تازه ترين

حضرت مولانا سلمان حسینی ندوی اور پرسنل لا بورڈ کا اہم فیصلہ

حضرت مولانا سلمان حسینی ندوی اور پرسنل لا بورڈ کا اہم فیصلہ

ایک جذباتی پوسٹ پر سنجیدہ تبصرہ

ایک حقیقت پسندانہ تجزیہ
غلام مصطفٰی قاسمی عدیل
ایسوسی ایٹ ایڈیٹر بصیرت آن لائن
جب کسی قوم کی ناؤ سمندری طوفان کی زد میں آ گئ ہو اور مخالفین سمندری لہر کے مزید سے مزید تر ہونے کی ترکیبیں کر رہے ہوں تو کیا مناسب ہے کہ بھنور میں پھنسی کشتی کے سوار ایک دوسرے کو لعن طعن کرے؟ اک ادنی انسان جو تھوڑی سی بھی سمجھ بوجھ رکھتا ہو وہ ہرگز اسے درست نہیں کہے گا لیکن کہتے ہیں نا کہ جب کسی کمیونٹی کی شامت آتی ہے تو وہ انجام سے بے خبر ہو کر لغویات میں مشغول مگن ہو جاتی ہے، اسے اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ دشمن کونسی چال چل رہا ہے آج بدقسمتی سے ہم مسلمان ہی اس خطرناک بھونڈر میں پھنسے ہوئے ہیں لیکن اس کا رونا کون روئے! امت مسلمہ کا ایک بڑا طبقہ تو اپنی رنگین دنیا میں مست ہے جنہیں تو “ہم اور ہمارے بچے” ہی پیارا ہے نہ دین و شریعت کے تحفظ سے لگاؤ ہے اور نہ زوال سے قلق! دوسرا طبقہ جو تھوڑی بہت معلومات رکھتا ہے اتنا “بھولا” ہے کہ وہ اس اہم پہلو کو ہی بھول گیا کہ ہر زمانے میں دشمن نے اپنی روش چینج کی ہے پوری اسلامی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے لیکن پھر بھی بھولے پن کی سوجھی ہے خیر آمدم برسرِ مطلب ملک عزیز ہندوستان میں جب سے برہمنوں کی حکومت آئی ہے اس نے نیا ایجنڈا اور پلان بنایا کہ عوام کو اپنے ہی مسائل میں اس طرح الجھا دو کہ حکومتی کاموں پر ان کی نظر جا ہی نہ سکے خاص طور پر مسلمانوں کو ٹارگٹ کیا جو ان کے راستے میں روڑے اٹکا سکتے تھے لیکن کیا کہا جائے بھولے مسلمانوں کی نادانی کو ہم سمجھ دار قوم ہونے کے باوجود مسلسل ناسمجھی کا ثبوت پیش کرتے جا رہے ہیں اور دشمن اپنی سازشوں میں کامیاب ہوتا چلا جا رہا ہے! ابھی حال ہی میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کے نہایت مؤقر و مدبر ممبر مولانا سید سلمان حسنی ندوی (اللہ ان کا سایہء عاطفت دراز کرے) کو بورڈ سے علاحدہ ہونا پڑا، یہ واقعہ رونما کیا ہوا ایک بار پھر ہماری صفوں میں بھونچال آ گیا اور کسی زاویے سے نہیں لگتا کہ یہ جنگ ایک دو دن میں رک جائے گی، چونکہ حیدرآباد میں ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگ مختلف سوالات کر رہے ہیں کہ آخر کیا کچھ ہوا عاملہ کی میٹنگ میں؟ اب ہر سوال کا جواب دینا مناسب بھی نہیں سمجھتا اور نہ اتنا وقت ہے، بس چند اہم سوالات کے جوابات لکھ دیتا ہوں۔
عاملہ کی میٹنگ میں ہلڑ بازی ،شور شرابہ کیوں ہوا؟
عاملہ کی میٹنگ میں سرے سے ایسا کوئی شور شرابہ ہوا ہی نہیں بلکہ عاملہ کی میٹنگ میں انتہائی متانت و سنجیدگی کے ساتھ ارباب فکر و نظر نے جتنی بار مولانا سلمان ندوی صاحب سے اپنا موقف رکھنے کو کہا، ہر بار حضرت نے جذباتی تقریر اور پرزور لہجے میں خطاب شروع کردیا، نہ بڑوں کا کوئی پاس و لحاظ فرمایا اور نہ ہی کسی کی سننے کو تیار ہو رہے تھے، جبکہ صدربورڈاورخودحضرت مولاناسلمان حسینی ندوی کے مربی وسرپرست حضرت مولاناسید محمدرابع حسنی ندوی صاحب بھی وہاں موجود تھے، میٹنگ میں بار بار سنجیدگی کا مطالبہ ہوتا رہا اور حضرت اس کے برعکس پرجوش جذباتی تقریر کرتے رہے!
