جرمنی کی اسلام مخالف سیاسی جماعت کے ارکان پارلیمان کادورۂ شام

جرمنی کی اسلام مخالف سیاسی جماعت کے ارکان پارلیمان کادورۂ شام

واشنگٹن:7؍مارچ(بی این ایس؍ایجنسی)
جرمنی میں دائیں بازو کی عوامیت پسند اور مہاجرین مخالف جماعت اے ایف ڈی کے ارکان پارلیمان پر مشتمل ایک وفد شام کے دورے پر دمشق میں ہے۔ پارٹی کے مطابق اس ’نجی دورے‘ کا مقصد شام کی حقیقی صورت حال جاننا ہے۔’آلٹرنیٹیو فار جرمنی‘ یا اے ایف ڈی نے مہاجرین اور اسلام مخالف عوامیت پسند سیاست کرتے ہوئے اس وقت جرمن پارلیمان میں تیسری بڑی اور حزب اختلاف کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے۔ جرمن جریدے ’ڈیئر شپیگل‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق اے ایف ڈی سے تعلق رکھنے والے سات سیاست دان ان دنوں دمشق کے دورے پر ہیں۔شام کا دورہ کرنے والے وفد میں جرمن پارلیمان کے چار ارکان فرانک پاسیمان، یُرگن پول، اوڈو ہیملگار اور ہارالڈ ویئل کے علاوہ جرمن صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کی صوبائی پارلیمان کے تین ارکان بھی شامل ہیں۔ اے ایف ڈی کے ایک ترجمان نے اس دورے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ وفد نجی حیثیت میں شام کے دورے پر روانہ ہوا ہے لیکن وفد کے ارکان نے اپنے اس دورے کے بارے میں پارٹی قیادت کو نہ صرف مطلع کیا تھا بلکہ قیادت کی اجازت کے بعد ہی وہ دمشق روانہ ہوئے۔اے ایف ڈی کے رکن پارلیمان فرانک پاسیمان نے ایک ٹوئیٹ بھی کی ہے جس میں یہ وفد دمشق کے مفتی اعظم ڈاکٹر بدر الدین حسون سے ملاقات کر رہا ہے۔ اسد حکومت کے حامی دمشق کے مفتی اعظم نے سن 2011 میں شامی خانہ جنگی کے آغاز کے وقت دھمکی دی تھی کہ اگر یورپی ممالک نے شام کے معاملات میں مداخلت کی تو وہ سینکڑوں خودکش حملہ آوروں کو یورپ میں حملے کرنے کے لیے بھیج دیں گے۔
دورے کا مقصد کیا ہے؟
اے ایف ڈی کے ترجمان کرسٹیان لؤتھ نے پیر پانچ مارچ کے روز اشپیگل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ صوبائی اور وفاقی پارلیمان کے ارکان پر مشتمل اے ایف ڈی کا یہ وفد شام کے حقیقی حالات جاننے کے لیے دمشق پہنچا ہے۔ ترجمان کے مطابق یہ وفد دمشق کے علاوہ حلب اور حمص جیسے شامی شہروں کا دورہ بھی کرے گا اور اس دوران شامی حکومت کے اہلکاروں کے علاوہ یہ وفد تعلیمی اداروں اور مقامی کمیونٹی اور مذہبی رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کرے گا۔
اے ایف ڈی نے شام میں سکیورٹی کے حالات کو بہتر قرار دیتے ہوئے گزشتہ برس نومبر میں جرمن پارلیمان میں ایک تجویز پیش کی تھی کہ برلن، اسد حکومت سے شامی مہاجرین کی وطن واپسی کے لیے باقاعدہ مذاکرات کا آغاز کرے۔ اے ایف ڈی کی اس تجویز کو سی ڈی یو سمیت تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ جرمن حکومت نے شام میں سکیورٹی کی خراب صورت حال کی بنا پر شامی مہاجرین کی ملک بدری پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