تازه ترين

دریدہ دہن وسیم رضوی کے خلاف دربھنگہ عدالت میں مقدمہ درج

دریدہ دہن وسیم رضوی کے خلاف دربھنگہ عدالت میں مقدمہ درج

قانونی کاروائی ہونے تک قانونی جنگ لڑے گا مسلم بیداری کارواں
دربھنگہ (پریس ریلیز )ملک کے تیس کڑور مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے بارے میں اشتعال انگیز بیان دینے والادریدہ دہن  وسیم رضوی(چیئرمین شیعہ سینٹرل بورڈ آف وقف اتر پردیش )کے خلاف ایک فلاحی تنظیم نے دربھنگہ سی جے ایم سمپت کمار کی عدالت میں مقدمہ نمبر 137/2018 درج کروایا ہے ۔ آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے قومی صدر نظر عالم ، نیاز احمد ، مقصود عالم خان ، شاہ عمادالدین سرور ، جاوید کریم ظفر وغیرہ نے مقدمہ درج کرواتے ہوئے کہا کہ جب تک رضوی کے خلاف کاروائی نہیں ہوجاتی ہے یہ لوگ قانونی لڑائی جاری رکھیں گے اوراسلام دشمن طاقتوں کے خلاف عوام کو متحد کرنے کی کوشش کریں گے ۔ فرقہ پرست تنظیم آر ایس ایس کے آلہ کارکے طور پر کام کرنے والا وسیم رضوی کے اوپر یہ مقدمہ پچھلے ۱۱؍فروری کواس کی طرف سے جاری ایک پریس بیان کی بنیاد پر کروایا گیا ہے جس میں اس نے کہا تھا کہ ’’ ہندوستان کے مسلمانوں سے متعلق اہم فیصلے پاکستان اور سعودی عرب کی دہشت گرد تنظیمیں کرتی ہیں اور مسلم پرسنل لا بورڈ ان دہشت گرد تنظیموں کی ایک شاخ ہے ۔ لہذا مسلم پرسنل لا بورڈ کو دہشت گرد تنظیم مانتے ہوئے اس پر پابندی عائد کردینا چائیے ‘‘۔ قابل ذکر ہے کہ اس اسلام مخالف شخص نے یکے بعد دیگرے مسلمانوں کے خلاف نازیبا اور بھونڈے تبصرے کرکے ملک کے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے اور ان میں اشتعال پیدا کرنے کے جرم کا مرتکب رہا ہے ۔ یہ وہی کور باطن ہے جس نے پچھلے دنوں کہا کہ تھا کہ مدارس اسلامیہ میں دہشت گردی کی تعلیم دی جاتی ہے لہذا انہیں بند کردینا چائیے اوراس کے بعد ہی راجستھان اور اتر پردیش کی بی جے پی حکومت نے مدارس کے خلاف مہم چھیڑ دیا تھا اور انہیں ہراساں کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا ۔ اس کے علاوہ اس نے مسجدوں میں اذان پکارے جانے کے خلاف بھی ہنگامہ کھڑا کیا تھا جس کے بعد اتر پردیش ہائی کورٹ نے مسجدو ںمیں بغیر اجازت کے لاؤڈاسپیکر کے استعمال پر پابندی لگا دی ہے ۔ اور اب بابری مسجد تنازعہ میں مسلم پرسنل لاء بورڈکے موقف کے خلاف زہر افشانی کرکے اس نے بورڈ اور اس سے جڑے اہل علم ، علماء اور دانشوران کو دہشت گرد کہہ دینے کی جرات کردی ہے ۔