حوصلے نہیں ہارے ہیں

حوصلے نہیں ہارے ہیں

مودی کو کٹہرے میں کھڑا کریں گے
شکیل رشید(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز؍سرپرست ایڈیٹر بصیرت آن لائن)
’میں نے حوصلے نہیں ہارے ہیں‘!
آواز میں وہی جانی پہچانی لرزش تھی جو ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے میں نے ہمیشہ محسوس کی ہے ۔ یہ لرزش ضعیفی کی ہے ، عزم اور حوصلوں کے ٹوٹنے کی نہیں ۔ آج ۷۸ برس کی عمر میں بھی نڈر، بے خوف اور اللہ رب العزت کے سوا کسی اور سےنہ ڈرنے والی ذکیہ جعفری کی آواز میں وہی کڑک ہے جو پہلے تھی۔ عزم اور حوصلے سے پرآواز میں وہ کہتی ہیں ’میں نے حوصلے نہیں ہارے ہیں ، نہ ہی میرے ارادے ٹوٹے ہیں ، سب کچھ پہلے ہی جیسا کررہی ہوں ، گجرات کے فسادیوں ، مودی اور مجرموں کو ان شاء اللہ میں ضرور کٹہرے میں لاکر کھڑا کروں گی ۔ ‘‘
میں ’آمین ‘ کہتے ہوئے گویا ہوتا ہوں کہ اللہ کامیاب کرے ، وہ جواب میں پھر سے ’ آمین‘ کہتے ہوئے جواب دیتی ہیں ’’ اللہ تمہاری دعا قبول کرے۔‘‘
گذشتہ ۱۶؍ برسوں سے دعاؤں کا یہ سلسلہ جاری ہے ۔ اور اتنے ہی برسوں سے یہ جدوجہد بھی کہ گجرات ۲۰۰۲ء کے مسلم کش فسادات کے مجرمین سزاپائیں اور جو فسادات کے دوران مارے گئے ،لوٹے اور پھونکے گئے اور تباہ وبرباد کئے گئے ،جن کی عصمتیں لوٹی گئیں اور جن کے نوزائیدہ بچوں کو ترشولوں کی نوکوں پر اُچھالا گیا ، انہیں انصاف ملے ۔ کچھ ’مجرموں‘ کو سزائیں ملی بھی ہیں مگر یہ سزا پانے والے تو فسادیوں کی ٹولیوں کے پیادے ہیں ، بے حیثیت لوگ اور ان میں سے اکثر رہا بھی ہوگئے ہیں لہٰذا انصاف بھی ادھورا ہے اور سزائیں بھی ادھوری ہیں ۔ ذکیہ جعفری گذشتہ ۱۶ برسوں سے انصاف کے حصول کے لئے ہی لڑائی جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ یہ لڑائی اس لئے اہم ہے کہ ذکیہ جعفری کا مقابلہ کل کے گجرات کے وزیراعلیٰ اور آج کے ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی اور اس سنگھ پریوار سے ہے جس کے پنجے سارے ملک کے محکموں پر ، پولس ، انتظامیہ ، عدلیہ ومقننہ اور میڈیا پر گڑے ہوئے ہیں ۔ یعنی ایک ضعیف خاتون کی یہ جنگ ملک کے حکمرانوں سے ہے ، ظاہر ہے کہ یہ لڑائی نہ برابر کی ہے اور نہ ہی آسان ۔۔۔
وہ ۲۸؍ فروری ۲۰۰۲ء کا دن تھا جب سب کچھ شروع ہوا تھا۔
اس روز احمد آباد کی گلبرگ ہاؤسنگ سوسائٹی کو پھونک دیا گیا تھا اور وہاں پناہ گزین افراد کی ایک بڑی تعداد کو موت کی نیند سلادیا گیا تھا۔ مارے جانے والوں کی تعداد ۶۹ تھی جن میں عورتیں ، بوڑھے اور بچے بھی تھے ۔ اور ذکیہ جعفری کے شوہر ، کانگریس کے سابق ایم پی احسان جعفری بھی تھے ۔ احسان جعفری کی لاش نہیں مل سکی تھی ۔ عینی شاہدین کے مطابق انہیں دوڑا دوڑا کر مارا گیا اور ان کی لاش قطع وبرید کرکے جلادی گئی۔ ان کی ایک نشانی محفوظ تھی ، ان کے نام ’ احسان جعفری‘ کی نیم پلیٹ،باقی سب کچھ ختم ہوگیا تھا۔ اس روزگودھرا میں ’ سابرمتی ایکسپریس‘ کی بوگی نمبر ’ ایس۔ 