پاپولر فرنٹ پر پابندی ظالمانہ ہے، اسے واپس لیا جائے

پاپولر فرنٹ پر پابندی ظالمانہ ہے، اسے واپس لیا جائے

مولانا ولی رحمانی، سجاد نعمانی، محمود مدنی، توقیر رضا خان، مفتی مکرم سمیت دیگر علماء ودانشوروں کا مطالبہ
نئی دہلی:13مارچ (پریس ریلیز) پاپولر فرنٹ آف انڈیا کی جھارکھنڈ صوبائی یونٹ پر پابندی لگائے جانے کے اعلان کی شدید مذمت کرتے ہوئے ملک کی متعدد اہم اسلامی تنظیموں کےذمہ داران اور دیگر ملی رہنماؤں نے اسے جمہوریت کے قتل کے مترادف قرردیا ہے یہاں جاری ایک مشترکہ بیان میں ملی رہنماؤں نے کہا ہے کہ پاپولر فرنٹ ملک گیر سطح کی ایک فلاحی وسماجی تنظیم ہے جو ملک بھر میں اپنے ارکان کے ذریعے تعلیمی وسماجی خدمات انجام دے رہی ہے نیزمظلومین کی داد رسی کا کام ملک کے دستور اور آئین کے حدود میں رہ کر انجام دے رہی ہے ۔پورٹ بلیئر میں سونامی متاثرین سے لیکر کشمیر کے زلزلہ زدگان کی باز آبادکاری میں وہ بے لوث حصہ لیتی رہی ہے۔جھارکھنڈ میں بھی راحت رسانی کے کام کے علاوہ گئو رکشکوں کے ذریعے ماب لینچنگ کے واقعات کے خلاف قانونی چارہ جوئی اور خاطی افراد کے خلاف مقدمات کی پیروی کرکے مظلومین کو قانونی امداد فراہم کرنے کا کام بھی یہ تنظیم کر رہی ہے ۔ اس سے قبل مرکزی سرکار کی جانب سے عائد کردہ داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ پاپولر فرنٹ کے روابط کا بے بنیاد پروپگنڈہ غلط ثابت ہوچکا ہے اور مزعومہ “لوجہاد” کے نام پر لگائے گئے الزامات بھی عدالت عظمیٰ کی جانب سے غلط ٹھہراے گئے ہیں ۔ نیز کیرالا اور کرناٹک کے وزرائےاعلیٰ بھی حال ہی میں یہ واضح کر چکے ہیں کہ ا س تنظیم کے خلاف ایسے شواہد موجود نہیں ہیں جن کی بنیاد پر اس پر پابندی عائد کی جا سکے۔ان حالات میں مرکزی اور ریاستی سرکاروں کی جانب سے ایک فلاحی تنظیم کو فرقہ وارانہ منافرت کی بنیاد پر موردد الزام ٹھہرانا جمہوری طریقہ کار کے منافی ہےاور اس سےیہ عندیہ ملتا ہے کہ مرکز اور بعض ریاستوں کی حکومتیں کسی بھی مخالف نظریے کو برداشت کرنا نہیں چاہتی ہیں اور ہر سطح پر ان کوکچلنے کی کوشش کر رہی ہے جس سے ملک میں جمہوریت اورآئین کی بالا دستی پر حرف آتا ہے ۔ ان رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ جھارکھنڈ میں پاپولر فرنٹ پر لگائی گئی پابندی کو فی الفورختم کیا جائے۔یہ بیان مندرجہ ذیل ملی رہنماوں نے جاری کیا ہے: مولانا محمد ولی رحمانی جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ و ناظم امارت شرعیہ بہار وجھارکھندواڑیسہ، مولانا محمودمدنی جنرل سکریٹری جمعیت علمائے ہند، مولانا محمد سجاد نعمانی ترجمان آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، مولانا مفتی مکرم احمد شاہی امام وخطیب مسجد فتحپوری دہلی، مولانا اسرارالحق قاسمی ممبر پارلیمنٹ ، مولانا توقیر رضا خان صدر اتحاد ملت کاونسل، پروفیسر اخترالواسع صدر مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور، ڈاکٹر ظفر محمود ٍ صدر زکات فاونڈیشن آف انڈیا، ڈاکٹرظفرالاسلام خان صدر دہلی اقلیتی کمیشن و سابق صدر مسلم مجلس مشاورت، اور ڈاکٹر تسلیم رحمانی صدر مسلم پولیٹیکل کاونسل آف انڈیا۔