شری شری ، موہن بھاگوت راکیش سنہا کی دھمکیاں

شری شری ، موہن بھاگوت راکیش سنہا کی دھمکیاں

کیا مسلمان ڈر کر بابری مسجد مندر کے لیے سونپ دیں؟ 
شکیل رشید(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز؍سرپرست ایڈیٹر بصیرت آن لائن) 
شری شری روی شنکر کی دھمکیوں پر کچھ حیرت نہیں ہوئی ۔
کیونکہ یہ موسم ہی دھمکیوں کا ہے !
۱۳سیکنڈ میں دیکھ لینے کی دھمکی ، تین دِن میں پوری فوج تیار کرنے کی دھمکی اور ہندوستان کو ملک شام بنادیئے جانے یا ملک میں خانہ جنگی شروع ہوجانے کی دھمکی ۔۔۔ دھمکیوں کے ساتھ ساتھ یہ مجسموں کی بے حرمتی کا بھی موسم ہے ۔ لینن سے لےکر ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر شیاما پرساد مکھرجی اور ہنومان وپیریار تک کے مجسموں پر تو جیسے کہ ایک آفت سی آئی ہوئی ہے ۔۔۔ دھمکیوں اور مجسموں کی بے حرمتی میں ایک ’ ربط‘ ہے ۔ اگر دھمکیاں اس ملک کے مسلمانوں کو بالخصوص اور دیگر اقلیتو ںکو بالعموم ڈرانے کے لئے دی جارہی ہیں تو مجسموں کی بے حرمتی کے پس پست مقصد اس ملک کے پچھڑے طبقات ، پسماندہ اقوام اور دلتوں وغیرہ کو خوفزدہ کرنا ہے۔ گویا یہ کہ دھمکیوں اور مجسموں کی بے حرمتی کے پیچھے خوفزدہ اور ڈرانے ودہشت میں مبتلا کرنے کی سیاست کام کررہی ہے ، اور سب ہی جانتے ہیں کہ ’خوف کی سیاست‘ میں سب سے پیش پیش سنگھ پریوار ہے ۔۔۔
بات سالِ رواں کی ۲۹؍ جنوری کی ہے جب ’ چینل نیوز 24‘ پر ایک بحث میں حصہ لیتے ہوئے راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ ( آر ایس ایس) کے ایک نظریہ ساز راکیش سنہا نے کے منھ سے یہ الفاظ نکلے تھے ’’اگر ہندوچاہ لیں تو انہیں مسلمانوں کے صفائے میں ۱۵؍ سیکنڈ لگیں گے ۔‘‘ بات یہیں پر ختم نہیں ہوئی ، آر ایس ایس کے سرسنگھ چالک یعنی سربراہ موہن بھاگوت نے بہار کے مظفر پور میں اپنے بیان سے ایک بڑی ہی خوفناک تصویر اُجاگر کردی ۔ انہوں نے کہا کہ ’’ آر ایس ایس صرف تین دن میں ایک فوج تیار کرسکتی ہے۔‘‘ انہوں نے آر ایس ایس کی اس ’ فوج‘ کا ملک کی فوج سے موازنہ کیا کہ ’’ملک کی فوج کو تیار ہونے میں چھ مہینے لگتے ہیں ‘‘ یعنی یہ کہ ’’آر ایس ایس کی فوج ملک کی فوج سے کہیں زیادہ مضبوط ہے ۔‘‘ بھاگوت نے یہ بات کیوں کہی؟ اس سوال کا جواب کسی سے بھی ڈھکا چھپا ہوا نہیں ہے ۔ ان کے کہنے کی وجہ ملک کی تمام اقلیتوں ، بشمول مسلمان اور تمام سنگھ مخالفین تک یہ ’پیغام‘ پہنچانا تھا کہ ’آر ایس ایس سے ڈرو‘۔
