تازه ترين

نفس کی کشمکش

نفس کی کشمکش

مفتی محمدعبداللہ قاسمی
ہندوستان صدیوں سے گنگاجمی تہذیب کاگہوارہ رہاہے،مذاہب کی رنگارنگی اورعقائدونظریات کاتنوع اس ملک کی خاص پہچان ہے،یہاں سالہاسال سے ہندو،مسلم،سکھ اورعیسائی مل جل کررہے ہیں،اورانہوں نے باہمی اتفاق وتعاون کی فضاکویقینی بنایاہے،ادھرچندسالوں سے ہندوستان کے تختۂ اقتدارپرایسی فرقہ پرست جماعتیں قابض ہیںجن کی خمیرمیں اسلام دشمنی داخل ہے،انہیں اسلام اورمسلمانوں سے بلادرجہ کابیرہے،یہ فرقہ پرست طاقتیںایک طرف مسلمانوں کومعاشی اورسیاسی لحاظ سے مفلوج اورناکارہ بنانے کے لئے منظم اورمربوط کوششیںکررہی ہیں،تودوسری طرف شریعت اسلامی کے بعض احکام میںترمیم وتنسیخ کرنے اورآئینی ودستوری لحاظ سے اس کوغیرقانونی قراردینے کے لئے ایڑی چوٹی کازورلگارہی ہیں،اوریہ بات بڑی خوش آئنداورامیدافزاہے کہ مسلمانوں میں شعوراوربیداری آرہی ہے،اورحکومت کواس کے مذموم اورناپاک ارادے سے بازرکھنے کے لئے مسلمانان ہنداجتماعی کوششیں کررہے ہیں۔
شریعت اسلامیہ میں مداخلت اوراس کے بعض احکام کوغیرآئینی وغیردستوری قراردینے کی جوکوششیں فرقہ پرست طاقتیں کررہی ہیںان کوخارجی اوربیرونی رکاوٹ کہاجاسکتاہے جس سے مسلمانان ہنددوچارہیں،اوراس کوشش اورجدوجہدکااثرصرف شریعت کے بعض احکام پرپڑتاہے،لیکن مسلمانوں کاایک دوسراضدی دشمن ہے،جومسلمانوں کوشریعت اسلامیہ کے تقریباسارے ہی احکام پرعمل کرنے میں سدراہ ثابت ہورہاہے،اوروہ مسلمانوںکوصراط مستقیم سے ہٹاکرضلالت وگمراہی کی راہ پرڈالنے کے لئے ایڑی چوٹی کازورلگارہاہے،اسے مسلمان کی دینداری اورشریعت سے وابستگی ایک آنکھ نہیں بھاتی،اسے مردمومن کی سلامت روی اورخوش خلقی سے خداواسطے کابیرہے،دین بیزاری اورخدافراموشی اس کے لئے باعث طمانینت وسکون ہے،مادیت پرستی اورعیش کوشی اس کی آرزئوں کامقصوداورمطمح نظرہے،یہ دشمن منشأ ربانی سے بغاوت پرآمادہ کرنے والا،مرضیات الہی کے خلاف جری اوردلیربنانے والا،شریعت کے احکام وہدایات کی پامالی پرابھارنے والااورفواحش ومنکرات کی طرف لے جانے والاہے،یہ انسان کاہمیشہ سے ساتھ رہنے والااورتادم حیات اس سے جدانہ ہونے والادشمن ہے،یہ وہ ہٹ دھرم دشمن ہے جوہمیشہ اپنے مشن میں مشغول اورمصروف رہتاہے،اپنے ایجنڈے اورمقاصدکوروبہ عمل لانے کے لئے ہمیشہ سرگرم رہتاہے،یہ کبھی شکست اورہارنہیں مانتا،اس کے پائے استقلال میں کبھی لغزش نہیں آتی،اس کااسپ ِہمت ہمیشہ تازہ دم اورجواں رہتاہے،انسان کے جسم پرگرچہ صبحِ پیری کے آثارنمودارہونے لگتے ہیں،اوراس پرضعف ونقاہت کی علامات نمایاں ہونے لگتی ہیں،لیکن اس دشمن کی عمرجوں جوں ڈھلتی ہے،اس کی طاقت وقوت کاآفتاب اپنی تمام حشرسامانیوں کے ساتھ جلوہ افروزہونے لگتاہے،وقت گزرنے کے ساتھ اس کی شدت وحدت میںمزیدپختگی آتی رہتی ہے،یہ وہ قوی دشمن ہے جوکبھی رشوت کوقبول نہیں کرتا،پرکشش ترغیبات اس کے ہاتھ کی ہتھکڑی اورپائوں کی زنجیرثابت نہیں ہوسکتی،یہ کبھی اپنے مقابل سے مصالحت اورمفاہمت پرتیارنہیں ہوتا،ہمارایہ دشمن نفس ِامارہ ہے۔