میں بذات خود مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کے یہاں گیا تو انھوں نے کہا کہ ’’عاملہ کی میٹنگ میں کوئی شور شرابہ ہوا ہی نہیں؛ بلکہ عاملہ نے انتہائی ادب کے ساتھ کہا کہ حضرت آپ کی خدمات مسلم پرسنل لا اور ملت اسلامیہ کے لئے قابل قدر ہیں، آپ کی ذات ہمارے لئے اک نعمتِ عُظمی ہے، آپ کو اگر اپنا موقف درست نظر آ رہا ہے تو خدارا ملت کے لیے آپ اپنے اس موقف کو قربان کر دیں! تب بھی حضرت نے جذبات میں آ کر کچھ سے کچھ بولنا شروع کر دیا، جب میٹنگ میں آواز گونجنے لگی اور کسی کی بات کو سننا ہی گوارا نہیں فرمایا۔ہاں یہ بات ضرور ہے کہ حضرت مولاناسلمان ندوی صاحب کی تقریرکے ردعمل میں رکن عاملہ کمال فاروقی اور قاسم رسول الیاس کی بھی آوازتیزہوگئی لیکن دیگرموقراراکین عاملہ نے اس بات کی سختی سے تردیدکی ہے کہ مولاناسلمان صاحب کے ساتھ کسی قسم کی بدتمیزی ہوئی یاعاملہ کی میٹنگ میں شورشرابہ اورہلڑبازی ہوئی ہے، لیکن حضرت مولانا سلمان ندوی صاحب نے ان باتوں کواپنی شان میں گستاخی سمجھ لیااور باہر آ کر اسے کچھ اور ہی انداز میں پیش کیا، جس کا نتیجہ ہمارے اور آپ کے سامنے ہے۔
قارئین!اب آپ ہی بتائیں کیا اسے ’’شور شرابہ‘‘ کہیں گے؟؟ اس تلقین کو ’’ہلڑ بازی‘‘ سے تعبیر کرنا کہاں تک درست ہے؟…سنجیدگی کی بجائے حضرت مولانا رابع صاحب وغیرہ کی موجودگی میں منت و سماجت کے باوجود آپ اپنی تقریرجاری ہی رکھیں گے تو کیا آپ کو کوئی خاموش رہنے کی تلقین بھی نہیں کر سکتا؟
حضرت مولانا سلمان ندوی صاحب کے منسلکین کا بطور شہادت ویڈیو کا مطالبہ:
اطلاعا عرض کر دوں کہ عاملہ کی میٹنگ میں چونکہ مختلف مسائل پر کئی کئی دلائل کے ذریعے بحث و مباحثہ ہوتا ہے اس لیے نہ وہاں کسی کیمرا مین کو انٹری مارنے کی اجازت ہے اور میں سمجھتا ہوں نہ اس کی ضرورت ہے، بورڈ کا موقف :لا يکلف الله نفسا إلا وسعھا! دوسری بات یہ کہ بورڈ کا ماننا تھا کہ اب جبکہ بابری مسجد کا فیصلہ بالکل آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے اور مسلمانوں کی تمام تنظیم نے عدالت کے فیصلے کو تسلیم کرنے سے اتفاق کر لیا ہے تو ایسے حالات میں واپسی اور وہ بھی صرف ایک فرد کی یہ عقلمندی نہیں! اللہ نہ کرے اگر بالفرض فیصلہ ہمارے خلاف بھی آتا ہے تو اللہ ہماری پکڑ نہ فرمائے گا کیونکہ جہاں تک ممکن ہو سکا ہم نے کیا!