یہ ’خوف کی سیاست‘ سنگھ پریوار اور اس کے ’سیاسی چہرے‘ بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی) کو فائدہ پہنچاتی رہی ہے ۔یہی وہ’خوف کی سیاست‘ ہے جس نے اس ملک کے اقتدار پر بی جے پی کو قبضہ بھی دلایا ہے اورنریندر مودی کو وزیراعظم بھی بنایا ہے ۔۔۔ اب ۲۰۱۹ء کے لوک سبھا الیکشن سے قبل اسی ’ خوف کی سیاست‘ کے استعمال کی پھر سے کوشش کی جارہی ہے اور دیگر اقلیتیں وطبقات تو نشانے پر ہیں ہی مگر مسلمان خاص طو رپر نشانے پر ہیں ۔۔۔ کوشش ہے کہ لوک سبھا کے الیکشن سے قبل مسلمانوں کو اس قدر ڈرا دیا جائے کہ وہ حقِ رائے دہی کے استعمال کے لئے پولنگ بوتھوں کا رخ ہی نہ کریں ۔ اور ڈرانے کے لئے جہاں مختلف حیلے اور بہانے ۔۔۔۔ مثلاً گئوکشی ، لوجہاد ، دہشت گردی ، مدرسوں پر چھاپے اور لاؤڈ اسپیکروں سے اذان ۔۔۔ استعمال کئے جارہے ہیں وہیں سب سے بڑا حیلہ اور بہانہ شہید بابری مسجد کو بنایا جارہا ہے ۔ اب جبکہ بابری مسجد ؍ رام جنم بھومی کی زمین کی ملکیت کے مقدمے کی حتمی شنوائی سپریم کورٹ میں ہونی ہے اور جلد ہی فیصلہ آنا ہے ۔۔۔ یہ فیصلہ چاہے مسلمانوں کے حق میں آئے یا مخالفت میں ۔۔۔۔ تو یہ آواز اٹھنے لگی ہے کہ ’ مسلمان بابری مسجد کی زمین کو رام مندر کی تعمیر کے لئے ہندوؤں کے حوالے کردیں کہ اسی میں بھلا ہے ۔ ‘
مذکورہ پس منظر میں ’ آرٹ آف لیونگ‘ کے سربراہ ، ہندودھرم گرو شری شری روی شنکر کی دھمکیوں پر کسی کو حیرت نہیں ہونی چاہئے ۔ یوں تو شری شری کو ساری دنیا میں ’ امن کے سفیر‘ کے طور پر جانا پہچانا جاتا ہے کیونکہ عام تصور یہی ہے کہ وہ دنیا بھر میں قیام امن کے لئے کوششیں کرتے پھرتے ہیں بالخصوص مشرقِ وسطیٰ میں ۔ لیکن یہاں وہ ’ امن ‘ کا پیام دینے کی بجائے مسلمانوں کو دھمکا رہے ہیں کہ بابری مسجد کی زمین دینے ہی میں بھلا ہے بصورت دیگر ہندوستان ملک شام بن جائے گا اور یہاں خانہ جنگی شروع ہوجائے گی اور بڑے نقصان میں مسلمان ہی رہیں گے ۔۔۔ ابتداء میں انہوں نے حضرت مولانا سید سلمان حسینی ندوی کے ذریعے مسلمانوں تک یہ پیغام پہنچایا کہ مسلمان بابری مسجد کی ملکیت سے دستبردار ہوجائیں ، حضرت مولانا نے ان کی ہاں میں ہاں ضرور ملائی پر بعد کو وہ شری شری سے علیحدہ ہوگئے ۔ اب دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر ظفر الاسلام سمیت کئی مسلمان دانشور شری شری کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں اور اپنی جانب سے یہ دلیل دے رہے ہیں کہ ’’اگر مسلمان بابری مسجد کا مقدمہ جیت بھی گئے تو کیا وہ ایودھیا جاکر وہاں نماز ادا کرسکیں گے ؟‘‘ یعنی ’ خوف کی سیاست‘ پوری طرح سے اپنا کام کررہی ہے۔۔۔ اگر اس سوال پر غور کیا جائے کہ شری شری یہ کیوں چاہتے ہیں کہ مسلمان بابری مسجد کی جگہ رام مندر کے لئے سونپ دیں، تو یہ اندازہ آسانی سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس ’مانگ‘ کے پیچھے ’سنگھ کا مفاد‘ پوشیدہ ہے ۔ اگر مسلمان بابری مسجد سے دستبردار ہوگئے تو شری شری کی کامیابی کا سارا سہرا مودی سرکار کے سربندھے گا اور ۲۰۱۹ء کے لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی آنکھیں بند کرکے کامیاب ہوجائے گی ۔ یہ کامیابی سارے سنگھ پریوار اور بی جے پی کے لئے ضروری ہے کیونکہ یہ ملک میں پارلیمنٹ کے اندر ۔۔۔۔ کیونکہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں ہی جگہ بی جے پی اکثریت میں ہوگی ۔ ’ نہ ہینگ لگے نہ پھٹکری اور رنگ آئے چوکھا‘ کے مصداق یہ آئین کی تبدیلی اور ملک کو ’ہندوراشٹر‘ میں بدلنے کی آسان اور سہل راہ ہے وہ جو چاہتے ہیں کہ بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کے لئے دے دی جائے اگر ان سے کہا جائے کہ آئندہ کسی مسجد ، درگاہ ، خانقاہ ، مزار ، قبرستان پر حق نہیں جتایا جائے گا ، تو یقین ہے کہ اس کی ضمانت نہیں دے سکیں گے ۔
بہرحال ایک سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا واقعی مسلمانوں کو ایودھیا کی جگہ بابری مسجد کے لئے سونپ دینی چاہئے تاکہ ہندوستا ن نہ ملک شام بن سکے اور نہ یہاں خانہ جنگی ہو ، اور نہ کوئی راکیش سنہا یہ دھمکی دے کہ ’ ہندو چاہ لیں تو ۱۳ سیکنڈ میں مسلمانوں کا صفایا کردیں‘ اور نہ ہی بھاگوت اشاروں اشاروں میں مسلمانوں کو یہ سمجھائیں کہ تین دن میں آر ایس ایس کی فوج تیار ہوسکتی ہے ‘ تاکہ کوئی خون خرابہ نہ ہو؟ اور ایک سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ شری شری روی شنکر کی مذکورہ دھمکیوں کا مقصد واقعی مسلمانوں کو ڈرانا اور خوف زدہ کرنا ہی ہے یا کہ کچھ اور ؟
ان سوالوں پر مسلمانوں کے رہنما کیا سوچتے ہیں اس پر بات کرنے سے قبل یہ بتاتا چلوں کہ دلت قائد ڈاکٹر بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر کے پوتے پرکاش امبیڈکر کا یہ ماننا ہے کہ آر ایس ایس خوف پھیلارہی ہے تاکہ پھر سے اقتدار میں آئے اور آئین کو تبدیل کرکے ملک کو ہندوراشٹر میں تبدیل کردے ۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے باقاعدہ مسلمانوں کو جھنجھوڑا ہے کہ ان کے لئے مشکلات بڑھ سکتی ہیں ، وہ بہت بڑے نقصان سے دوچار ہوسکتے ہیں ۔
