مولانا سلمان حسینی ندوی:’’تمہیں کیا ہوگیا ہے‘‘

مولانا سلمان حسینی ندوی:’’تمہیں کیا ہوگیا ہے‘‘

مظفراحسن رحمانی
ایڈیٹر بصیرت آن لائن
مسلم پرسنل لا بورڈ مسلمانوں کا ایسا مشترکہ پلیٹ فارم ہے جس پر ہمیشہ مسلمانوں نے اعتماد اور اعتبار کیا ہے ،اس تنظیم نے ملک میں ہرجہت سے شریعت کی آبرو اور اس کے گیسوئے برہم کو سنوارنے کی فکر کی ہے، اس مشترکہ پلیٹ فارم کے وجود کو باقی رکھنے اور اس کی ساکھ بحال رہے اس کے لئے ان کے قائدین نے اپنے مفاد اور انا کو ہمیشہ پس پشت رکھا ہے،اپنے وقارکو داؤ پر لگاکر اس کی آبیاری کی ہے، تمام مسلک ومشرب کو جوڑکر اسے توانائی پہنچائی ہے ،اپنی پگڑیوں کو عمائد امت کی قدموں میں ڈال کر آپسی اتحاد ،بھائی چارگی سلوک وہمدردی ,اعتماد اعتبار حاصل کرنے کی جان توڑ محنت کی ہے مقصد صرف یہ تھا کہ اس ملک میں ایک ایسے پلیٹ فارم کو وجود بخشا جائے جس میں تمام مسلک و مشرب کے لوگ شریک ہوکر ایک ساتھ اس ملک میں بسنے والے مسلمانوں کے عائلی اور دیگر مسائل کے حل کرنے اور حکومت کی آنکھوں میں آنکھیںِ ڈال کر بات کرنے کی پوری قوت حاصل ہو ،تاریخ کو یہ خوب یاد ہے کہ جب اس ملک میں شاہ بانو کا مقدمہ، متبنی بل اور طرح کے دوسرے مسائل آئے تو اس وقت بورڈ کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا سید منت اللہ رحمانی رحمۃ اللہ علیہ نے پورے ملک کے مسلمانوں کو حکومت کے خلاف کمربستہ رہنے کی دعوت دی اور تمام مسلک و مشرب کے افراد ایک صف میں کھڑے ہوکر اور آواز میں آواز ملاکر پوری شد ومد کے ساتھ حضرت امیر شریعت کا ساتھ دیا ،جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حکومت نے ان عمائدین ملت کے سامنے اپنے گھٹنے ٹیکے اور مسلمانوں کے عائلی مسائل میں کسی دخل اندازی کو اپنے لئے خطرے کی گھنٹی کہا ،سچ تو یہ ہے کہ یہ کام تنہا کسی شخص واحد کے بس کی بات نہیں تھی اگر امت عمائدین ملت اور مسلمانان ہند نے ساتھ نہ دیا ہوتا تو لگائی گئی آواز دب کر دم توڑدیتی ـ ،ابھی جب مودی حکومت اور عدلیہ نے طلاق ثلاثہ سے متعلق خواتین کی رائے معلوم کرنی چاہی تو ملک کے چپہ چپہ نے اس سے ناراضگی کے اظہار کو واضح کرنے کے دستخطی مہم میں حصہ لیا جس کی مدد ملک کی تمام تنظیموں نے کیا اور ہر سطح پر لوگوں نے اس کام کو انجام دیا یہ قوت وطاقت مسلمانوں کے مشترکہ پلیٹ فارم مسلم پرسنل لا بورڈ نے ہی فراہم کیا تھاـ ،اس وقت بورڈ کی باگ ڈور جن باوقار اور با اعتماد ہاتھوں میں ہے اس پر ملک کے مسلمان متفق ہیں ،اس کے صدر باوقار عالم دین اور ہندوستان کے عظیم ادارہ ندوۃ العلماء لکھنو کے مہتمم حضرت مولانا سید رابع حسنی ندوی ہیں ،اس کے جنرل سکریٹری خانقاہ رحمانی کے سجادہ نشیں بہارو اڑیسہ کے امیر شریعت مفکر اسلام حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی اور سکریٹری وترجمان عظیم فقیہ عالمی شہرت یافتہ عالم دین فقیہ العصر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اور ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل سے سب سے زیادہ واقف رہنے والے اور حل کرنے کی صلاحیت رکھنے والے دور رس نبض شناس مشہور عالم دین حضرت مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی ، نڈر اور بے باک عالم دین ،ملی مسائل سے ہمدردی رکھنے والے باوقار عالم دین حضرت مولاناسید ارشد مدنی، حضرت مولانا محمود مدنی اور شیعوں کے نمائندہ عالموں ،بریلوی ،اہل حدیث کے مقتدر علما کے ہاتھوں میں ہے جس پر اس ملک میں بسنے والے مسلمانوں کو مکمل بھروسہ ہے ان بزرگوں کی راتیں آنکھوں آنکھوں میں کٹ جاتی ہے اور مسائل کے حل کرنے میں ان کی جانیں گھلتی رہتی ہے۔ لیکن موجودہ صورت حال میں ملک کے مسلمان تشویش کے شکار ہیں اور ایسے دوراہے پر کھڑے ہیں جس کی کوئی سمت نظر نہیں آتی ہے ،ملک کے ایک قد آور عالم دین حضرت مولانا سلمان حسینی ندوی جومسلم پرسنل لا بورڈ کے اہم رکن ہیں، انہوں نے امیرشریعت حضرت مولانا سید محمد منت اللہ رحمانی ،حضرت قاری طیب صاحب ،حضرت مولانا علی میاں ندوی ،حضرت قاضی شریعت مولانا مجاہدالاسلام قاسمی کا ساتھ اس کی ساکھ کو باقی رکھنے اور بچانے کی انتھک کوششیں کی ہیں ،جنہوں نے ہمیشہ مسلمانوں کے حوصلوں کو مہمیز لگانے کے ساتھ اس کے وقار کو باقی رکھنے کی انتھک کوششیں کی ہیں ،نہ جانے کیوں اب انہوں نے بابری مسجد کے مسئلہ کو سامنے لاکر ملت کی کشتی کو منجھدار میں لاکر پھنسادیا ہے، اس مسئلے میں ان کا موقف یہ ہے کہ بابری مسجد کو اس کی جگہ پر نہ بناکر دوسری جگہ منتقل کردیا جائے جب کہ بورڈ کا موقف شروع سے یہ رہا کہ عدالت کے فیصلے کا ہم انتظار کرینگے اور اس کے فیصلے کا احترام کریں گے ،یہ ایک اچھی بات ہے اسے اس ملک کے مسلمان بھی مانتے ہیں ،افسوس کا مقام یہ بھی ہے کہ انہوں نے انڈیا ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ایسی باتیں کہیں جسے کوئی بھی مسلمان ہرگز قبول نہیں کرےگا ،انہوں نے الزام لگایاکہ اس وقت بورڈ پر ایک خاص گروہ کی اجارہ داری ہے ،یہ بات سمجھ میں نہیں آتی ہے کہ جب اس کے صدر قابل احترام عالم دین حضرت مولانا رابع حسنی ندوی دامت برکاتہم ہیں تو پھر کسی دوسرے گروہ کا کیا مطلب ہے۔ صدر محترم کا فیصلہ ہی ہمیشہ سے اہم مانا جاتا رہاہے اس لئے مولانا سلمان ندوی صاحب کی اس بات میں ہمیں تردد ہے ، انہوں نے یہ کہ کرکہ حیدرآباد کے کسی عالم دین کو ہم نے نہیں دیکھا ،سرحدوں کو بانٹنے کی کوشس کی اور دلوں میں خلیج پیدا کرنے والی بات کہہ کر امت کو غلط پیغام دینے کی کوشس کی ،حالانکہ اس اہم اجلاس میں دوبڑے عالم ایک مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اور دوسرے دارالعلوم حیدرآباد کےمہتمم مولانا رحیم الدین انصاری صاحب موجود تھے اگرچہ ان کی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے انہوں نے کہ دیا کہ وہ مجلس میں موجود نہیں تھے اور ایک چپراسی کی طرح باہر گھوم رہے تھے، مولانا محترم کو سوچنا تھا کہ ان کے شہر میں آئے ہوئے مہمانوں کا استقبال حیدرآباد کی تہذیب کے مطابق وہ خود کرنا چاہتے ہیں اگر اس کا نام چپراسی کا دیا جائے تو ان کی زبان کو کوئی کیوں لگام دینگے ۔انڈیا ٹی وی کے اس انٹریو کو پوری دنیا اپنے سر کے آنکھوں سےدیکھ رہی تھی ، ایک عجیب پیغام جارہا تھا جس سے بورڈ کے کاژ اور اس کے مشن پر قدغن لگانے کی کوششوں کی نظر سے دیکھا جارہا ہے خداکرے مولانا پھر اپنی راہ لوٹ آئیں اور سلامت رہیں ـ ۔
(بصیرت فیچرس)
* مضمون نگارجالے جامع مسجد کے امام وخطیب ہیں۔