اولیاء اللہ اوربزرگان ِدین نے نفس امارہ کوایک عجیب مثال سے سمجھایاہے،وہ فرماتے ہیںکہ ایک مرتبہ مجنون کے دل میںدیدِلیلی کی خواہش نے انگڑائی لی،چناں چہ وہ ایک اونٹنی …جس کاایک شیرخواربچہ تھا… پرسوارہوکرمحبوبہ سے ملاقات کرنے چل پڑا،راہِ الفت کایہ مسافرکچھ ہی دیرمیں نیندکی آغوش میں چلاگیا،اوراونٹنی کی وہ مہارجسے وہ شوق کے ہاتھوں تھاماہواتھااس پراس کی بتدریج گرفت ڈھیلی پڑتی گئی،اونٹنی کوجب اپنے سوارکی غفلت کااحساس ہواتو…وہ اپنا محبوب اورلاڈلابچہ جس کے فراق میںاس کی روح مضطرب اوربے چین تھی،اوراس کادل حسرت وافسوس کی آماجگاہ بناہواتھا…اس کے دل میں شوقِ ملاقات کی چنگاری بھڑک اٹھی،اوروہ شوق کے پیروں سے تیزگامی کے ساتھ واپس ہونے لگی،اوراپنے بچے کے پاس پہونچ گئی،اس وقت گیسوئے لیلی کی محبت میں گرفتاراوراس کے عارضِ تاباں اورچشم ِمخمورکاوالہ وشیداکی آنکھ کھلتی ہے،تواسے احساس ہوتاہے کہ وہ جہاں سے رختِ سفرباندھاتھاوہ دوبارہ وہیں پہونچ گیاہے،آخریہ بھی راہِ الفت کامسافرہوتاہے،اس کے دل میں بھی وصالِ محبوب کی انگھیٹی سلگ رہی ہوتی ہے ؛چناں چہ یہ دوبارہ سفرکرتاہے،لیکن دوسری باربھی صورتِ حال پہلے سے مختلف نہیں ہوتی ہے،ٹھیک اسی طریقے سے نفس دنیاوی لذتوں کاحریص ہے،اس کے کام ودہن کواس گلستاں نماجہاں آبادکی عارضی اورفانی نعمتوںکامزہ لگ چکاہے،لہذاانسان جب تک نفس کی مہارپراپنی مضبوط گرفت نہیں رکھے گا،اوراس کومجاہدوں اورریاضتوں کاعادی نہیںبنائے گاوہ ملذات ِدنیااورمعاصی کی طرف ہی بھاگے گا،اورایک مسلمان کی اخروی زندگی کوتباہ وبربادکرے گا۔
اپنے نفس کوقابومیںکرنے اوراس کارخ طاعات وحسنات کی طرف پھیرنے کے لئے چندامورمعاون ومددگارہوتے ہیں،جب انسان پابندی کے ساتھ درجِ ذیل اعمال کرے گاتوان شاء اللہ وہ اپنے سرکش اورآشفتہ سردشمن پرقابوپالے گا،اوریہ اس کے لئے دنیا وآخرت میں فلاح وکامیابی کاضامن ہوگا۔
مضبوط قوت ِ ارادی:اپنے نفس پرقابوپانے کے لئے مضبوط قوتِ ارادی کاہوناازحدضروری ہے،انسان اس بات کاپختہ عہدکرلے کہ وہ اللہ کی مرضیات پرعمل کرے گا،اورشریعت کے مطابق زندگی بسرکرے گا،خواہ اس کے دل پرآرے ہی کیوں نہ چلیں،اس کی تمنائوں اورآرزئوں کاہرابھرانخلستاں ویران ہی کیوں نہ ہو،جب انسان اس بات کاعزمِ صادق کرلے گاتوپھران شاء اللہ توفیقِ خداوندی اس کے شاملِ حال رہے گی،اوراس کے لئے اعمال ِ صالحہ پرمداومت بھی آسان اورسہل ہوجائے گا۔
پنج وقتہ نمازوں کااہتمام:دوسری چیزجس کاایک مسلمان کاخیال رکھناضروری ہے وہ یہ ہے کہ پنج وقتہ نمازباجماعت اداکرنے کاخاص اہتمام کرے،اورکسی حال میںاس عظیم الشان فریضہ کی ادائیگی میںسستی اورسہل انگاری نہ برتے؛کیوں کہ نمازکی خاصیت یہ ہے کہ وہ انسا ن کوبے حیائی اوربرے کاموں سے روکتی ہے،گناہوںاورمعصیات کی راہ میں وہ سدِ راہ ثابت ہوتی ہے،انسان کے دل میںخیروبھلائی کاخوابیدہ جذبہ بیدارکرتی ہے،اورطاعت وقبول کی شمع انسان میں فروزاں کرتی ہے،یہ جلیل القدرعبادت جب کسی انسان کی زندگی کااٹوٹ حصہ بن جاتی ہے توپھرپوری زندگی مربوط اورمنظم ہوجاتی ہے،اورسارانظامِ حیات اسلامی رنگ میں ڈھل جاتاہے،غالبااسی وجہ سے حضرت عمرفاروقؓنے اپنے عمال کونصیحت کرتے ہوئے فرمایاتھا:إن أہم أمورکم عندی الصلاۃ فمن ضیعہا فہو لماسواہا أضیع (طحاوی ، حدیث نمبر:۱۱۵۲) میرے نزدیک تمہاراسب سے اہم اورنازک مسئلہ نمازہے،جوشخص اس کی ادائیگی میںغفلت اورسستی برتے گاوہ دیگرامورمیںبھی غفلت اورسستی کامظاہرہ کرے گا۔
