’صبح ہند اور شام غوطہ ‘

’صبح ہند اور شام غوطہ ‘

نازش ہما قاسمی(ممبئی اردو نیوز)
دھیرے دھیرے بھارتیہ جنتا پارٹی ملک میں ہورہے اسمبلی انتخابات میں فتح کے جھنڈے لہراتی چلی جارہی ہے۔۔اس بات سے قطع نظر کہ بی جے پی حکومت نے چار سالہ دور اقتدار میں کوئی بھی ترقی کا کام انجام نہیں دیا ہے، پھر بھی ہر جگہ اس کی حکومت قائم ہورہی ہے اور بھگوا جھنڈا ہر جگہ لہراتا جارہا ہے۔۔۔ ابھی حال ہی میں ہوئے تری پورہ، ناگا لینڈ اور میگھالیہ انتخابات کی مثال لے لیں۔۔بی جے پی ان تینوں ریاستوں میں حکومت بنا رہی ہے، حیرت کی بات یہ ہے کہ میگھالیہ میں صرف دو سیٹ لاکر بھی حکومت سازی میں شریک ہورہی ہے، تینوں جگہ حکومت سازی کرکے وہ ہندوستان کے اکثر صوبوں میں بھگوا جھنڈا لہرانے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ مودی لہر کے ختم ہوجانے کے بعد بھی اس طرح کی جیت جمہوریت اور سیکولر ازم کے خاتمے کی دلیل ہے۔ ۔۔عوام اور اپوزیشن کنفیوز ہیں کہ رائے عامہ کے مخالف ہونے کے باوجود بھی بی جے پی پی کس طرح جیت رہی ہے ۔۔۔کیا واقعی ای وی ایم میں چھیڑ چھاڑ کی جارہی ہے۔۔۔اگر ایسا ہے تو بی جے پی کو ۲۰۱۹ لوک سبھا الیکشن میں بھی جیتنے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔ بیلٹ پیپر کے ہونے کے باوجود کیوں ای وی ایم سے انتخابات کرائے جارہے ہیں ، الیکشن کمیشن کیوں نہیں نوٹس لے رہا ہے ۔ کیا مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن میں ساز باز ہے؟ یہ سبھی سوچنے والی باتیں ہیں اور ملک کے مستقبل کے لیے لمحہءِ فکریہ! ۔ انتخابی نتائج آنے کے بعد تری پورہ کے حالات کشیدہ ہوگئے ہیں۔ روسی انقلاب کے روح رواں لینن کی مورتی گرائے جانے کے بعد وہاں تشدد بھڑک اُٹھا ہے، مجسمہ ڈھانے کا یہ سلسلہ مزید دراز ہوتا جارہا ہے، لینن کے بعد تامل ناڈو اور اب میرٹھ میں دستور ہند کے معمار ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے مجسمہ کو نشانہ بنایا گیا ہے، جو مستقبل کے ہندوستان کی واضح تصویر پیش کررہا ہے۔ سیاسی مخالفین کے ساتھ تشدد آمیز رویہ جمہوری اقدار کی سراسر خلاف ورزی ہے،جمہوری اور سیکولر سوچ رکھنے والے عوام پریشان ہیں کہ ملک کا کیا ہوگا؟ گنگا جمنی تہذیب کا کیا ہوگا۔ کیا واقعی ۲۰۱۹ میں فرقہ پرست حکومت دوبارہ اقتدار میں آکر ہندوستان کے مکمل ہندو راشٹر ہونے کا اعلان کردے گی۔۔۔آثارو قرآئن تو یہی بتاتے ہیں کہ ایسا ہی ہونے والا ہے۔۔۔ملک کی اکثریت بھلے ہی اس کے لیے تیار نہ ہو؛ لیکن فرقہ پرست اور جمہوریت مخالف طبقوں کے بلند عزائم اور ان کے پے درپے بیانات سے اندازہ تو یہی ہورہا ہے کہ وہ کامیاب ہوں گے جس طرح اسمبلی انتخابات میں کامیاب ہورہے ہیں اور جہاں ناکامی ہاتھ لگ رہی ہے وہاں بھی گوا کی طرح زبردستی کی حکومت قائم کررہے ہیں۔ شمال مشرقی ریاست تری پورہ میں ۲۵؍سالہ کمیونسٹ حکومت کا خاتمہ ہوگیا ہے۔۔۔وہاں کے عوام پچیس سال سے امن و امان کو جھیلتے ہوئے آرہے تھے، امن و امان کی فضا وہاں کے لوگوں کو راس نہیں آرہی تھی اسلئے ایک غریب اور ایماندار وزیر اعلٰی کو ہٹاکر بی جے پی جیسی فرقہ پرست پارٹی کو موقع دیا گیا ہے اور فرقہ پرستوں کو اقتدار ملتے ہی پچیس سالہ امن وامان کو گہن لگ گیا اور وہاں تشدد بھڑک اُٹھا ہے۔۔۔گھر جلائے جارہے ہیں۔ کمیونسٹ پارٹی بی جے پی پر الزام لگا رہی ہے او ربی جے پی کمیونسٹ پر “کھسیانی بلی کھمبا نوچے‘‘ کا الزام عائد کررہی ہے۔۔۔حقائق کیا ہیں ؟ وہ نہیں پتہ۔۔۔؛ لیکن نقصان ملک کا ہورہا ہے۔۔۔نقصان عوام کا ہورہا ہے۔۔۔نقصان جمہوریت کا ہورہا ہے۔۔۔نقصان سیکولرازم کا ہورہا ہے۔۔۔اب جبکہ حالات انتہائی مخدوش ہوچکے ہیں۔۔۔ملک کا مستقبل تاریک نظر آرہا ہے، ایسے میں تیسرے محاذ کی پہل، ایس پی؛ بی ایس پی اتحاد۔ کانگریس کا نرم ہندو تو رویہ۔۔۔کچھ امید جگا رہا ہے۔۔۔کچھ حوصلے دے رہا ہے۔۔۔۔اگر اپوزیشن متحد ہوکر ۲۰۱۹ کا الیکشن لڑے۔۔۔تمام اختلافات سے اوپر اُٹھ کر ملک کے مستقبل کے لیے سوچے۔۔ای وی ایم کے بجائے وی وی اے بیلٹ پیپر کے ذریعے انتخابات کرانے کی مانگ کرے تو شاید ہوسکتا ہے کہ ملک بچ جائے۔۔۔جمہوریت بچ جائے۔۔۔سیکولر ازم محفوظ رہے۔۔۔ فرقہ پرست ٹولے کے عزائم خطرناک ہیں۔۔۔موہن بھاگوت کا بیان۔۔۔فوج سربراہ کا بیان۔۔۔شری شری روی شنکر کا بیان۔۔۔یہ سب سوچنے پر مجبور کررہے ہیں کہ ملک کا تانا بانا بکھیرنے کی بڑے پیمانے پر سازش رچی گئی ہے۔۔۔ہندو مسلم منافرت کی خلیج گہری ہوگئی ہے۔۔۔اکثریتی فرقے میں سے ہر پانچواں اور اقلیتی فرقے سے ہر تیسرا ہندو مسلم نفرت سے بھرا ہوا ہے۔۔۔مذہب کی سیاست عروج پر ہے۔۔۔ملک کی سالمیت خطرے میں ہے۔۔۔موہن بھاگوت کا بیان کہ جنگ کی تیاری میں فوج کو چھ ماہ لگیں گے جبکہ سنگھ کارکنان محض تین دن میں تیارہوجائیں گے۔۔۔یہ بیانات ان کے عزائم کا پتہ دیتے ہیں کہ کس طرح سے وہ مسلح ہیں اور تیار ہیں۔۔۔بس موقع ملنے کی دیری ہے۔۔۔بس بابری مسجد کا فیصلہ مخالف کے حق میں آنے کی دیری ہے۔۔۔ اگربابری مسجد رام جنم بھومی تنازعہ کا فیصلہ اکثریتی فرقہ کے خلاف ہوا۔۔۔تو بقول شری شری پانچ سو سالوں سے چل رہا تنازعہ خون خرابہ پیدا کردے گا ۔۔۔ملک کی حالت شام جیسی ہوجائے گی۔۔۔تو کیا مسلمان ڈر جائیں۔۔۔عدلیہ پر بھروسا کرنے کے بجائے مصالحتی فارمولے پر عمل پیرا ہوجائیں۔۔۔”