پرانی دہلی اسٹیشن سے شاہجہانی مسجد تک

پرانی دہلی اسٹیشن سے شاہجہانی مسجد تک

کون جائے ذوق اب دلی کی گلیاں چھوڑ کر

ابوزید فرضی
موبائل :8218073407

یہ پرانی دہلی ریلوے اسٹیشن ہے، ہندوستان میں وجے واڑہ اور کانپور کے بعد ٹرینوں کی کثرت کے اعتبار سے تیسرے نمبر کا بڑا اسٹیشن ہے، اسٹیشن پر چہار جانب ابن آدم اور بنت حوا کا جم غفیر ہے، یقین جانئے مجھ جیسا شریف آدمی اس بھیڑ میں موجود ابن آدم کو بنت حوا اور بنت حوا کو ابن آدم سمجھ سکتا ہے اور اسی غلط فہمی میں جس کو بہن بولنا تھا اس کو بھینس بھی بول سکتا ہے، سولہ کا عدد یوں تو ہر کنوارے کے لئے کشش رکھتا ہے؛ لیکن یہاں اس پرانے اور تقریباً ایک سو پندرہ سالہ بوڑھے اسٹیشن کو بھی سولہ کے عدد سے عشق ہے، چنانچہ یہاں پلیٹ فارم کی تعداد سولہ ہے ،باہر سے اسلامی طرز تعمیر اور اندر سے یوروپ کلچر نے اس اسٹیشن کو بالکل سعودی حکومت کی کاپی بنادیا ہے ،1900میں اس اسٹیشن کی یہ عمارت تیار ہوئی تھی اور اس کے تین سال بعد ہی یہ عمارت عوام کے لئے کھول دی گئی تھی، یہ انیسویں صدی کی دین ہے، اس لئے یہ “بھگوا کلر،، سے محفوظ ہے؛ ورنہ اکیسویں صدی میں تو لگتا ہے کہ پیدا ہونے والے بچے پر بھی دفعِ مضرت کے تحت بھگوا رنگ کرنا لازمی قرار دے دیا جائے گا ۔میں سوچتا ہوں جب یہاں پلیٹ فارم صرف دو تھے یعنی 1903میں اس وقت ہریالی یہاں کم رہی ہوگی؛ لیکن محبوب کو تلاش کرنا مشکل نہیں رہا ہوگا؛ کیونکہ مسافر بھی روزانہ صرف ایک ہزار گزرتے تھے اور اب ان کی تعداد 180ہزار ہے۔میرا دوست خان افسر کہتا ہے کہ اگر کنواروں کو دہلی اسٹشین سے گزرنے والی بنت حوا کی صحیح تعداد بتادی جائے تو شاید وہ اسی اسٹیشن سے اپنے بچوں کے جنت کی تلاش شروع کریں ۔یہ اسٹیشن “دہلی جنکشن،، کے نام سے بھی مشہور ہے اور یہاں سے تقریبا 190ٹرینیں گزرتی ہیں۔اگر آپ کا محبوب سرحد پار ہے یا آپ کے خاندان نے بھی تقسیم کے زخم کو جھیلا ہے تو آپ کو اس اسٹیشن پر ضرور آنا ہوگا؛ کیونکہ یہیں سے سمجھوتہ ایکسپریس محبوب کے دیس کی جانب سفر کرتی ہے؛ لیکن مودی جی کو کسی سمجھوتہ ایکسپریس کی ضرورت نہیں وہ بلا سمجھوتے کے ہی محبوب کے دیس سے بریانی کھاکر آجاتے ہیں اور چھپن انچ کا سینہ پھلاکر محبوب کے دیس کو ’’گریاتے بھی ہیں‘‘. مجھے نہیں پتا کہ کبھی یہاں بابا رام دیو آئے ہیں یا نہیں؛ لیکن ان سے مجھے شکوہ ہے کہ اس اسٹشین پر فاسٹ فوڈ تو خوب ملتا ہے لیکن یہاں پودینہ کی چٹنی اور بتھوے کا ساگ نہیں ملتا، اس سلسلے میں ان کو کوشش کرنی چاہئے اور اگر ان کی کوششوں سے مولی کے پراٹھے ملنے لگیں تو یہاں کے ماحول کو سازگار بنانے سے ہم ہندوستانیوں کو کوئی نہیں روک سکتا۔ اسٹشین پر کھڑا ہوں، میرے ساتھ میرے رفقاء ہیں ارررے غصہ نا ہوں ان کا تعارف بھی کرادوں گا ابھی تو میری آنکھیں حیرت سے پھٹی جارہی ہیں، دیکھیں تو سہی!… جس شہر کے اسٹشین پر اتنی ہریالی ہو پتا نہیں کیسے وہاں کجریوال جیسے لوگ ماحولیاتی آلودگی کی شکایت کرتے ہیں، ماحول یہاں کا گلابی گلابی ہے، اسٹیشن پر اترتے ہیں، غالب کے انداز میں ہر بندے کو عشق ہوسکتا ہے یہ الگ بات ہے کہ خان افسر کا قول ہے کہ یہاں عشق کرنے والے ہمیشہ کاغذ کی ناؤ میں سفر کرتے ہیں، ضروری نہیں کہ میں خان افسر کی بات سے اتفاق بھی کروں؛ کیونکہ میرا ماننا ہے کہ عشق کرنے والے انجام تو دور کی بات آغاز کی بھی فکر نہیں کرتے…. بس عشق کرتے ہیں عشق…. ۔مجھے اس وقت خان افسر کی بات کا قائل ہونا پڑا جب پتا چلا کہ اس اسٹیشن نے 35-1934 میں میک اپ کیا تھا اور اس کے پلیٹ فارم میں اضافہ کیا گیا تھا اور یہاں پاور سگنلس کا تعارف کرایا گیا تھا آپ سوچ رہے ہوں گے کہ خان کی کس بات کا قائل میں ہوگیا؟… اصل میں خان کہتا ہے کہ عورتوں کی طرح ہندو پاک کی کوئی بھی چیز اپنے بڑھاپے کو ظاہر نہیں ہونے دیتی؛ اسی لئے عورتیں میک اپ کرتی ہیں اور مرد شیو کرواتے ہیں، اسی ظالم کا کہنا ہے کہ آدمی اپنی بیوی کی اوریجنل شکل دیکھنا چاہے تو بھی اسے رات کے بعد کی صبح کا انتظار کرنا پڑتا ہے… خان افسر کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک شادی شدہ کی ہی ہمت ہے کہ وہ کسی خاتون کے اوریجنل چہرے کو دیکھ کر بھی ہوش باقی رکھتا ہے.. ورنہ کنوارے تو اسی وقت بیہوش ہوجائیں، ضروری نہیں کہ میں خان کی ان باتوں سے متفق ہوجاؤں کیونکہ میری بھی ایک گھروالی ہے جو میرا معجون مکمل چیک کرتی ہے.. باہری دروازہ تلاش کرتے ہوئے ہم اسٹشین کے باہر آگئے آپ شاید جانتے ہوں لیکن مجھ جیسا دیہاتی نہیں جانتا تھا آج ہی جانا ایک چیز ہوتی ہے موبائل میں اس کو دباؤ تو کار آپ کے سامنے آجاتی ہے بھلا سا نام ہے اس کا جی ہاں! ’’اوبیر‘‘عزیزم فیصل سلمہ نے اوبیر بلائی لیکن اوبیر کے ڈرائیور کو بارہا ہم لوگوں نے ایڈریس بتایا کہ جہاں اسکوٹر والا کھڑا ہے وہیں ہم بھی ہیں ،جہاں دو بچے کھڑے سر کھجا رہے ہیں وہیں ہم بھی ہیں،جہاں پکوڑے والا روزگار پر لگا ہوا ہے وہیں ہم بھی پکوڑے جیسا منھ لیکر براجمان ہیں؛ لیکن وہ نرا جاہل کہتا ہے کوئی بڑی دوکان بتاؤ اب بھلا اسے کوئی بتائے کہ پکوڑے سے بڑا روزگار بھی کوئی ہوتا ہے ،مجبوراً ہمیں بیٹری رکشہ پکڑنا پڑا اور یہ بھی المیہ ہے کہ جتنا کرایہ اس ’’اوبیر ‘‘کا تھا اتناہی اس بیٹری رکشہ کو دینا پڑا۔