ایک گذارش امت مسلمہ سے!

ایک گذارش امت مسلمہ سے!

—- نظرعالم

آپ تمام امت مسلمہ سے مودبانہ اپیل کرتا ہوں کہ ابھی جو پوری دنیا میں مسلمانوں اور مذہب اسلام کے ساتھ سازش رچی جا رہی ہے اسے دیکھتے ہوئے نہایت ہی سنجیدگی کے ساتھ اپنی امت کی بقا کے لیے اتحاد کا مظاہرہ پیش کریں۔ ابھی کچھ دنوں سے تین طلاق قانون کو لیکر مسلمانوں کو پریشان کیا ہی جارہا ہے اور اچانک سے بڑی سازش کے ساتھ بابری مسجد معاملے کو حکومت نے اچھال دیا ہے۔ میرا خود کا تجربہ یہ ہے کہ اگر آپ دو بھائی ہیں اور لوکل تھانے میں کسی معاملے کو لیکر جائیں تو پولیس والا سب سے پہلا کام کرے گا کہ آپ دونوں بھائیوں کو الگ کرے گا اور اس کے بعد دونوں بھائیوں کو لڑواکر اپنی کمائی کرنا شروع کردے گا مزہ بھی وہی لے گا آپ کی بربادی کا۔ ٹھیک ابھی بھاجپا اور آر ایس ایس والوں نے یہی کام شروع کردیا ہے۔ روز روز شرپسند ہندو تنظیموں اور نیتاوں سے مسلمانوں کے خلاف زہرافشانی کرایا جاتا ہے اور ساتھ ہی ہندو مسلمان کا مدعا بناکر مسلمانوں کو اس میں الجھا دیا جاتا ہے تاکہ مسلمان اپنے اصل مقصد سے بھٹک جائے۔، اپنی امت کے مسائل اور ترقی کے مدعے بھول جائے، مسلمانوں کے بچے اعلی تعلیم حاصل نہیں کرسکیں۔ اس لئے ہمیں دانشمندی اور حکمت عملی اپنانے کی بیحد ضرورت آن پڑی ہے۔
میرے بھائیوں، بزرگوں اور دوستوں! آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور جمیعتہ علما ہند کی طاقت اور اتحاد کا اندازہ بخوبی حکومت کو ہے اس لئے اس نے اسے کمزور کرنے، ہمارے اندر کے اتحاد کو بکھیرنے کے لئے بابری مسجد معاملے میں مولانا سلمان ندوی صاحب کا غلط استعمال کیا اور مولانا موصوف استعمال ہو بھی گئے جبکہ مولانا موصوف ایک باوقار شخصیت اور بزرگ عالم دین ہیں ان کے خلاف کچھ بولنا بھی حماقت ہوگی۔ مسلمانوں کے ساتھ بھاجپا واقعی میں روہنگیائی مسلمانوں والا کام کرنے کی سازش رچ رہی ہے جس کی تیاری بھی بھاجپا والے نے شروع کردی ہے جس کی مثال موہن بھاگوت کے اس بیان سے لگایا جاسکتا ہے کہ “اس ملک کی سینا (فوج) کو جنگ کی تیاری کے لیے 6 مہینے لگیں گے اور آر ایس ایس والے صرف تین دن میں جنگ لڑنے کی تیاری میں ہیں۔” اس لئے ہمیں سمجھنا ہوگا کہ ہم کس حالات سے گزر رہے ہیں اور ہماری تیاری اور طاقت کیا ہے۔ میں بس اتنا ہی کہوں گا کہ ہمیں نہیں پڑنا دیوبندی، وہابی، ندوی، بریلوی اور دیگر معاملے میں۔ ہم نے جس طرح سے مسلم پرسنل لا بورڈ، جمیعتہ علما ہند اور بابری مسجد ایکشن کمیٹی کو بلا تفریق حمایت دی ہے دیتے رہے ہیں اسے برقرار رکھیں۔ اور تین طلاق قانون واپس لینے، بابری مسجد وہیں بنانے کی جو لڑائی آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور جمیعتہ علما ہند و دیگر مسلم تنظیمیں مل کر لڑ رہی ہیں اسے مضبوطی کے ساتھ حمایت دیتے رہیں۔ یقینا اللہ بہتر کرنے والا ہے۔ دشمنان اسلام کے ذریعے جو تین طلاق اور بابری مسجد معاملے میں مسلم پرسنل لا بورڈ اور جمیعتہ علما ہند کو بکیھرنے کی سازش رچی جارہی ہے اسے کسی بھی حالت میں کامیاب نہیں ہونے دیں۔ اتحاد بنائے رکھیں۔ اگر ہم بکھرے تو پوری امت کا شیرازہ بکھر جائے گا۔ یاد رکھئے! ہمارا اتحاد ہی ہماری کامیابی کا ضامن ہے۔
مجبور نہیں- مضبوط بنو

قومی صدر *
آل انڈیا مسلم بیداری کارواں۔