مولانا سعد صاحب کی غلط بیانی پر اکابر علماء خاموش کیوں؟

مولانا سعد صاحب کی غلط بیانی پر اکابر علماء خاموش کیوں؟

مکرمی!
مولانا سعد صاحب کے جو بیانات اورنگ آباد اجتماع میں ہوئے ہیں وہ چونکا دینے والے اور کافی حدتک تشویشناک ہیں، اس کا محاسبہ ہونا چاہیے اس کو یوں ہی سرسری نہیں لینا چاہیے، اکابر علماء کو کھل کر سامنے آنا چاہیے!1 -مولانا سعد صاحب نے اس اجتماع کو تبلیغی اجتماع کے اعتبار سے دنیا کی تاریخ میں سب سے بڑا اجتماع قرار دیا، مولانا سعد صاحب کے الفاظ ہیں خدا جانے مولانا نے کس اعتبار سے کہا؟ 2 -مولانا سعد صاحب نے قسم کھا کر کہا کہ اورنگ آباد کے اجتماع میں براہ راست فرشتوں کی نصرت ہوئی ہے پنڈال کھڑاکرنے میں، حوض کی کھدوائی میں، میدان کو ہموار کرنے میں فرشتوں کی مدد رہی، یہ قسمیہ بیان ہے۔ 3 -مولانا سعد صاحب نے یہ بھی کہا کہ فرشتوں کی نصرت تبلیغی لائن سے جہاں محنت ہوتی اس کے ساتھ خاص ہوتی ہے۔4- مولانا نے ایک اور اجتہادی بات کہی کہ کھلم کھلا گناہ بےحیائی نہیں چھپ کر گناہ بےحیائی ہے۔5- مولانا نے مسجد کی تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور تعلیم مسجد میں ہوتی تھی صفہ چبوترے پر نہیں لوگوں کو غلط فہمی ہوگئ ہے جو صفہ کومدرسہ کہتے ہیں- یہ حضرت کی تحقیق ہے۔6- اور مولانا سعد صاحب نے اپنی ایک نئ تحقیق پیش کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج مطہرات کی تمام شادیوں میں ولیمہ مسنونہ میں کھجور پنیر سے ضیافت کی لیکن زینب کے نکاح کے موقع پر ولیمہ میں گوشت روٹی کا اھتمام کیا جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم آزمائش میں مبتلا کیے گئے ،آپ پر پریشانی آئی، معمول سے ہٹنے پر یہ سب کچھ ہوا۔
اوپر جو باتیں تحریر کی گئی ہیں سب تحقیق شدہ ہیں، میں علماء کی عدالت میں یہ بات رکھنا چاہتا ہوں کہ کیا مولانا سعد صاحب کی یہ باتیں درست ہیں؟ اگر درست ہیں تو میری اصلاح کیجیے! اگر درست نہیں ہیں تو مولانا سعد صاحب کی اصلاح کیجئے! مولانا کے بیانات سن کر الجھن پیدا ہوگئی ہے جسکی وجہ سے قلم اٹھانا پڑا، اس معاملہ میں چشم پوشی اختیار کرنا دین میں مداہنت ہوگی، تمام علماء حق کا یہ فرض بنتا ہے کہ اس بارے میں غور وفکر کریں! اسلام ہمیں اندھی عقیدت کی اجازت نہیں دیتا، حق اور سچ کا ساتھ دینا چاہیے! میری تحریر بغض وعناد کی بنیاد پر نہیں اللہ بہتر جانتا، چونکہ مولانا سعد صاحب ایک عالمی شخصیت کے حامل ہیں ان کی زبان سے نکلے ہوئے یہ جملے کہاں تک درست ہیں اس لیے اس بات کو علماء کی عدالت میں رکھ رہا ہوں۔
مفتی مشکور احمد قاسمی
امام وخطیب جامع مسجد منچریال وصدر جمعیۃ علماء ضلع منچریال