نواز شریف پر جوتا پھینکا گیا

نواز شریف پر جوتا پھینکا گیا

وزیرخارجہ کے منھ پر سیاہی پھینکی جاچکی ہے
تنظیم لبیک یارسول اللہ کی جانب سے ختم نبوت کے معاملہ میں آئینی سیق میں ترمیم کے خلاف احتجاج
اسلام آباد ، ۱۱؍ مارچ ۔ پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف پر اتوار کو لاہور میں جامعۂ نعیمیہ کے دورے کے دوران ایک شخص نے جوتا پھینک دیا جو ان کے کندھے اور سر پر لگا۔ اس واقعے کی بڑے پیمانے پر مذمت کی جا رہی ہے۔اس واقعہ کے لئے پاکستان کی تنظیم لبیک یا رسول اللہ کو ذمہ دار قرار دیا جارہا ہے جو آئین میں ختم نبوت سے متعلق ایک سیق میں ترمیم کے خلاف احتجاج کررہی ہے ۔اس سے قبل سنیچر کی رات سیالکوٹ میں مسلم لیگ ن کے کنونشن کے دوران پاکستان کے وزیرِ خارجہ خواجہ آصف کے منھ پر پر ایک شخص نے سیاہی پھینک دی تھی۔نواز شریف جامعۂ نعیمیہ کے بانی مفتی حسین نعیمی کی برسی کے موقعے پر خطاب کرنے مدرسے پہنچے تھے۔ جونہی وہ اسٹیج پر پہنچے، ایک شخص نے نزدیک سے ان پر جوتا پھینک دیا۔ٹیلی ویژن پر دکھائی جانے والی فوٹیج میں جوتا پھینکنے والے شخص کو جوتا پھینکنے کے بعد اسٹیج کے بالکل سامنے آ کر دونوں ہاتھ فاتحانہ انداز میں بلند کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔نواز شریف نے اس واقعے کے بعد اپنا خطاب مختصر کر دیا۔ منتظمین نے جوتا پھینکنے والے شخص کو حراست میں لے لیا۔ان واقعات کی بڑے پیمانے پر مذمت کا سلسلہ جاری ہے اور مبصرین نے اسے معاشرے کی بڑھتی ہوئی عدم برداشت سے تعبیر کیا ہے۔گذشتہ ہفتے مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال پر جوتا پھینکا گیا تھا جب کہ گذشتہ سال عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید پر بھی جوتا مارا گیا تھا۔تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ان واقعات کی مذمت کی ہے۔ انھوں نے فیصل آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ہماری اخلاقیات کے خلاف ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ پی ٹی آئی کا کوئی کارکن اس واقعے میں ملوث نہیں ہے۔ انھوں نے کہا: ‘یہ کوئی طریقہ نہیں ہے۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے بھی اس واقعے کی مذمت کی ہے۔ ٹوئٹر پر ایک پیغام کے ذریعے انھوں نے کہا کہ یہ رجحان پاکستانی رہنماؤں کے احترام اور تحفظ کے لیے خطرناک ہے۔مسلم لیگ کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا: ’مسلم لیگ ن کی بڑھتی مقبولیت سے خائف عناصر کا ایک اور حملہ، احسن اقبال خواجہ آصف اور میاں نواز شریف پر تضحیک آمیز حملے ایک ہی سلسلے کی لڑی ہیں۔ ملک کو چلنے دو، دشمن کا کام آسان نہ کرو۔‘