6‘ میں آتش زدگی کا المناک واقعہ پیش آیا تھا۔ بوگی میں وہ کارسیوک سوار تھے جو ایودھیا سے ’ رام مندر کی تعمیر‘ کی تحریک کے لئے منعقدہ کارسیوا سے واپس ہورہے تھے ۔ آگ ساری بوگی میں پھیلی تھی جس میں جل کر ۵۹؍ کارسیوکوں کی موت ہوگئی تھی۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے سارا گجرات جل اٹھا تھا اور بڑے پیمانے پر مسلم کش فسادات شروع ہوگئے تھے ۔ الزام تھا کہ گودھرا میں رہنے والے مسلمانوں نے منصوبہ بند انداز میں بوگی نمبر ’ ایس ۔ 6‘ میں آگ لگائی ہے ۔
گودھرا کے مسلمانوں نے ہمیشہ اس الزام سے انکار کیا ہے ۔ کئی تفتیشی رپورٹوں میں بھی یہ بات سامنے آچکی ہے کہ باہر سے ریل کی بوگی کو جلانا ممکن نہیں تھا۔ ابھی ۲۸؍ فروری کے روز انگریزی روزنامہ ’ ٹائمز آف انڈیا‘ نے اس تعلق سے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں اس فورنسک رپورٹ کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں صاف لفظوں میں یہ کہا گیا ہے کہ باہر سے آتش گیر مادے پھینک کر بوگی کو آگ کے حوالے کرنے کی جو دلیل پیش کی جارہی ہے وہ ممکنات میں سے نہیں ہے ۔ احمد آباد کی فورنسک سائنس لیباریٹری نے یہ ثابت کیا ہے کہ بوگی کے اندر آگ لگانے سے قبل تقریباً ۶۰ لیٹر آتش گیر مادہ ڈالا گیا تھا۔ اس رپورٹ نے اس نظریے اور دلیل کی سختی کے ساتھ تردید کردی ہے کہ بوگی کو باہر سے آگ کے حوالے کیا گیا تھا۔ مذکورہ لیباریٹری کے ڈائرکٹر ڈاکٹر ایم ایس داھیا نے یہ رپورٹ گودھرا ٹرین سانحے کے مقدمے کی چارج شیٹ میں شامل کی ہے ۔
مگر گودھرا میں ’ ایس ۔6‘ بوگی جلائی گئی ، الزام مسلمانوں پر عائد کیا گیا اور سارے گجرات کو مسلمانوں کے لئے قتل گاہ بنادیا گیا ۔ کہا جاتا ہے کہ گودھرا کے المناک سانحے کے بعد بھی شاید سارا گجرات اس طرح نہ جلتا جس طرح سے جلا اور شاید ۱۲ سوسے زائد لوگ مارے نہ جاتے جیسے کہ مارے گئے ، اگر اس وقت کے گجرات کے وزیراعلیٰ نریندر مودی خود گودھرا نہ پہنچے ہوتے ۔ اب یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ گودھرا میں مودی کی تقریر اشتعال انگیز تھی اور کارسیوکوں کی ارتھیوں کو جلوس کی شکل میں احمد آباد کی گلیوں سے گزارنے کا ان کا فیصلہ بھی اشتعال انگیز تھا ، اس قدر اشتعال انگیز کہ لوگوں میں ایک فرقے کے خلاف شدید نفرت کے جذبات پیدا ہوئے ، ایسی نفرت کہ اسی روز احمد آباد سے فسادات شروع ہوئے ، گلبرگ ہاؤسنگ سوسائٹی میں قتل عام ہوا ، نروڈا گام اور نروڈا پاٹیا میں قتل عام ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے سارا گجرات فسادات کی لپیٹ میں آگیا ۔ مودی کا اس سارے معاملے میں جو کردار رہا ہے وہ شک وشبہہ سے بالاتر نہیں کہلاسکتا ۔ گودھرا کا ان کا دورہ ، ارتھیوں کا جلوس اور پھر اپنی رہائش گاہ پر پولس اور سوِل افسروں کی میٹنگ جس میں بقول ، سابق پولس افسر ، سنجیو بھٹ آئی پی ایس ’سب پر فسادیوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی بندش عائد کی گئی ۔ ‘
