چھ لاکھ تارکین وطن ’جرائم کے لیے تیار‘: سابق اطالوی وزیراعظم

چھ لاکھ تارکین وطن ’جرائم کے لیے تیار‘: سابق اطالوی وزیراعظم

روم:7؍فروری(بی این ایس)
سابق اطالوی وزیر اعظم سلویو برلسکونی کے مطابق اٹلی میں موجود چھ لاکھ تارکین وطن ’جرائم کے ارتکاب کے لیے تیار بیٹھے‘ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کی سیاسی جماعت حکومت میں آئی تو ان سب غیر ملکیوں کو ملک بدر کر دیا جائے گا۔
اٹلی کی قدامت پسند جماعت کے رہنما سلویو برلسکونی کا کہنا ہے کہ اگلے ماہ انتخابات میں اگر ان کی جماعت فتح یاب ہوئی اور اگلی حکومت قائم کرنے میں کامیاب رہی، تو وہ ملک میں موجود تارکین وطن کے خلاف سخت اقدامات کریں گے۔
اٹلی میں مارچ کی چار تاریخ کو ہونے والے عام انتخابات میں تارکین وطن اور مہاجرین کا موضوع اہم ترین ہے۔ بحیرہء روم سے ریسکیو کیے جانے والے لاکھوں تارکین وطن مختلف اطالوی علاقوں میں مقیم ہیں اور آئندہ انتخابات کے لیے یہی معاملہ تمام سیاسی جماعتوں کی مہم کا بنیادی حصہ ہے۔ تاہم گزشتہ ہفتے کو تارکین وطن کا معاملہ ایک اور موڑ مڑ گیا، جب ایک مسلح اطالوی شخص نے مشتبہ طور پر چھ افریقی تارکین وطن پر فائرنگ کر کے انہیں زخمی کر دیا۔ اس شخص نے وسطیٰ اطالوی قصبے ماکیراتا میں اپنی گاڑی سے ان افراد پر فائرنگ کی تھی۔ پولیس کے مطابق یہ حملہ آور انتہائی دائیں بازو کے شدت پسندانہ نئے نازی خیالات سے متاثر ہے۔ اس سے پہلے اسی علاقے میں ایک نائجیرین تارک وطن نے ایک 18 سالہ اطالوی خاتون کو قتل کر دیا تھا۔
اتوار کے روز ایک اطالوی ٹی وی کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں سابق وزیر اعظم برلسکونی نے کہا کہ سن 2013ء سے اب تک تارکین وطن کی بہت بڑی تعداد اٹلی میں داخل ہو چکی ہے۔ ’’نتیجہ یہ ہے کہ اس وقت قریب چھ لاکھ تیس ہزار تارکین وطن میں سے صرف تیس ہزار کو ملک میں قانونی طور پر رہنے کا حق حاصل ہے، جب کہ باقی چھ لاکھ ایک ایسا سماجی بم ہیں جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے، کیوں کہ وہ جرائم کر کے ہی اٹلی میں رہ رہے ہیں۔‘‘
یہ بات اہم ہے کہ برلسکونی خود انتخابات میں شریک نہیں ہو سکتے کیوں کہ انہیں ٹیکس فراڈ کے ایک مقدمے میں عدالت مجرم قرار دے چکی ہے، تاہم وہ خود اپنی فورسا اٹالیا نامی سیاسی پارٹی کے لیے انتخابی مہم میں شریک ہیں، جب کہ اس جماعت نے دائیں بازو کی ایک مہاجرین مخالف جماعت کے ساتھ انتخابی اتحاد بھی قائم کر رکھا ہے۔