بصیرت صحافیوں،ادیبوں اورنقادوں کوتیارکرنے کاکام کررہاہے

بصیرت صحافیوں،ادیبوں اورنقادوں کوتیارکرنے کاکام کررہاہے

تشکر نامہ
مکرمی جناب غفران ساجد صاحب چیف ایڈیٹر روزنامہ ” بصیرت آن لائن “
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بندہ خیریت دارم وخیریت خواہم
بعدہ عرض ہےکہ اس مراسلہ کو تحریر کرنے میں میں کافی شرمسار ہوں کیونکہ تحریری شکریہ اداکرنے میں بہت دیر ہوگئی ۔ اس تاخیر کی وجہ صرف اور صرف طبیعت کی ناسازگی تھی ۔ بحمداللہ فی الوقت بہتر ہے۔ میں پھر سے آپ کا تہہ دل سے شکر گذار ہوں کہ آپ نے میرے دوسرے مضمون کوبھی اپنے اخبار میں جگہ دے کرصرف ہمت افزائی ہی نہیں کی بلکہ مزید آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا۔اور آپ جیسے لوگ نایاب تو نہیں مگر کمیاب ضرور ہیں ۔آپ میں مجھے رجال سازی کا نمایاںہنر نظرآرہاہے۔اورآپ کی اس شفیق ادا نے نہ جانے کتنے لوگوں کو قلمکار بنایاہوگا اور کتنے لوگ میدان صحافت کے شہسوار ہوچکے ہونگے ۔اور آپ کی اس کوشش سے مستقبل میں قلمکاروں کی نقادوں کی صحافیوں کی ادیبوں کی ایک بہت بڑی ٹیم تیارہونے والی ہے۔ اوراس سے ادبیت کو ایک اچھا خاصا فروغ ملے گا۔
اس پرفتن دور میں انانیت وعصبیت کی جنگ نے لوگوں کی صلاحیت کو ماند کردی ہے ۔چاہے تعلیم وتدریس کا معاملہ ہو یاامامت وخطابت کا مسئلہ ہو یا صحافت وثقافت کا راستہ ہو۔ ہرجگہ اور ہرفیلڈمیں قیادت وسیادت اور حب جاہ ومنصب کی خوفناک جنگ چھڑچکی ہے اور یہ جنگ دن بدن مستحکم ہوتی جارہی ہے ۔جس دن انانیت اورعصبیت کایہ گھناوناتصادم ختم ہوجائے گااور جس وقت کبرونخوت کا بت زمیں بوس ہوجائے گا تو اسی دن سے اس قوم کو ایک سے ایک نایاب ہیرا دستیاب ہونے لگے گا ۔ یہ وہ بیماریاں ہیں جن سے اقوام وملل نیست ونابود ہوئی ہیں اور آج اسی وجہ سے ہماری قوم دن بدن پستی وانحطاط کی طرف بہت تیزی سے جارہی ہے جن کی اسلام نے پرزور مخالفت کی ہے ۔ اسلام توآیاہی ہے ان تمام قلبی وروحانی امراض سے انسان کو نکال کر بلندی کے مقام پر فائز کرنے کے لئے۔
مگر بسا آرزو کہ خاک شدہ
وتقبلوا تحیاتنا،،،
فقط والسلام
اخوک الکریم
العبد سعود احمد صدیقی
باندرہ ممبئی