اپنی ذات کاجائزہ:تیسری چیزجونفس کوقابومیںرکھنے اوراس کورام کرنے کے لئے ضروری ہے کہ انسان اپنی خلقت ،زندگی اورموت کی بعدکی حالت پرغورکرے،انسان کس قدرحقیرہے!پانی کے ایک ناپاک قطرے سے پیداہواہے،جس کے خارج ہونے پرانسان کاساراجسم ناپاک ہوجاتاہے،جسم کے کسی حصہ پروہ لگ جائے تووہ نجس ہوجاتاہے،کپڑے کاکوئی حصہ اس کی زدمیں آجائے تووہ ملوث ہوجاتاہے،اورجب تک انسان طہارتِ شرعی حاصل نہیں کرتااس پرنمازاورتلاوتِ قرآن شرعاناجائزاورحرام ہوتاہے،پھرجب اللہ تعالی اس ناپاک اورحقیرقطرے کواپنی قدرتِ کاملہ سے مختلف مراحل سے گزارتے ہیں،اوررحمِ مادرمیںاس کی نشوونمااوراس کی افزائش خون سے ہوتی ہے جوسراسرناپاک اورگندہ ہے،نومہینے مان کے پیٹ میں رہنے کے بعدجب انسان اس کائناتِ رنگ وبومیںقدم رکھتاہے تواس کی شخصیت اوراس کے پورے وجودپرغورکیجیے،اوپرسے لے کرنیچے تک گوشت اورہڈیوں کے درمیان خون ہی خون ہے،جس پراللہ جل شانہ نے دیدہ زیب کھال کالفافہ اوڑھادیاہے،بال اورناخن کوچھوڑکرجسم کے کسی حصہ پرخراش لگ جائے تووہاں سے خون ابل پڑتاہے،اورناپاک وسیال مادہ باہرآجاتاہے،دوسرے انسان ہمہ وقت اپنے پیٹ میںغلاظت کی ایک خاص مقدارلئے پھرتاہے،اگروہ نہ ہوتوانسان کی کمرسیدھی نہ ہوپائے،یہ توانسان کی زندگی کاحال ہے،اورمرنے کے بعدہرکوئی جانتاہے کہ اس کی ہڈیاں سڑگل جاتی ہیں،کیڑے مکوڑے جنہیں انسان حقیرسمجھ کراپنے پیروں تلے رونددیاکرتاتھاوہ اس کوکھاتے ہیں،کچھ عرصے کے بعدانسان کاپوراجسم مٹی میں مل جاتاہے،اوراس کے ظاہری ڈھانچہ کاکوئی وجودباقی نہیں رہ جاتا، ایک طرف انسان کی یہ حقارت وذلت اوراس کی عاجزی وبے کسی تودوسری طرف اللہ تبارک وتعالی کی جلالت وعظمت اوراس کی بڑائی وکبریائی،شریعت میں گناہ پرشرمندہ ہونااوراس پراظہارِندامت ایک محموداورمستحسن چیزہے،اللہ کی رضاوخوش نودی کاذریعہ اورسبب ہے،لیکن بعض بزرگانِ دین کے بقول دل میںگناہ کاتصوربھی ایک ایساامرہے جس پرانسان کوشرمندگی اورخجالت کااظہارکرناچاہیے،جیسے آپ کے بارے میںآپ کے کسی عزیزکویہ غلط اطلاع پہونچ جائے کہ آپ نے ان کوبرابھلاکہاہے،اورآپ ان سے نالاں ہیں،وہ عزیزآپ کے پاس آتے ہیں اوراس بارے میںدریافت کرتے ہیں،توآپ کالہجہ یوں ہوتاہے:آپ کوغلط اطلاع پہونچی ہے،آپ کے بارے میںایسی بات کہناتودورکی بات ہے خواب وخیال میں بھی اس کاتصورمشکل اورمحال ہے،توجب انسان کاایک انسان کے ساتھ یہ رویہ اورسلوک ہے تواللہ کے ساتھ …جوکہ اس کاخالق ومالک ہے،اوراس کاپروردگاروپالنہارہے…کیسارویہ ہوناچاہیے؟
جب انسان ان امورپرعمل کویقینی بنائے گاتوپھراس کے نفس کی تطہیرہوگی،اوراس کے اخلاق وکردارمیں پاکیزگی آئے گی،اورنفس کی تطہیراوراس کاتزکیہ جب تک نہ ہواس وقت تک انسان نہ عملِ صالح کرسکتاہے،اگرخارجی وبیرونی دبائوکی وجہ سے عمل ِصالح کربھی لے تووہ مقبول نہیں ہوگا،اوراگرمقبول بھی ہوگیاتووہ محفوظ نہیں رہے گا؛اس لئے نفس کاتزکیہ کرناہرمسلمان کی ذمہ داری ہے۔
(بصیرت فیچرس)