حضرت مولاناسلمان ندوی صاحب کواپنا موقف رکھنے کا بھر پور موقع دیا گیا:
اس وقت بورڈ کے ممبران نے مولانا ندوی صاحب کو دلائل کی روشنی میں اپنا موقف رکھنے کا بھر پور موقع دیا اور کہا کہ اگر آپ کے پاس دلائل ہوں تو پیش فرمائیں تاکہ اس پر بحث کی جائے، لیکن مولانا ندوی اپنی ایک ہی بات پر جمے رہے!
حضرت مولانا سلمان ندوی صاحب کی رکنیت کیوں منسوخ کی گئی؟
پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ سوال ہی غلط ہے، دراصل جب مولانا ندوی اپنے دعوے پر دلیل نہ دے سکے تو بورڈ نے (اپنا سابقہ فیصلہ کہ سپریم کورٹ کا جو فیصلہ ہوگا ہمیں قبول ہوگا) برقرار رکھا ۔بورڈ نے ازخودمولاناکوبورڈ سے باہرکاراستہ نہیں دکھایابلکہ جب مولانانے انڈیاٹی وی کوانٹرویودیتے ہوئے بورڈ سے اپنی علاحدگی کااعلان کیاتب جاکربورڈ نے ان کی اس علاحدگی کوقبول کرتے ہوئے ان کی رکنیت کی منسوخی کااعلان کیا۔حالاں کہ جس وقت ان کی رکنیت کی منسوخی کااعلان کیاجارہاتھااس وقت کئی معززاراکین نے بورڈ سے مطالبہ کیاکہ مولاناکی رکنیت کی منسوخی کااعلان اتنے ہلکے میں نہ کیاجائے بلکہ سخت اندازمیں اخراج کالفظ استعمال کیاجائے اورساتھ ہی ان کے اس عمل کی سختی کے ساتھ مذمت بھی کی جائے ،لیکن بورڈ کے ذمہ داروں نے اراکین کی اس بات سے اتفاق نہیں کیا۔
کیا بورڈ نے عجلت پسندی کا مظاہرہ کیا؟
جی نہیں آپ نے ابھی پڑھ ہی لیا کہ حقیقت میں عجلت حضرت مولاناسلمان صاحب کی طرف سے ہوئی ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ بورڈ نے نہایت احتیاط سے کام لیا ہےبایں طور کہ اخراج میں بورڈ نے اقدام نہیں کیا بلکہ سلمان ندوی صاحب نے ہی اپنی علاحدگی کااعلان کیا، اب آپ ہی فیصلہ کریں کہ عجلت کن کی طرف سے ہوئی آیا بورڈ کی طرف سے یا مولاناسلمان ندوی صاحب کی جانب سے؟
چار رکنی کمیٹی کی تشکیل اور رکنیت کی منسوخی :
حضرت مولاناسلمان ندوی صاحب کے موقف کاجائزہ لینے اوربابری مسجد کی حوالگی کے مسئلہ پرپر بورڈ نے غور و خوض کے لئے چار رکنی کمیٹی تشکیل دی تاکہ کسی طرح حضرت مولانا سلمان ندوی صاحب کو راضی کرنے کی کوئی سبیل نکالی جائے، اسی اثنا میں جبکہ کمیٹی کسی نتیجے پر پہنچی بھی نہیں تھی کہ مولانا نے پریس کانفرنس بلا لیا اور وہ ایسی سطحی باتیں کہی جنکی کم از کم ان کی مدبرانہ قیادت سے امید نہیں تھی پھر یہ کہ معطل کئے جانے سے پہلے ہی میڈیا میں واویلا مچانا شروع کر دیا، کہ مجھے نکال دیا گیا، اسی وقت بورڈ کی اعلی قیادت کو معلوم ہوا کہ مولانا سلمان ندوی صاحب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بورڈ کے فیصلہ سے قبل ہی اپنی علاحدگی کا اعلان فرما دیا ہے تب جا کر ان کے اس اقدام کے بعد ہی بورڈ نے متفقہ فیصلہ لیا کہ’’اب چونکہ اقدام ان کی طرف سے ہے اور ایسا اقدام جو بالکل نامناسب اور واپسی غیر یقینی ہے اس لیے اب ان کی رکنیت منسوخ کر دی جائے‘‘، اب ظاہر ہے جنہوں نے خود اپنے پیر نہیں! بلکہ اپنی گردن پر کلہاڑی مار لی ہو تو اس میں کس کا قصور ہے؟ آیا بورڈ کا یاحضرت مولاناسلمان ندوی صاحب کا؟