پیٹ کے چوہوں نے پارلیمنٹ کے شیروں کی صورت اختیار کرلی تھی اور بدن بھی کچھ تھکن محسوس کررہا تھا؛ لیکن ہم نے پہاڑ گنج یعنی جائے قیام جانے کاارادہ بنایا تھا اور یہ تیزی سے سڑک پر دوڑتی بیٹری رکشہ شاہجانی مسجد کی جانب ہی گامزن تھی… یہ دلی ہے میری جان… یہاں کب کوئی کجریوال پیدا ہوجائے پتا نہیں چلتا، کب نربھیا واقعہ ہوجائے خبر نہیں ہوتی اور کب جنتر منتر پر کوئی منتر پھونک کر کرپشن کے خاتمہ کا اعلان کردے محسوس نہیں ہوتا ہے ،یہاں بڈھے بھی جوان ہیں اور جوان بھی بوڑھے نظر آتے ہیں ،جن سڑکوں پر رکشہ چل رہا تھا صاف شفاف تھیں ،اونچی اونچی عمارتیں ان کے نیچے کھڑے چھوٹے چھوٹے ریڑھی والوں کی غربت کا مذاق اڑا رہی تھیں، چمکتی دمکتی کاروں سے سفر کرنے والے سگنل پر کھڑے فقیروں سے سوال کر رہے تھے کہ کیا تم بھی ہندوستانی ہو؟ ان کاروں میں بیٹھنے والے ہی غربت کے خاتمہ پر سیمینار منعقد کرتے ہیں اور سگنل پر ان غریبوں کے لئے اپنی کاروں کی کھڑکیاں بھی نہیں کھولتے…. میرا دوست خان افسر کہتا ہے اور بالکل بجا کہتا ہے کہ “جو غریبوں کی فکر کرتا ہے وہ ہمیشہ کاروں میں ٹہلتا ہے،، یہی وجہ ہے کہ جو بھی رفاہی تنظیم چلاتا ہے اور اس کے پاس بینک بیلینس بہت ہوتا ہے اور وہ غریبوں کاغم کھاتے کھاتے اتنا پیٹو ہوجاتا ہے کہ اگر منھ چاروں طرف گھوم سکے تو پتا لگانا مشکل ہوجائے کہ سیدھا کدھرسے ہے اور الٹا کدھر سے ۔لیجئے….!… ہم جامع مسجد کے گیٹ نمبر 16کے سامنے اتار دےئے گئے، سامنے ایک ریڑھی والا تھا جس کے ریڑھی پر بننے والے پکوڑوں اور دیگر چیزوں نے ہمیں اس سے دس قدم آگے موجود کریم ہوٹل سے بے نیاز کردیا، ہم نے اس کو چار پراٹھے کا آرڈر دیا اور جس وقت اس نے ہمیں پراٹھے پکڑائے اور لوگوں کا تو پتا نہیں؛ لیکن میں اپنی زندگی کے بیس سال پیچھے چلا گیا جس طرح پچپن میں “ماں،، سبزی کو روٹی کے درمیان رکھ کر روٹی گول کر کے دیتی تھی جس کو ہم بستوی لوگ ’’دھُوتُو‘‘کہتے ہیں۔… میں بیٹھنے کے بجائے بچپن ہی کی طرح کھڑے ہوکر ’’دھوتو‘‘کھانے لگا ایک ایک لقمہ پر بچپن کی یادیں تازہ ہوتی جارہی تھیں ۔شاہجانی مسجد کے باہر ’’دھوتو‘‘کھانے کے بعد ہم آگے اردو بازار اور مینا بازار کی جانب چل پڑے لیکن یہ آج نہیں بتاؤں گا کہ وہاں کیا ہوا اور یہ کہ یہ شاہجانی مسجد اور فصیل بند شہر اور چاندنی چوک ایک کنوارے کے لئے خاص کیوں ہیں انتظار کریں اگلی قسط کا اور اگر انتظار نہیں کرسکتے تو میرے دوست خان افسر کی طرح 399کا ریچارج کرائیں اور پائیں مکمل سفر نامہ ایک ہی کلک پر۔۔۔۔۔۔۔۔
بصیرت فیچرس