ادارہ دارالقلم دہلی کے روحِ رواں معروف سنُّی عالم دین علاّمہ یٰسین اختر مصباحی صاحب کا بھی یہی ماننا ہے کہ اِن دھمکیوں کا بنیادی مقصد ’’ ملک کی عوام کو مرعوب کرکے اپنے پالے میں لانا ہے ، یہ دھمکیاں سنگھ پریوار کی پورے ملک کی سیاست پر غالب ہونے کی منصوبہ بند کوششوں کا ایک حصہ ہیں ، شری شری کا بیان انتہائی خطرناک ہے اس پر حکومت ِ ہندو کو فوری ایکشن لینے کی ضرورت ہے ورنہ ملک کا امن وامان غارت ہوسکتا ہے ، شری شری ہی کیوں آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے بھی جوبیان دیا کہ تین دن میں آر ایس ایس کی فوج تیار ہوسکتی ہے ، وہ بھی عوام ہی نہیں فوج کے لئے بھی تشویش ناک ہے ، وہ گویایہ کہہ رہے ہیں کہ جو کام فوج نہیں کرسکتی وہ کام آر ایس ایس کے ورکر خوبی سے کرسکتے ہیں ۔ یہ بیان فوج اور ملک دونوں کے لئے ایک طرح کا چیلنج ہے ۔۔۔ میں یہی کہوں گا کہ یہ بیانات بالخصوص شری شری کے حالیہ بیانات کا مقصد مسلمانوں کو رام مندر کی تعمیر کے لئے بابری مسجد کی دستبرداری پر آمادہ کرنا ہے ، لیکن میرا یہ ماننا ہے کہ اب فیصلہ عدالت پر چھوڑ دینا چاہئے ۔ اس مسئلے پر ایک درجن سے زائد مذاکرات ہوچکے ہیں اور ان میں کسی طرح کے تفضیئے کی بات نہیں ہوئی صرف یہ کوشش کی گئی کہ مسلمان بابری مسجد سے دستبردار ہوجائیں ، حالات تو آتے جاتے رہتے ہیں اور پھر مسلمان تو اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا اور ڈرنا چاہئے بھی نہیں ، صاف صاف یہ بول دیا جائے کہ مسلمان نہ تو ڈریں گے اور نہ ہی بابری مسجد سے دستبردار ہوں گے ۔ ‘‘
جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کے قانونی سیل کے سکریٹری گلزار اعظمی کا بھی یہی ماننا ہے کہ دھمکیوں سے ڈرنا نہیں چاہئے ۔ دھمکیوں کا مطلب بقول گلزار اعظمی ’’یہ ہے کہ آپ مسجد ہمیں دے دیں کیونکہ عدالت ہمیں مسجد نہیں دے گی ۔‘‘ انہیں یقین ہے کہ ملکیت کا فیصلہ مسلمانوں کے حق میں ہوگا کیونکہ ’’عدالت نے صاف طور پر کہہ دیا ہے کہ وہ شواہد کی بنیاد پرملکیت کا فیصلہ کرے گی ، اور آثارقدیمہ کی ٹیم نے ،جو کچھ کھدائی بابری مسجد کے نیچے اور اطراف میں کی ہے ، کچھ نہیں پایا ، نہ وہاں کسی راجہ کا محل ملا نہ ہی کوئی مندر ملا ، تو حقائق اور شواہد ان کے خلاف ہیں اسی لئے کبھی چمکارکر، کبھی ڈانٹ ڈپٹ کر اور کبھی دھونس دے کر وہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کو اس بات پر آمادہ کرلیا جائے کہ مسجد کی زمین مندر کے لئے سونپ دیں ، بی جے پی پر ایک دباؤ ہے کہ اس نے ۲۰۱۴ء کے لوک سبھا الیکشن سے پہلے کہا تھا کہ اگر پارلیمنٹ میں ہماری اکثریت ہوگی تو ہم بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کے لئے قانون بنائیں گے ۔ وہ سمجھتے تھے کہ انہیں اتنی بڑی اکثریت نہیں ملے گی اور وہ آسانی کے ساتھ برادرانِ وطن کو دھوکہ دے سکیں گے ، مگر لوک سبھا میں اکثریت ملی ، اور راجیہ سبھا میں بھی اب ان کی اکثریت ہوجائے گی اور اگر یہ مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر کا کوئی قانون بنائیں گے تو دنیا کو منھ دکھانے کے قابل نہیں رہ جائیں گے ۔‘‘ گلزاراعظمی کا کہنا ہے کہ اس تعلق سے ’’مسلمانوں نے تو یہ طے کرلیا ہے کہ عدالتی فیصلہ مان لیں گے لہٰذا مسلمانوں کی طرف سے فسادیا تشدد کا کوئی سوال ہی نہیں اٹھتا، ہاں اگر عدالت نے حقائق وشواہد کے سبب مسلمانوں کے حق میں فیصلہ دے دیا تو یہ ممکن ہے کہ یہ لوگ اپنی دھونس پر عمل کرلیں ، مگر اس اندیشےکے باوجود بھی اگر کوئی یہ کہے کہ مسلمان مسجد دے دیں تو ان سے الٹا یہ سوال دریافت کیا جانا چاہیئے کہ بھلا کیوں مسلمان اپنی مسجد دے دیں ، ہم حالات کا مقابلہ کریں گے اور گذشتہ ۷۰ برسوں سے حالات کا مقابلہ کرتے ہی چلے آرہے ہیں۔ ہر سال تو فسادات ہوتے ہیں اور ہر سال ہی تو مسلمانوں کی جان ومال سے کھلواڑ کیا جاتا ہے ۔‘‘
اگر گلزار اعظمی کی بات پرغور کیا جائے تو ایک سوال یہ اٹھتا ہے کہ جو آر ایس ایس آئین کی تبدیلی کے لئے اور ملک کو ہندوراشٹر بنانے کے لئے پارلیمنٹ میں قانون سازی پر ممکنہ طور پر غور کرنے کے لئے تیار ہو اسے مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر کے لئے قانون بنانے میں کون سی شرم اور اسے ساری دنیا میں منھ دکھانے سے کیا جھجھک ہوسکتی ہے ؟ اس سوال کا سیدھا جواب یہی ہے کہ کوئی جھجھک نہیں ہوسکتی ، یہ شرم سے عاری تنظیم ہے ، مگر اس کے لئے اکثریت کی ضرورت ہے اور اکثریت کے لئے ۲۰۱۹ء میں لوک سبھا کی جیت ضروری ہے اور جیت کے لئے یہ ضروری ہے کہ ۲۰۱۹ء سے قبل ’ مذاکرہ‘ کے ذریعے یا ’عدالتی فیصلے‘ کے ذریعے ایودھیا کی زمین مندر کے لئے حاصل کی جاسکے ۔۔۔ سارا دارومدار اسی پر ہے ۔۔۔ اور حالات بی جے پی کے حق میں الٹ پلٹ رہے ہیں ، وہ ان جگہوں پر بھی ’ ہار‘ رہی ہے جہاں اس کی اکثریت ہے ، جیسے کہ راجستھان اور ایم پی۔۔۔ ’جیت‘ کو یقینی بنانے کے لئے ہی یہ ’ خوف کی سیاست‘ کا سارا کھیل ہے ۔ رضا اکیڈمی ممبئی کے روح رواں الحاج محمد سعید نوری کے مطابق ’’ بی جے پی کی سرکار جب سے آئی ہے صرف مسلمانوں کو ہی نہیں ڈرارہی ہے بلکہ سیاسی حریفوں کے دلوں میں بھی ڈر اور خوف پیدا کرنے کے لئے کوشاں ہے ۔ دھمکانے کا اور مجسموں کی بے حرمتی کا یہ سارا کھیل اسی لئے ہے ، مگر مسلمان بہرحال اللہ اور رسول ؐ پر بھروسہ رکھتا ہے ، یقیناً وہ کسی ایسے عالم دین یا کسی ایسے مسلم دانشور کی بات نہیں سُنے گا جو بابری مسجد کی جگہ سونپنے کی بات کرتا ہو ۔۔۔اور پھر اس ملک کی جڑیں سیکولر اقدار میں پیوست ہیں ، یہ ہندوستان کو نہ شام بناسکتے ہیں اور نہ ہی برما ان شاء اللہ ۔‘‘
