس سے ملاقات کی تھی لیکن وہاں سے کوئی حل نہ ملنے کی صورت میں ملک کو حقیقت سے واقف کرانے کے لئے میڈیا کا سہارا لینا پڑا ہے۔ جسٹس چیلمیشور نے کہا کہ سپریم کورٹ کا نظام درہم برہم ہے جب تک سپریم کورٹ کو طاقتور نہیں کیا جاتا تب تک جمہوریت محفوظ نہیں رہ سکتی۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ کوئی بیس سال بعد کہے کہ چار سینئر ججوں نے اپنا ضمیر بیچ دیا تھا۔اس لیے ہم نے میڈیا سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔ہندوستان سمیت کسی بھی ملک میں جمہوریت کو بر قرار رکھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ سپریم کور ٹ جیسا ادارہ صحیح ڈھنگ سے کام کرے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے اس معاملے پر چیف جسٹس سے بات کی لیکن انہوں نے ہماری باتیں نہیں سنی۔ ججوں نے بتایا کہ چار ماہ قبل ہم سبھی نے چیف جسٹس کو ایک خط لکھا تھا جو کہ انتظامیہ کے بارے میں تھا ہم نے کچھ مدعے اُٹھائے تھے لیکن ان مدعوں کو ان سنا کردیاگیا ۔ پریس کانفرنس میں ججوں نے کہاکہ چیف جسٹس پر ملک کو فیصلہ کرناچاہئے ہم بس ملک کا قرض ادا کررہے ہیں ججوں نے کہاکہ ہم نہیں چاہتے کہ ہم پر کوئی الزام لگائے۔ یہ پہلی بار ہے کہ سپریم کورٹ کے موجودہ جج پریس کانفرنس کررہے ہیں پریس کانفرنس میں جسٹس چیلمیشور، جسٹس رنجن گوگوئی، جسٹس مدن لوکر اور جسٹس کورین جوسف شامل تھے۔’کیراوان‘ کے صحافی ٹاکلے نے کچھ ایسےثبوت یکجا کئے تھے جس کی وجہ سے سہراب الدین فرضی انکاونٹر معاملے میں ناگپور پولس، آر ایس ایس اور بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ کے اوپر شک کے بادل گہرے ہو گئے تھے۔سپریم کورٹ کے چار سب سے سینئر ججوں نے چیف جسٹس کے کام کرنے کے طریقے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ میں سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا ہے ۔ جس معاملے کو لے کر چاروں ججوں نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے اس کا تعلق جج لویا کی موت سے ہے ۔ جج لویا کی موت کے معاملے میں ہی’کیراوان ‘ میگزین نے اپنے نومبر کے شمارے میں ایک سنسنی خیز رپورٹ شائع کی تھی ۔ صحافی نرنجن ٹاکلے نے انکشاف کیا تھا کہ ممبئی میں سی بی آئی کے اسپیشل جج برج گوپال ہرکشن لویا کو ممبئی ہائی کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس موہت شاہ نے ایک عدالتی معاملے میں ایک فریق کے حق میں فیصلہ دینے کے لئے 100 کروڑ روپے کی رشوت دینے کی پیش کش کی تھی۔ لویا کی ایک بہن انورادھا بیانی نے نرنجن کو بتایا تھا کہ ’’چیف جسٹس موہت شاہ نے خود میرے بھائی کو 100کروڑ روپے کی رشوت کی پیش کش کی تھی‘‘۔ لویا کے والد نے بھی ٹاکلے کو کہا کہ ان کے بیٹے نے ان کو بتایا تھا کہ ایک معاملے میں اپنے حق میں فیصلہ دینے کے بدلے رقم اور ممبئی میں ایک مکان کی پیش کش کی گئی تھی۔ممبئی میں سی بی آئی اسپیشل کورٹ کے جج برج گوپال ہرکرشن لویا (48) ایک اچھی صحت کے مالک تھے، جودو گھنٹے روز ٹیبل ٹینس کھیلتے تھے اور ان کی فیملی کی جانب سے بھی کسی کی دل کی بیماری کی کوئی تاریخ نہیں ملتی۔ ان کے 80سالہ والدین ابھی بھی حیات ہیں اور صحت مند ہیں۔ لیکن یہ جج جو 29نومبر2014 کو اپنے ایک ساتھی کی بیٹی کی شادی کی تقریب میں شرکت کرنے کے لئے ناگپور گئے تھے اور وہاں سے 30نومبر کو رات 11بجے کے بعد 40 منٹ تک اپنی اہلیہ سے خوشگوار موڈ میں فون پر گفتگو کی تھی اور پھر کہا جا رہا ہے کہ ساڑھے بارہ بجے رات کو ان کو دل کا زبردست دورہ پڑا اور ان کا انتقال ہو گیا۔اس معاملے میں انگریزی میگزین ’کیراوان‘کے صحافی نرنجن ٹاکلے نے کچھ ایسےثبوت یکجا کئے تھے جس کی وجہ سے سہراب الدین فرضی انکاونٹر معاملے میں ناگپور پولس، آر ایس ایس اور بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ کے اوپر شک کے بادل گہرے ہو گئے تھے۔ واضح رہے کہ اس معاملے کی سماعت سی بی آئی عدالت میں چل رہی تھی۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ کا آرڈر تھا کہ شروع سے آخر تک اس معاملے کی سماعت ایک ہی جج کرے گا۔ اس معاملے میں پہلے جج کا تبادلہ نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے ایک ماہ کے اندر 25جون کو کر دیا گیا تھا۔ جج نے عدالت میں حا ضر نہ ہونے کے لئے سختی بھی کی تھی۔ امت شاہ کے وکیل نے عدالت سے کہا تھا کہ ان کو شوگر ہے اس لئے ان کو آنے میں دشواری ہے۔ مئی 2014میں انتخابات جیتنے کے بعد امت شاہ کے وکیل نے عدالت کو صرف اتنی اطلاع دی تھی کہ وہ دہلی میں کافی مصروف ہیں۔برج گوپال ہرکرشنن لویا جنہوں ے اکتوبر 2014کو اس کیس کو اپنے ہاتھ میں لیا تھا انہوں نے امت شاہ کو ذاتی طور پرعدالت میں حاضر ہونے سے چارجز کے طے ہونے تک چھوٹ دے دی تھی۔ انہوں نے اس بات پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا تھا کہ امت شاہ ممبئی میں موجود ہونے کے با وجود عدالت میں حاضر نہیں ہوئے تھے۔ لویا نے 15دسمبر سماعت کی تاریخ طے کی تھی لیکن یکم دسمبر کوان کا انتقال ہو گیا یا ان کا قتل ہو گیا؟بھول جائیے کہ اس سب کے ممکنہ جواب کیا ہو سکتے ہیں لیکن ٹاکلے نے جو اپنی رپورٹ میں سوال اٹھائے تھے اس سے کافی شک پیدا ہوتے ہیں اور ان کی آزادانہ جانچ ہونی چاہئے۔ ٹاکلے کے سوالات کچھ اس طرح تھے:.1جن دو ساتھی جج حضرات کے کہنے پر وہ ان کے ساتھ ناگپور میں شادی کی تقریب میں شرکت کے لئے گئے تھے انہوں نے مرحوم کے اہل خانہ سے ان کے انتقال کے ڈیڑھ ماہ تک کوئی ملاقات نہیں کی۔نہ ہی وہ اپنے ساتھی کے جنازے کے ساتھ مرحوم کے آبائی گھر لاتور تک گئے۔.2ناگپور میں یہ جج وی آئی پی گیسٹ ہائوس’ روی بھون ‘ میں ٹھہرے تھے لیکن دعوی یہ ہے کہ لویا کوایک نجی اسپتال بذریعہ ایک آٹو رکشا میں لے جایا گیا تھا۔’.3روی بھون ‘سے آٹو رکشا کا اسٹیند 2کیلومیٹر کے فاصلہ پر ہے اور عام طور پر دن میں بھی گیسٹ ہائوس کے قریب آٹو رکشا نہیں ملتے ہیں۔ ان کو آدھی رات کے بعد کیسے آٹو رکشا مل گیا؟.4لویا کو غیر معروف ’ڈانڈے اسپتال‘ کیوں لے جایا گیا؟.5جج دعوی کرتے ہیں کہ لویا ڈانڈے اسپتال میں سیڑھیاں خود چڑھے تھے اور وہاں ان کو میڈیسن دی گئی تھی۔ ان کو جب دوسرے پرائیویٹ اسپتال ’ میڈیٹرینا اسپتال‘ لے جایا گیا تو وہاں کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ’مردہ لایا گیا‘۔اگر ان کی موت قدرتی تھی اور اس میں کوئی تخریبی کارروائی نہیں تھی تو پھر ان کا پوسٹ مارٹم کیوں کیا گیا؟ کس نے فیصلہ کیا کہ پوسٹ مارٹم ضروری ہے؟.6کس نے پوسٹ مارٹم کے ہر صفحہ پرمرحوم کے رشتےدار کی حیثیت سے دستخظ کئے۔ اور یہ کون پراسرار شخص تھا جس کو مرحوم کی لاش سپرد کی گئی؟.7نہ تو ناگپور پولس نہ ہی جج حضرات نے مرحوم کے گھر والوں کو انتقال کی خبر دی اور آر ایس ایس کے کارکن اشور بہیٹی نے یہ اطلاع کیوں دی؟.8بہیٹی نے صبح پانچ بجے کیسے مرحوم کے گھروالوں کو انتقال کی خبر دی اور مرحوم کے گھر والوں کو دل کا دورہ پڑنے کے فورا بعد کیوں اطلاع نہیں دی گئی؟.9پوسٹ مارٹم کی رپورٹ میں انتقال کا وقت کیوں ساڑھے چھ بجے درج ہے۔.10پولس پنچنامہ تیار کرنے میں کیوں ناکام رہی اور ان کی ذاتی چیزوں کوضبط کرکے کیوں نہیں رکھا ؟.11آر ایس ایس کارکن بہیٹی کے پاس مرحوم کاموبائل فون کہاں سے آیا جو انہوں نے تین دن بعد مرحوم کے خاندان کو لوٹایا؟.12کس نے مرحوم کے فون سے تمام کال ریکارڈس اور میسج ڈیلیٹ کئے جس میں وہ میسج بھی تھا جو مرحوم کو انتقال سے کچھ روز قبل ہی ملا تھا؟مرحوم کے گھر والوں کے مطابق یہ پیغام تھا ’’سر، ان لوگوں سے محفوظ رہئے‘‘.13مرحوم کے گھر والوں نے نوٹس کیا کہ مرحوم کی شرٹ کے کالر پر خون کے دھبے تھے، ان کی بیلٹ الٹی جانب مڑی ہوئی تھی، پینٹ کا کلپ ٹوٹا ہوا تھا اور سر کے پیچھے چوٹ تھی اور ان میں سے کسی بھی چیز کا پوسٹ مارٹم میں ذکر نہیں ہے۔.14مرحوم کے گھر والوں کو دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ نہ لینے کا مشورہ دیا ؟.15مرحوم کی بیوہ اور بیٹے کو کس بات کا خوف ہے؟ وہ ٹاکلے سے بات کرنے سے کیوں خوفزدہ ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ان کو اپنی جان کا خطرہ ہے۔