حضرت مولاناسیدارشدمدنی صاحب کی وضاحت:
حضرت مولاناسلمان ندوی صاحب مدظلہ کے معاملہ کوسوشل میڈیاپرطول پکڑتادیکھ کرہمارے بصیرت میڈیاگروپ کے چیئرمین مولاناغفران ساجدقاسمی نے جمعیۃ علمائے ہندکے صدراورآل انڈیامسلم پرسنل لاءبورڈ کے رکن عاملہ سے گفتگوکی جس کاجواب دیتے ہوئے حضرت مولاناسیدارشدمدنی صاحب نے فرمایاکہ عاملہ کی میٹنگ کے بعدمولاناسلمان ندوی صاحب کے اہل خاندان نے مجھ سے مطالبہ کیاکہ آپ اس معاملہ میں پڑیں اورکسی طرح بھی مولاناسلمان ندوی صاحب کوواپس لائیں لیکن جب تک کہ ہم لوگ اس بات کی کوشش کرتے مولاناسلمان ندوی صاحب ٹی وی والوں کے ہتھے چڑھ گئے اورپھرانہوں نے ایسی بیان بازی کی کہ سارامعاملہ ہی الٹاہوگیا۔مولاناارشدمدنی صاحب نے بڑے ہی واضح اندازمیں فرمایاکہ ابھی بھی وقت ہے کہ وہ حضرت مولاناسیدمحمدرابع حسنی ندوی صاحب مدظلہ کے پاس جائیں ،اپنی غلطی پرندامت کااظہارکریں اوراپنے موقف سے دستبرداری کااعلان کریں تومیں وعدہ کرتاہوں کہ میں انہیں بورڈ میں واپس لاؤں گا۔مولاناندوی کابورڈ سے بڑاقدیم رشتہ ہے،وہ ہمیشہ بورڈ کے ایک اہم رکن کی حیثیت سے کام کرتے رہے ہیں،ان کاالگ ہونایقیناہم سبھوں کے لئے تکلیف دہ ہے۔مولانامدنی نے عاملہ کی میٹنگ میں بدتمیزی اورہلڑبازی کی سخت اندازمیں تردیدکی اورکہاکہ عاملہ کی میٹنگ میں ایساکچھ نہیں ہوابلکہ مولاناندوی کی طویل تقریرپرانہیں روکاگیا۔بورڈ کے کسی فردنے ان سے بدتمیزی نہیں کی اورنہ ہی عاملہ کی میٹنگ میں کسی قسم کاشورشرابہ ہوااورنہ ہی کوئی ہلڑبازی ہوئی۔
مذکورہ بالاوضاحتوں سے ہمیں غورکرناچاہئے کہ بورڈ کے اندرجتنامعاملہ نہیں ہواسوشل میڈیاکے کھلاڑیوں نے اس سے کہیں زیادہ بڑھاچڑھاکرپیش کردیاجس کی وجہ سے معاملہ سنگین سے سنگین ترہوتاچلاگیا۔اب بھی وقت ہے کہ ہم سوشل میڈیاکے افواہوں پرکان نہ دھڑیں اوراپنے اکابرکی عزت وتکریم باقی رکھتے ہوئے کسی مسئلہ پراظہارخیال کریں۔آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ ہندوستانی مسلمانوں کامتفقہ ومتحدہ پلیٹ فارم ہے ،اس کی دانشمندانہ قیادت اورمدبرانہ رہنمائی ہمارے لئے کامیابی کاضامن ہے اورحضرت مولاناسلمان حسینی ندوی مدظلہ العالی ہم سبھوں کے لئے قابل صدافتخاراورلائق صدتعظیم وتکریم ہیں۔اللہ ان سبھوں کاسایہ عاطفت درازفرمائے۔آمین
(بصیرت فیچرس)