پاکستان میں ائمہ مساجد کے بعد اقلیتی مذہبی پیشواؤں کے لیے بھی ماہانہ وظیفہ کااعلان

پاکستان میں ائمہ مساجد کے بعد اقلیتی مذہبی پیشواؤں کے لیے بھی ماہانہ وظیفہ کااعلان

اسلام آباد:10؍فروری(بی این ایس)
پاکستانی صوبے خیبر پختونخوا میں مسلمانوں کی مساجد کے آئمہ کو ماہانہ وظیفہ ادا کرنے کے حالیہ حکومتی اعلان کے بعد اب اقلیتی برادریوں کے مذہبی پیشواؤں کے لیے بھی ہر ماہ اسی طرح کی مالی ادائیگیوں کا اعلان کر دیا گیا ہے۔خیبر پختونخوا میں آباد مسیحی، ہندو اور سکھ مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے باشندوں نے پشاور حکومت کے اس اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت صوبائی حکومت صوبے بھر میں پادریوں، پنڈتوں اور گرنتھیوں کو ماہانہ دس ہزار روپے وظیفہ ادا کیا کرے گی۔ان اقلیتی برادریوں نے اس سرکاری اقدام کو قابل تعریف قرار دیا ہے تاہم بعض نے اس کی آئندہ شفافیت پر تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے۔ سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے رادیش سنگھ ٹونی نے ڈوئچے ویلے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’سکھ برادری ہمیشہ سے ہی نظر انداز رہی ہے۔ تاہم یہ ایک خوش آئند بات ہے لیکن اس کے لیے ایک منظم طریقہ کار ہونا چاہیے تاکہ یہ حق صرف حقداروں کو ہی ملے اور کوئی شخص نظر انداز نہ کیا جائے۔ اس کے لیے متعلقہ برادری کے باہمی مشورے سے ان لوگوں کی مدد کی جانا چاہیے، جو صحیح معنوں میں اپنے عقیدے کی خدمت کرتے ہیں۔ اگر مساجد میں یہ ماہانہ وظیفہ دو افراد کو دیا جاتا ہے، تو گردواروں کے بھی یہ دو اہلکاروں کو ہی ملنا چاہیے۔‘‘ انہوں نے شکوہ کیا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں سکھوں کا کوئی نمائندہ نہیں، اس لیے انہیں چند خدشات بھی ہیں۔‘‘
پشاور میں صوبائی حکومت نے اس فیصلے کے بعد اب صوبے بھر میں ایسے لوگوں کی فہرستیں مرتب کرنے کا آغاز کر دیا ہے، جو مختلف اضلاع میں مندروں، گرجا گھروں اور گردواروں میں تعینات مذہبی شخصیات کے کوائف جمع کرنے اور ان کی جانچ پڑتال کریں گے۔اس سلسلے میں ڈوئچے ویلے نے جب آل پاکستان میناریٹیز کے رہنما اور مینارٹی رائٹس کے لیے کام کرنے والے ہارون سرب دیال سے رابطہ کیا، تو ان کا کہنا تھا، ’’بنیادی طور خیبر پختونخوا میں ہندوؤں،سکھوں اور مسیحیوں کا کوئی ایسا ادارہ نہیں ہے، جہاں سے مذہبی تعلیم حاصل کرنے کے بعد کوئی مصدقہ سند جاری کی جاتی ہو۔ ایسے میں حکومت کو چاہیے کہ اس طرح کی مراعات دینے سے قبل متعلقہ کمیونٹی سے مشاورت کی جائے اور اس بات کی تصدیق بھی کی جائے کہ جس کسی کو حکومت کی جانب سے ماہانہ وظیفہ دیا جائے گا، وہ واقعی اس کا حقدار بھی ہو۔‘‘اسی طرح مقامی مسیحی برادری کے طلاس گل کا کہنا تھا کہ حکومت کے اس اقدام کو قانونی حیثیت ملنا چاہیے، ایسا نہ ہو کہ کوئی اور حکومت بعد میں یہ سلسلہ ختم کر دے۔ اس کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے اور سرکاری اہلکاروں کی طرح متعلقہ افراد کو وظائف کے ساتھ ساتھ دیگر مراعات اور سہولیات بھی فراہم کی جائیں۔ اگرچہ بعض حلقے اقلیتوں کے لیے سہولیات میں اضافے پر تنقید بھی کرتے ہیں تاہم ان کا ایک موقف یہ بھی ہے کہ صوبائی حکومت نے یہ قدم ایسے وقت پر اٹھایا ہے، جب اگلے الیکشن دور نہیں ہیں۔صوبائی حکومت نے اقلیتی آبادی کی فلاح وبہبود کے لیے مختص فنڈز بیس ملین روپے سے بڑھاکر ایک سو ستاسی ملین روپے کر دیے ہیں، جن میں سے گرجا گھروں، مندروں اور گردواروں کی تزئین و آرائش کے علاوہ اقلیتی آبادی کے بچوں کو تعلیمی وظائف بھی دیے جائیں گے۔دوسری جانب بعض اقلیتی رہنما اس حکومتی فیصلے کو صوبائی حکمرانوں کی جانب سے اقلیتی شہریوں کے ووٹ حاصل کرنے کے لیے ایک حربہ بھی قرار دیتے ہیں۔ پنڈت درشن لال نامی ایک ہندو شہری کا کہنا تھا، ’’ہندوؤں کے مندر تو زیادہ تر اپنی مدد آپ کے تحت ہی چلتے ہیں۔ زیادہ تر ہندو اپنے گھروں میں عبادت کرتے ہیں۔ یہ حکومت کا ایک اچھا اقدام ہے۔ تاہم اسے قانونی تحفظ فراہم کرنا ضروری ہو گا تاکہ ایسا نہ ہو کہ مستقبل کی کوئی صوبائی حکومت یہ سلسلہ بند کر دے۔ اس بات پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہیں ہونا چاہیے۔ کسی کو بھی مذہب کی آڑ میں کوئی سیاسی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی تزئین و آرائش اور دیکھ بھال کی ذمہ داری بھی حکومت ہی کو پوری کرنا چاہیے۔‘‘
خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں بہت سے مسیحی، ہندو،سکھ اور کیلاش برادری کے افراد آباد ہیں، جن کے لیے صوبائی حکومت نے ملازمتوں، تعلیمی اداروں اور وظائف میں کوٹہ بھی مختص کیا ہے۔