حضرت معین میاں کا ماننا ہے کہ ان دھمکیوں کا مقصد’’ یہی ہے کہ ملک کا امن وامان غارت ہو ، گنگاجمنی تہذیب مٹ جائے ۔ انہوں نے نفرت کی بنیاد پر حکومت حاصل کی ہے اب پھر نفرت کی بنیاد پر حکومت حاصل کرنا چاہتے ہیں ، یہ ملک کو تباہی کی طرف لے جارہے ہیں ، یہ مسلمانوں کو نہیں ملک کو سب سے بڑا نقصان پہنچارہے ہیں ۔ یہ اسرائیلی اور امریکی ایجنڈا ہے کہ ہندوستان سپرپاور نہ بن سکے ، جس طرح دوسرے ملکوں میں بغاوت کرائی جاتی ہے ہندوستان میں یہ فسادات کروانا چاہتے ہیں ۔ یہ دھمکیاں اور یہ مجسموں کو گرانے کی حرکتیں اس ملک کی قوموں کو آپس میں لڑانے کی سازشیں ہیں ۔۔۔ رہی بات مسلمانوں کی تو وہ اللہ ہی سے ڈرتا ہے اور مسجد کہیں ہو وہ مسجد ہی رہتی ہے ، تاقیامت ، اور مسجدیں تو اللہ کا گھر ہیں کسی کو یہ اختیار نہیں کہ انہیں کسی کو سونپ دے ، میں اتنا ہی کہوں گا کہ جمہوریت کا گلا گھونٹا جارہا ہے ۔ چاہے شری شری ہوں یا سلمان ندوی یا ظفر الاسلام سن لیں کہ نہ یہ ہندوستان کی جمہوریت کے تحت درست ہے اور نہ ہی شرعاًد رست ہے۔‘‘
جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر حافظ ندیم صدیقی بھی دھمکیوں کا مقصد مسلمانوں کو ڈرانا بتاتے ہیں مگر وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کا ایک مقصد ’’عدالتوں کو ڈرانا بھی ہے ۔ یہ عدالتوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہے ۔ مسلمان تو کبھی نہیں کہتا کہ عدالتی فیصلہ نہیں مانیں گے ، اس نے ہمیشہ عدالت کے احترام کی بات کی ہے لہٰذا میں یہ بتادوں کہ شری شری ، توگڑیا یا بھاگوت مسلمانوں کو ڈرانے کے اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکتے ، نہ ہی وہ مسلمانوں کو مرعوب کرسکتے ہیں ۔۔۔ شری شری کہہ رہے ہیں کہ حالات ملک شام جیسے بن جائیں گے میں کہتا ہوں کہ کبھی یہاں کے حالات ملک شام جیسے نہیں بن سکتے ، ہاں ایسی کوشش یہ کرضرور سکتے ہیں ۔ افسوس کہ ہمارے ملک میں چاہے سابقہ سرکاریں رہی ہوں یا حالیہ سرکار ، ہر دور میں آر ایس ایس کو چھوٹ حاصل رہی ہے اور آج اسی کا یہ تنظیم ناجائزفائدہ اٹھارہی ہے ۔ اگر ان کے پاس اپنی ذاتی نجی طاقت ہے تو مسلمانوں کے ساتھ اللہ کی مدد ہے ۔۔۔ اور گذشتہ ۷۰ برسوں کی تاریخ دیکھ لیں اس ملک میں فسادات مسلمانوں کا مقدر رہے ہیں ، فسادات نہ ہوں اس کے لئے سنجیدگی کے ساتھ سرجوڑ کر بیٹھنا اور لائحہ عمل طے کرنا ہوگا ۔ ‘‘
(بصیرت فیچرس)