مولانا سجاد نعمانی پر ہی مقدمہ کیوں؟

مولانا سجاد نعمانی پر ہی مقدمہ کیوں؟

شکیل رشید
(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز * سرپرست ایڈیٹر بصیرت آن لائن)
اگر مسلمان یہ سوچتے ہیں کہ ان کے سیاسی اور مذہبی قائدین اور ان کے ادارے، انجمنیں، تنظیمیں اور جماعتیں نشانے پر ہیں تو کیا غلط سوچتے ہیں! آج دو خبریں ایسی آئی ہیں جن سے مذکورہ سوچ کو تقویت ملی ہے۔ ایک خبر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان حضرت مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی صاحب پر ’غداری‘ کا مقدمہ درج کیے جانے کی ہے اور دوسری خبر یوپی کے ضلع باندہ کی مشہور دینی درسگاہ جامعہ ہتھورا پر این آئی اے کے چھاپے کی ہے۔
مسلم پرسنل لاء بورڈ تو عرصے سے فرقہ پرستوں کے نشانے پر ہے۔ ملک میں جنہوں نے زمام اقتدار سنبھال رکھا ہے ان کی نظروں میں بورڈ کسی کانٹے کی طرح کھٹک رہا ہے اور کھٹکنے کی وجہ بھی ہے۔ عرصہ سے یہاں مسلمانوں کے ’قلب ماہیت‘ کی کوششیں جاری ہیں۔ کبھی مدرسوں کی جدید کاری کے نام پر ’مدرسہ بورڈ‘بناکر،مدرسوں میں جو کہ اسلام کے قلعے ہیں، سرکاری سیندھ لگانے کی کوشش کی جاتی ہے، تو کبھی وندے ماترم اور سوریہ نمسکار اور یوگا کے نام پر مسلمانوں کے عقیدہ توحید کو متزلزل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کبھی ’گیتا‘ کا پاٹھ اسکولوں میں عام کرنے کی بات ہوتی ہے تو کبھی ’طلاق ثلاثہ‘ پر پابندی کے بہانے ساری شریعت اسلامیہ کو دریا برد کرنے کی سازش رچی جاتی ہے۔ اور مسلم پرسنل لاء بورڈ ہمیشہ اس ’شدھی کرن‘ کی کوششوں کے خلاف ڈٹا رہا اور رہتا ہے۔ ورنہ مسلمانوں میں تو ایسے روشن خیالوں، دانشور وںکی۔۔۔بشمول سرکاری علمائے دین۔۔۔کمی نہیں ہے جو مورتی پوجا کو عین ثواب ثابت کرنے سے نہیں ہچکچاتے اور دنیاوی مفادات کے لیے ’شرک‘ کو ’توحید‘ پر مقدم رکھنے میں پیش پیش رہتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ تمام مسلمان ان کے ’نقش قدم‘ پر چلیں۔ بورڈ میں اختلافات کے لیے یرقانیوں نے بہت سارے ’کرائے کے ٹٹّو‘ چھوڑ رکھے ہیں جن کی کوششیں اب رنگ لارہی ہیں۔۔بورڈ میں انتشار پیدا کیاجارہا ہے اور اب مولانا سجاد نعمانی پر ’غداری‘ کا مقدمہ قائم کرکے حکمراں ٹولے نے بورڈ کو اپنے ’دفاع‘ پر مجبور کردیا ہے۔
حضرت مولانا سجاد نعمانی پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے حیدرآباد میں اشتعال انگیز تقریر کی تھی۔ جس تقریر کا حوالہ دیا جارہا ہے وہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اجلاس میں کی گئی تھی۔ یہ بورڈ کا اجلاس تھا، یہ اجلاس کے اندر کی تقریر تھی، اس کے باوجود اس پر مقدمہ درج کرنا عین قانون سمجھا گیا۔ حضرت نے سنگھ پریوار کی متشددانہ سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور یہ اندیشہ ظاہر کیا تھا کہ ملک کو برما بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ تو کیا یہ سچ نہیں ہے؟ کیا ابھی حال ہی میں شری شری روی شنکر نے اس اندیشے کا اظہار نہیں کیا ہے کہ ملک کے حالات شام جیسے ہوسکتے ہیں اور سارے ملک میں خانہ جنگی ہوسکتی ہے؟ او رکیا ان سے قبل آر ایس ایس کے نظریہ ساز راکیش سنہا نے ایک ٹی وی مباحثے میں نہیں کہا تھا کہ منٹوں میں سب سے نمٹا جاسکتا ہے؟ اور کیا آر ایس ایس سرسنگھ چالک موہن بھاگوت نے نہیں کہا تھا کہ ’فوج کو لڑائی کی تیاریوں میں مہینوں لگتے ہیں آر ایس ایس تین دن میں تیار ہوسکتا ہے‘؟ اور کیا یہ سچ نہیں ہے کہ جگہ جگہ سنگھ اور بجرنگ دل اور درگا واہنی کے کیمپوں میں ہتھیاروں کی ٹریننگ دی جاتی ہے؟ کولکتہ میں کیا سڑک پر ’شاستروں‘ کی نمائش یا ’پوجا‘ نہیں کی گئی؟ سب کچھ کھلا ہوا ہے مگر یہ سب کچھ جو کھلاہوا ہے اس کا اظہارایک عالم دین کی زبان سے ’جرم‘ ہوگیا!
اور مولانا پر مقدمہ بھی کس کے کہنے پر لیاگیا۔ یوپی شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین وسیم رضوی کے کہنے پر بلکہ تحریری شکایت پر! جس پر خود بدعنوانی کے الزامات ہیں او رجو مسلمانوں کی مذہبی دل آزاری کا مجرم ہے! پولس اور حکومت سے ، یوگی اور مودی دونوں ہی حکومتوں سے یہ سوال کیاجاناچاہئے کہ شری شری روی شنکر، راکیش سنہا اور موہن بھاگوت پر کیوں مقدمہ درج نہیں کیاجاتا جوکہ کھلے عام دھمکیاں دے رہے ہیں اورکیوں مولانا سجاد نعمانی پر درج کیاجاتا ہے جو صرف حقیقت حال کو آشکار کررہے ہیں؟ صرف مسلمانوں ہی کو نہیں اس ملک کے جمہوریت پسند برادران وطن کو بھی اس کے خلاف احتجاج کرناچاہئے۔۔۔ مسلمان اس لیے احتجاج کریں کہ یہ سلسلہ اگر نہ رکا تو کوئی ادارہ، اور جامعہ ہتھورا کی طرح کوئی مدرسہ بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ حکومت سے یہ اپیل کی جانی چاہئے کہ وہ جمہوری اور سیکولر ملک میں جمہوریت اور سیکولرزم کی دھجیاں نہ اڑائے اور نہ ہی انصاف کو ناانصافی میں تبدیل کرے۔
(بصیرت فیچرس)