غلطی کس سے نہیں ہوتی!

غلطی کس سے نہیں ہوتی!

محب اللہ قاسمی
مجھے نہیں لگتا کہ کوئی محترم مولانا سلمان صاحب کی صلاحیت، قابلیت اور بے باکی سے اختلاف کرتے ہوئے انھیں عام درجہ کا عالم سمجھتا ہوگا مگر معاملہ جب کہیں سے کہیں پہنچ جائے اور اس کا منظر اور پس منظر کچھ اور ہو جائے تو اس پر اختلاف اور تنقید کا حق ہونا چاہیے اور حمایتی حضرات کو یہ قبول کرنا چاہیے اور مولانا محترم سے اپنے موقف اور رویے پر نظر ثانی کے لیے کہنا چاہیے.

ورنہ مولانا محترم کے اصرار، اس پر جذباتی اور غیر دانشمندانہ رد عمل سے امت مزید انتشار کا شکار ہوگی اور اس دفعہ نقصان غیر معمولی ہوگا.

10 فروری کو سارا دن چینل پر وہ میڈیا جو علماء کی بے عزتی کو اپنا فرض منصبی سمجھتا رہا اس نے مولانا سلمان صاحب کو لے کر جو ڈراما کیا ہے اور ان کی قصیدہ خوانی کی اور مولانا نے جس انداز سے اپنا موقف رکھا اور دوسروں کو رسوا کیا وہ انتہائی تکلیف دہ اور افسوس ناک رہا.

ان ہی سب باتوں نے تو معاملہ اور خراب کیا ہے ورنہ غلطی کس سے نہیں ہوتی مگر ہوش میں آتے ہی انسان اپنی غلطی پر نظر ثانی کر لے وہی کامیاب ہے. مولانا بہت دور جا رہے ہیں پھر بھی واپسی ممکن ہے.
اللہ تعالٰی خیر کا معاملہ فرمائے. آمین یا رب العالمین
بصیرت فیچرس