سری لنکامیں مسلم مخالف فسادات کے بعدایمرجنسی نافذ

سری لنکامیں مسلم مخالف فسادات کے بعدایمرجنسی نافذ

واشنگٹن:7؍مارچ(بی این ایس؍ایجنسی)
سری لنکا میں مسلم مخالف فسادات روکنے کے لیے ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ ابھی تک ان فسادات میں دو افراد ہلاک جبکہ درجنوں مساجد اور گھروں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔سری لنکا میں مسلم مخالف فسادات شروع ہونے کے بعد کابینہ کے وزراء نے سخت اقدامات کا فیصلہ کرتے ہوئے ملک بھر میں دس روزہ ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ سٹی پلاننگ کے وزیر رؤف حکیم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ فسادات کے مرکزی شہر کینڈی میں پولیس نے کرفیو نافذ کر دیا ہے۔
جاری ہونے والے بیان کے مطابق پہاڑوں کے دامن میں واقع کینڈی میں پولیس کمانڈوز کو تعینات کیا گیا ہے جبکہ یہی شہر غیرملکی سیاحوں کی پسندیدہ ترین منازل میں سے ایک ہے۔ پولیس نے بتایا ہے کہ بدھ بھکشوؤں اور مسلم برادری کے مابین تصادم اور کرفیو کی خلاف ورزی کے بعد یہ خصوصی دستے تعنیات کیے گئے ہیں۔ منگل کی صبح ایک مسلم نوجوان کی لاش ایک راکھ شدہ عمارت سے ملی ہے، جس کے بعد فسادات کی شدت کا خطرہ مزید بڑھ گیا تھا۔ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پولیس کو یہ اختیار بھی مل گیا ہے کہ وہ مشتبہ افراد کو دیکھتے ہی گرفتار کر سکتی ہے۔ گزشتہ سات برسوں میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ سری لنکا میں ایسے ہنگامی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔
حکیم کے مطابق فسادات کا مرکز چائے کی پیدوار کے لحاظ سے مشہور اور بدھ مت کے مقدس مقامات والا شہر کینڈی ہی ہے لیکن حکومت ملک بھر میں سخت پیغام دینا چاہتی ہے تاکہ کسی دوسرے علاقے میں ایسا نہ کیا جائے۔
سری لنکا میں ایک ہفتے پہلے ان فسادات کا آغاز اس وقت ہوا تھا، جب ایک مسلم رہنما پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ سنہالیوں کو فروخت کرنے والی اشیا میں مانع حمل ادویات شامل کر رہا ہے۔اس کے بعد اس مسلم رہنما کے گھر کو آگ لگاتے ہوئے مسجد کو بھی نقصان پہنچایا گیا تھا۔ بعد ازاں مسلمانوں کے ایک ہجوم کے ہاتھوں ایک سنہالی کی موت واقع ہوئی، جس کے ردعمل میں مسلمانوں کے مزید گھروں، کاروبار اور مساجد کو بری طرح نقصان پہنچایا گیا۔
سنہالی سری لنکا کا بدھ مت نسلی گروہ ہے، جو اکیس ملین آبادی کا تین چوتھائی فیصد بنتا ہے جبکہ اس ملک میں رہنے والے مسلمانوں کی تعداد دس فیصد ہے۔
پولیس کے مطابق دو درجن سے زائد افراد کو گرفتار کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ جون دو ہزار چودہ میں بھی مسلمانوں اور بدھ مت کے ماننے والوں کے مابین فسادات ہوئے تھے، جن کے نتیجے میں چار افراد مارے گئے تھے۔ اس وقت ان فسادات کا آغاز ایک انتہا پسند بدھ مت گروپ کے لیڈر نے کیا تھا، جس کے خلاف ابھی تک مقدمہ جاری ہے۔