جس روز ’ گلبرگ ہاؤسنگ سوسائٹی‘ جلی ذکیہ جعفری وہاں نہیں تھیں ۔
سوسائٹی میں کیا ہوا تھا؟ اس سوال کا جواب اب سامنے آچکا ہے ۔ اس روز دوپہر کے وقت ۷۲ سالہ احسان جعفری نے ٹیلی فون پر اپنی پوتی عنیقہ سے بات کرتے ہوئے کہا تھا ’’ بیٹا یہاں حالات ٹھیک نہیں ہیں ، ہر طرف ہجوم ہے ۔‘‘ اور وہاں جو ہجوم تھا وہ مشتعل تھا۔ ہجوم چیخ رہا تھا ، بدلہ لو مسلمانوں کو ماردو۔‘ ذکیہ جعفری کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر احسان جعفری نے مدد کے لئے سوسے زائد فون کئے ہوں گے ۔ پولس کو ، سرکاری افسران کو ، وزیراعلیٰ کےدفتر کو ، دہلی کے واقف کاروں کو ۔ مگر کہیں سے بھی مدد نہیں آئی ۔ سوسائٹی میں خوف زدہ لوگوں کی ایک بھیڑ جمع تھی ، بچے ، بوڑھے ، عورتیں ، کمزور اور ناتواں لوگ ۔ احسان جعفری انہیں بچانے کے لئے چھٹپٹارہے تھے ۔ ایک عینی شاہد نے بعد میں عدالت میں گواہی دیتے ہوئے کہا کہ احسان جعفری نے نریندر مودی کے دفترکو بھی فون کیا تھا۔ اور جب اس شخص نے احسان جعفری سے یہ دریافت کیا کہ وہاں سے کیا جواب ملا تو انہوں نے بتایا ’’ مدد کا کوئی سوال ہی نہیں الٹے گالیاں ہی ملیں۔‘‘
تنویر جعفری ، مرحوم احسان جعفری کے صاحب زادے ہیں ۔ وہ بتاتے ہیں ’’سولہ برس بیت چکے ہیں مگر نہ ہم گلبرگ ہاؤسنگ سوسائٹی والے ۲۰۰۲ء کے قتل عام کے صدمے سے ابھر سکے ہیں اور نہ ہی نروڈا گام اور نروڈا پاٹیا کے رہنے والے اس صدمے سے باہر آسکے ہیں ، آج بھی وہ فسادی جنہوں نے دن دہاڑے پولس کی نظروں کے سامنے لوٹ پاٹ اور قتل وغارتگری کی ،آزاد گھوم رہے ہیں ، پولس نے ان کی اس وقت بھی حفاظت کی تھی اور آج بھی حفاظت کررہی ہے ، سچ تو یہ ہے کہ اس روز پولس حفاظت کے لئے پہنچی ہی نہیں تھی اور جو پولس والے پہنچے بھی تھے وہ خاموش تماشائی تھے اور یہ سرکار کے ہاتھ کے بغیر ممکن نہیں تھا، وہ سرکار جس کے وزیراعلیٰ ان دنوں نریندر مودی تھے ۔‘‘ تنویر جعفری کے لہجے میں ایک طرح کا تاسف ہے ، درد ان کی باتوں سے چھلک رہا ہے مگر وہ بغیر کسی لاگ لپیٹ کے سچ ہی بول رہے ہیں ۔ ’’ذکیہ جعفری میری والدہ آج بھی مقدمہ لڑرہی ہیں ، آج بھلے ہی گجرات فسادات کے مجرم قانون کے پنجے سے باہر ہوں مگر ایک دن انہیں سزا ملنی ہی ہے ۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ افسروں کے خلاف ایف آئی آر درج ہو۔اور ابھی تو بس چند لوگوں کو ہی سزا ملی ہے بہت سارے مجرم ابھی آزاد ہیں ،یہ ادھورا انصاف ہے اور ہم جلد ہی اس ادھورے انصاف کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے ۔‘‘
