مولانا سلمان ندوی صاحب کا نیا قدم

مولانا سلمان ندوی صاحب کا نیا قدم

مکرمی!
مولانا سلمان ندوی صاحب کا ایک نیا بورڈ قائم کرنا ملک کے موجودہ حالات کے لحاظ سے مناسب نہیں، مولانا کا جو خواب ہے وہ سراب ہے، مولانا جوش میں آکر ہوش کھو دے رہے ہیں ، کھسیانی بلی کھمبا نوچنے والی مثال ہے، مولانا کا یہ اقدام دوراندیشی نہیں بلکہ ناعاقبت اندیشی ہے، اس سے مولانا کا وقار خود مجروح ہوگا جو عالمی شہرت تھی وہ خاک میں مل جائیگی، پہلی بات مولانا نے اس سے پہلے بابری مسجد کے معاملے میں جو فارمولے اور شرائط پیش کئے تھے وہ ناممکن کے درجے میں تھے، مولانا کے لیے بہتر یہی تھا کہ خاموشی اختیار کرلیتے اسی میں عافیت اورعزت تھی، لیکن مولانانے اس کے برعکس اپنی خاموشی توڑتے ہوئے ایک نئے بورڈ کا اعلان کردیا اور علماء کو سامنے آنے پر مجبور کردیا، مولانا سلمان ندوی صاحب یہ سمجھتے ہیں کہ پورے ملک کے علماء ان کے ساتھ ہیں، یہ مولانا کی غلط فہمی ہے، اس وقت امت مسلمہ بہت نازک موڑ پر ہے، ملت اسلامیہ کی صحیح قیادت وقت کی اہم ضرورت ہے، اس وقت حکومت کی گہری نظر مسلم پرسنل لاء بورڈ پر ہے، خاص طور سے ہندوستان کی باطل اور فرقہ پرست طاقتیں مسلمانوں کے اتحاد کو توڑنے اور کمزور کرنے کی فکر میں ہیں، ابھی وقت ہے کہ مولانا نظر ثانی کرلیں! امت کو توڑنے کے بجائے جوڑنے کا کام کریں! اور ایک گزارش اکابر علماء سے بھی ہے کہ صرف ایک دوسرے کی تعریف اور اپنی صفائ نہ پیش کریں! من تراحاجی بگویم تو مرا حاجی بگو پر عمل نہ کریں! اگر مولانا سلمان ندوی صاحب کا یہ قدم غلط ہے تو کھل کر مخالفت کریں! سامنے آئیں! جہاں تک میں سمجھتا ہوں کہ مولانا کا یہ فیصلہ ایک نیا بورڈ بنانے کا صحیح نہیں ہے، مولانا کا اس میں اپنا مفاد تو ہو سکتا ہے ملت کا نہیں ۔
مفتی مشکور احمد قاسمی
امام وخطیب جامع مسجد منچریال وصدر جمعیت علمائے منچریال تلنگانہ