صبح ہند کی رنگینی کو قائم رکھنے کے لیے شامِ غوطہ سے خوف کھاجائیں‘‘۔ افسوس اس بات پر ہے کہ اس طرح ملک مخالف بیان دینے والے آزاد گھوم رہے ہیں، عدلیہ خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔۔۔؛ لیکن ہمیں امید ہے کہ ملک کا تانا بانا نہیں بکھرے گا۔۔۔ہم سیکولر ازم پر یقین رکھتے ہیں۔۔۔ہم ترنگا پر بھگوا کی بلندی قبول نہیں کرسکتے۔۔۔ہم نے ملک کے لیے قربانیاں دی ہیں، دے رہے ہیں اور آئندہ بھی دینے کو تیار ہیں۔۔۔ہمارے ساتھ ملک کے سیکولرازم پسند برادران وطن ہیں۔۔۔ان شاء اللہ ہم ۲۰۱۹ میں انہیں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔۔۔حالات ساز گار ہوجائیں گے۔۔۔روی شنکر کی دھمکیاں ان کے منہ پر پڑیں گی۔۔۔کیوں کہ شام جیسے حالات ہونے پر صرف مسلمانوں کا ہی نقصان نہیں ہوگا۔۔ملک کا بھی نقصان ہوگا۔۔۔ملک ٹوٹ جائے گا۔۔۔ملک بکھر جائے گا۔۔۔صرف اقلیت ہی نہیں مارے جائیں گے۔۔۔شام میں دو کروڑ مسلمان ہیں۔۔یہاں پچیس کروڑ مسلمان ہیں۔۔۔یہ اعداد ڈرانے کے لیے نہیں ہیں کیوں کہ اکثریت کی تعداد سو کروڑ ہے۔۔۔ یہ صرف اس بات کو بتانے کے لیے ہے کہ وہاں شام میں عالمی طاقتیں کود پڑی ہیں۔۔۔وہاں مسلمان اکیلے ہیں ۔۔۔تنہا ہیں ۔۔۔ لیکن یہاں ہندوستان میں برادران وطن کا ساتھ ہے اگر ایسے حالات ہوئے تو سہ طرفہ محاذ ہوگا۔۔۔ایک طرف ہندو شدت پسند۔۔۔ایک طرف کچھ مسلم شدت پسند ۔۔۔اور ایک طرف محبت و امن کے رہبر۔صلح وامن کے پیکر ہندو مسلم ہوں گے جو نفرت پھیلانے والوں پر غلبہ پالیں گے اور ملک فرقہ پرستی سے آزاد ہوجائے گا کیونکہ اس ملک کی یہی خاصیت رہی ہے، فرقہ پرست یہاں کی گنگا جمنی تہذیب پر کبھی حاوی نہیں ہوپائے، اگر حاوی ہوئے بھی تو وقتی طو رپر ہوئے ہیں، فرقہ پرستوں کو مستقل عروج کبھی حاصل نہیں ہوا ہے ۔۔آج بی جے پی جیسی فرقہ پرست پارٹی بھی حاوی ہے ۔۔۔عروج پر ہے۔۔۔؛ لیکن ہر عروج را زوال است ۔۔۔اس کا بھی ستارہ عنقریب ڈوب جائے گا او رملک محفوظ رہے گا ۔ اقتدار اور حکومت نے بہت سوں کو نشہ میں مبتلا کیا ہے، ظلم و زیادتی پر آمادہ کیا ہے، کمزوروں کو دبایا گیا ہے لیکن وقت کی گردش اور حوادث زمانہ نے بڑے بڑے سورماؤں کا سر شرم سے جھکا یا ہے، تخت و تاج کے وارثین کو بوریہ کے قابل بھی نہیں چھوڑا ہے، اس لئے ہمیں پُر امید رہنے کی ضرورت ہے۔ ان شاء اللہ ہمارا ملک امن و سلامتی کا گہوارہ رہے گا ،وقتی اور عارضی آندھیاں یہاں کے امن و محبت کے پھول کو مرجھادینے سے عاجز ہیں، صبح ہند کی رنگینی کو قائم رکھنے کے لیے شام غوطہ سے خوف کھانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔!!!
(بصیرت فیچرس)