تنویر جعفری بتاتے ہیں کہ اس روز گلبرگ ہاؤسنگ سوسائٹی کے باہر بہت بھیڑ اکٹھا ہوگئی تھی۔ یہ اتفاق ہی تھا کہ تنویر جعفری احمد آباد میں نہیں تھے ۔ سوسائٹی کو گھیرے میں لینے والے وشوہندوپرید ، بجرنگ دل ، آر ایس ایس اور بی جے پی کے لوگ تھے ۔ احسان جعفری نے ان دنوں ملک کے نائب وزیراعظم ایل کے اڈوانی کے دفتر کو بھی فون کیا تھا۔۔۔ ایک عینی شاہد کا کہنا ہے کہ ہجوم نے جب احسان جعفری کو پکڑا تو انہیں پہلے ننگا کیا اور ننگی حالت میں ساری سوسائٹی میں گھمایا پھر تلواروں سے قطع وبرید کرکے جلادیا ۔ عورتیں جو تھیں بے عزت کی گئیں اور قتل کرکے ان کی لاشیں آگ میں جھونک دی گئیں ۔ تنویر جعفری بتاتے ہیں ’’آج مودی کو شام کے مسلمانوں کی مظلومیت یاد آرہی ہے ، پہلے وہ اپنےہی ملک کی گلبرگ ہاؤسنگ سوسائٹی کو یاد کریں کہ وہاں کیسا قتل عام ہوا تھا۔‘‘ وہ مزید بتاتے ہیں’’ ہم ہر سال ۲۸؍ فروری کے روز یعنی فسادات کی ہر برسی پر سورت سے احمد آباد کی گلبرگ ہاؤسنگ سوسائٹی جاتے ہیں وہاں نمازیں پڑھتے ہیں ،قرآن خوانی کی جاتی ہے اور شہید ہونے والوں کے ایصال ثواب کے لئے دعائیں مانگی جاتی ہیں ، امسال بھی ہم وہاں گئے تھے ، والدہ ہر سال جاتی تھیں مگر امسال نہیں جاسکیں کیونکہ گرنے کی وجہ سے ان کے بائیں بازو میں چوٹ آئی ہے اور بائیں جانب گردن کی ہڈی متاثر ہوگئی ہے ، اور اب وہ بہت چل پھر بھی نہیں پاتیں ، مگر ان کے حوصلے آج بھی بلند ہیں ۔‘‘ وہ بتاتے ہیں ’’ اب گلبرگ ہاؤسنگ سوسائٹی میں سوائے قاسم بھائی کے اور کوئی نہیں رہتا ، قاسم بھائی کے خاندان کے ۱۸؍ افراد ۲۸؍ فروری ۲۰۰۲ء کے روز سوسائٹی میں مارے گئے تھے ، ہم نے کئی بار ان سے کہا کہ سوسائٹی میں اب نہ رہو پر وہ کہتے ہیں کہ ’ میں سوسائٹی چھوڑ کر نہیں جاؤں گا ۔ ‘ وہ کہتے ہیں کہ ’ اپنے بچوں کی یادیں ہی تو میرا اثاثہ ہیں اگر میں نے سوسائٹی چھوڑ دی تو اس اثاثے سے محروم ہو جاؤں گا ۔‘ قاسم بھائی ۶۵ برس کی عمر میں اپنے غم کوتازہ بھی رکھے ہوئے ہیں اور سوسائٹی کی دیکھ ریکھ بھی کرتے ہیں ، کبھی مسلمانوں کی یہ خوش حال اور چہل پہل والی سوسائٹی اب بے رونق ہوگئی ہے ، سنسان پڑی ہے ۔‘‘
حالانکہ ایس آئی ٹی نے ۲۰۱۲ء میں اپنی کلوژر رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کردی ہے ۔ اس نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ نریندر مودی کے خلاف کوئی معاملہ نہیں بنتا ہے ، مگر ذکیہ جعفری پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں ۔ ۵؍ اکتوبر ۲۰۰۷ء کو ہائی کورٹ نے لووورکوٹ کے ، کلوژر رپورٹ کو مان لینے کے فیصلے کو رد کرکے گجرات ۲۰۰۲ء کے فسادات متاثرین کے لئے انصاف کے حصول کے دروازے ابھی کھلے چھوڑے ہیں ۔ تنویر جعفری کا کہنا ہے ’’مودی اور ان کے رفقاء اور پولس وسرکاری افسران کی فسادات کے دوران سرگرمیاں جگ ظاہر ہیں ، ہمارا یہی مطالبہ ہے کہ ان کی چھان بین کرائی جائے ، اگر یہ لوگ وقت رہتے کارروائی کرتے تو دنگے نہ ہوتے ، ہمارے وکلاء جلد ہی عدالت جائیں گے ‘‘۔۔۔ ذکیہ جعفری پھر کہتی ہیں ’سزا دلائیں گے ، مودی کو بھی اور دوسروں کو بھی ‘ ۔ ان کی آوازہمیشہ کی طرح عزم اور حوصلے سے پر ہے ۔۔۔ یہ عزم اور حوصلہ برقرار رہے یہی سب کی دعا ہے ۔ (آمین)
(بصیرت فیچرس)