مدارس اسلامیہ دہشت گرد نہیں محب وطن سپوت پیداکرتاہے

مدارس اسلامیہ دہشت گرد نہیں محب وطن سپوت پیداکرتاہے

فضل الرحمان قاسمی الہ آبادی
مؤرخ اگر ہندوستان کی آزادی کی تاریخ لکھے گا توجب تک مدارس اسلامیہ کی عظیم الشان قربانیوں کاتذکرہ نہ کرے گا، آزادی کی تاریخ مکمل نہیں ہوسکتی ہے، وطن عزیز کے لئے ان مدارس اسلامیہ کے سپوتوں کی بے پناہ قربانیاں اور اس گلشن ہندی کورعنائی بخشنے اورسجانے ،سنوارنے میں بہت اہم کردار رہاہے، ام المدارس دارالعلوم دیوبند کاقیام ہی ملک کی آزادی کی بناپر کیاگیا، اس ملک کو آزاد کرانے میں ہزاروں علماء شہید کئے گئے، چوٹی کے علماء جو انسانیت کے علمبردار تھے، جنکی خانقاہوں میں قال اللہ اورقال الرسول کی صدائیں بلندہوتی تھیں، اس وقت اکابر علماء جس سے روحانی علوم وفنون سیکھتے تھے، ایسے علماء کا خون بھی اس ملک کی آزادی میں شامل ہے، امام ربانی مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ جواس وقت کے بڑے اللہ والے تھے، شیخ الھند مولانا محمود الحسن دیوبندی اور ملک کے چوٹی کے علماء کے پیرومرشد مرجع الخلائق تھے، حضرت کوبھی ملک کی آزادی کے لئے چھ مہینہ مظفرنگر جیل کی صعوبت برداشت کرنی پڑی۔ مدارس اسلامیہ کی تعلیم قرآن وحدیث پر مبنی ہے، قرآن وحدیث کے علوم وفنون ان مدارس میں سکھائے جاتے ہیں، مذہب اسلام انسانیت کاعلمبردار ہے، لہٰذا انسانیت کی تعلیم ان مدارس میں دی جاتی ہے، ان مدارس میں تمام مذاہب کا احترام کرناسکھلایا جاتا ہے، پڑوسی غیرمسلم ہو یاکوئی بھی ہو اسے تکلیف نہ دو، ہم ان مدارس میں بھی پڑھتے پڑھاتے، مدارس کے قریب تو آو، یہ مدارس دہشت نہیں سراپا محبت کے علمبردار ہیں، محبت کے بیج یہاں بوئے جاتے ہیں، قومی یکجہتی کادرس دیاجاتاہے، مقدس قرآن اور حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی صحیح ترجمانی کی جاتی ہے، جب یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوگئی کہ اسلام امن پسند مذہب ہے لہٰذا اسلام کی ترجمانی کرنے والے مدارس امن پسند اوروطن دوست ہیں، رہی بات مدارس انجینئر اور ڈاکٹر نہیں پیداکرتا ہے، یہ الزام بھی بے بنیاد ہے۔ الحمدللہ مدارس سے ڈاکٹر اورانجینئر بھی پیدا ہورہے ہیں، مدارس کے قیام کامقصد شرعی علوم کے علماء پیداکرنا ہے جو دینی امور میں امت کی رہنمائی کریں، اس مقصد میں الحمد للہ مدارس اسلامیہ سوفیصد کامیاب ہیں، مزید برآں مدارس اسلامیہ کے فضلاء عصری درسگاہوں کی طرف رخ کررہے ہیں اور نمایاں کامیابی حاصل کررہے ہیں، اور میں ان لوگوں سے جن کو مدارس میں پڑھنے والے ۳فیصد مسلمانوں کی بہت زیادہ فکر ستاتی ہے، ان سے بڑے ادب سے کہونگا آپ مدارس کے طلباء کی فکر نہ کریں، مسلم قوم کے بچوں سے اگر آپ کو ہمدردی ہے تو سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق 40%فیصد بچے ایسے ہیں جو نہ اسکولوں میں جاتے ہیں، نہ مدارس میں، تعلیم سے محروم رہتے ہیں، ان کی فکر کسی کونہیں، میں مدارس اسلامیہ کی جھوٹی ہمدردی دکھانے والوں سے صاف کہونگا، آپ مسلم قوم سے جھوٹی ہمدردی پیش نہ کریں، اگرواقعی ہمدردی ہے تو ۳فیصد کوچھوڑکر 40%مسلم بچوں کی فکرکریں ،ان کو اعلی تعلیم سے نوازیں، مدارس اسلامیہ پر لب کشائی کرنے سے پہلے اس کی تاریخ، ملک وقوم کے لئے ان کی قربانیوں پر نظر ہونی چاہیئے،مدارس سے محبت کی تعلیم کل بھی دیجاتی تھی، ان شاءاللہ آئندہ بھی جاری رہے گی، اللہ تعالی مدارس کی تما م شروروفتن سے حفاظت فرمائے….آمین۔
(بصیرت فیچرس)