دار العلوم دیوبند میں رابطۂ مدارس کا اجلاس

دار العلوم دیوبند میں رابطۂ مدارس کا اجلاس

مولانا ندیم الواجدی
دا ر العلوم دیوبند میں رابطۂ مدارس اسلامیہ عربیہ کا دوروزہ اجلاس خیر وخوبی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا، پہلے دن رابطے کی مجلس عاملہ کا جلسہ رہا، جو اس پروگرام میں بنیادی اہمیت کا حامل ہوتا ہے، کیوں کہ اگلے عمومی اجلاس میں اسی کے فیصلوں کی بازگشت سنائی دیتی ہے، مجلس عاملہ اکیاون افراد پر مشتمل ہے، جن میں سے بیس افراد دار العلوم دیوبند کی نمائندگی کرتے ہیں، دس ممبران شوری اور دس اساتذۂ دار العلوم اور باقی اکتیس ملک بھر سے منتخب کرکے اس اکیاون رکنی باڈی میں شامل کئے جاتے ہیں، مجلس عمومی میں تعدادِ افراد کی کوئی قید نہیں، دارالعلوم دیوبند کے نہج پر کام کرنے والے تمام مدارس عربیہ اسلامیہ اس کی رکنیت حاصل کرکے نمائندگی اور شرکت کا استحقاق رکھتے ہیں، حضرت مولانا مرغوب الرحمن بجنوریؒ کے زمانۂ اہتمام میں دار العلوم دیوبند کی مجلس شوری کے رکن اور جمعیۃ علماء ہند کے صدر حضرت مولانا اسعد مدنیؒ کی تحریک پر دار العلوم دیوبند میں رابطۂ مدارس کا قیام عمل میں آیا تھا، اس کے قیام کا سب سے بڑا مقصد ملک کے طول وعرض میں پھیلے ہوئے ہزاروں مدارس کو ایک لڑی میں پرونا اور باہم مربوط کرنا تھا، پھر اس ربط باہمی کے ذریعے انہیں نصاب ونظامِ تعلیم کی یکسانیت پر لانا تھا، ۱۹۹۵ء کے ایک کل ہند اجتماعِ مدارس عربیہ میں مجلس تعلیمی دار العلوم دیوبند کا مرتب کردہ آٹھ سالہ نصاب تعلیم پیش کیا گیا جس کو شرکاء اجلاس نے اتفاق رائے سے منظور کیا، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس وقت کے مہتمم اور صدر اجلاس مولانا مرغوب الرحمن صاحبؒ نے فرمایا تھا کہ ’’اس مشینی دور میں عام طور پر طبیعتیں محنت ومشقت کے بجائے سہولت پسند ہوگئی ہیں جس سے مدارس کے طلبہ مستثنیٰ نہیں ہیں، علاوہ ازیں نہ اب پہلے جیسے دل ودماغ ہیں نہ پرسکون ماحول، اس لئے عرصے سے یہ مطالبہ تھا کہ فن کی بعض وہ کتابیں جو ذہنی ورزش اور ریاضت کو چاہتی ہیں ان کی متبادل آسان کتاب تلاش کی جائے، فن تاریخ وسیرت کو جو خالص اسلامی فن ہے اس سے ہمارا نصاب خالی تھا کسی طرح اس نصاب میں سمونے کی کوشش کی گئی ہے اسی طرح کی بعض جزوی اصلاحات کی گئی ہیں، نصاب تعلیم ہمارے نظام کا اہم ترین جزء ہے، لہٰذا اس میں مستعدی کے ساتھ غور وفکر کی ضرورت ہے اگر اس کل ہند اجتماع میں نصاب کی یکسانیت پر ہم متفق ہوجائیں تو یہ ہماری بڑی کامیابی ہوگی‘‘۔ (خطبات صدارت مولانا مرغوب الرحمن صاحبؒ ص: ۱۲۰)۔
گذشتہ بائیس برسوں سے یہ نصاب دار العلوم دیوبند میں پڑھایا جارہا ہے، مربوط مدارس کی اکثریت بھی اس کا تتبع کرتی ہے، اگرچہ بعض مدارس اب بھی ایسے ہیں جو اسی قدیم نصاب تعلیم کو گلے لگائے ہوئے ہیں، جن میں فنون کی مشکل اور پیچیدہ کتابوں کی بھرمار ہے، نصاب تعلیم کے بعد نظام تعلیم کا مرحلہ آتا ہے، اس سلسلے میں بھی رابطۂ مدراس کے جلسوں میں گفتگو ہوتی رہتی ہے، صدر صاحب اور دوسرے مقررین مربوط مدارس کو گائڈ لائن بھی دیتے رہتے ہیں، تین سال قبل رابطۂ مدارس کی مجلس عمومی کے اجلاس میں موجودہ صدر مولانا ابو القاسم نعمانی نے اپنے خطبۂ صدارت میں نظام تعلیم کے کچھ کمزور پہلوؤں کی طرف شرکاء کی توجہ مبذول کرائی تھی اور بتلایا تھا کہ بعض مدارس نے نصاب میں غیر ضروری اختصار یا کانٹ چھانٹ کردی ہے جس سے طلبہ کی استعداد بہتر بنانا مشکل ہورہی ہے، بہت سے مدارس میں نصاب کی تکمیل پر توجہ نہیں ہے یہاں تک کہ ابتدائی درجات کی کتابیں بھی باقاعدہ اور پوری پڑھانے کا اہتمام نہیں ہے، بہت سے مدارس میں امتحانات کو مطلوبہ اہمیت حاصل نہیں ہے، اس خطبۂ صدارت میں نظامِ تربیت کو بہتر بنانے پر بھی زور دیا گیا تھا، مدارس کے نظام میں جو خرابیاں ہیں ان کو دور کرنے کی طرف بھی توجہ دلائی گئی تھی، مثلاً یہ کہ مدارس میں شورائی نظام ہو، اساتذہ وملازمین کی تنخواہوں کا معیار مناسب رکھا جائے، ذمہ داران مدارس اپنے عملے کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں، مدارس کا حساب صاف شفاف رکھا جائے، نئے مدرسین کی تدریسی تربیت پر بھی توجہ دی جائے، یہ اور ان جیسے کئی اُمور ہیں جن کا تذکرہ ہر اجلاس کے موقع پر خطبۂ صدارت میں اور خطبۂ صدارت کے بعد کی جانی والی تقریروں میں ہوتا رہتا ہے، یہ اچھی بات ہے کہ ہر اجلاس میں یہ آموختہ دہرایا جاتا ہے، کبھی تو یاد ہوگا اور کبھی تو ممبر مدارس اس پر عمل پیرا ہوںگے، اگرچہ فی الحقیقت یہ تشویش کی بات بھی ہے کہ اتنے سال گزرنے کے باوجود آج بھی مدارس کے ذمہ داروں کو وہ مقاصد یاد دلانے پڑتے ہیں جن کی تکمیل کے لئے رابطۂ مدارس کی بنیاد ڈالی گئی تھی۔
راقم بہت دنوں سے یہ رائے رکھتا ہے اور کئی مرتبہ وہ اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرچکا ہے کہ نام تو اس کا رابطۂ مدارس ہی ہو اس میں کوئی حرج نہیں ہے مگر اس کا مقصد صرف رابطہ ہی نہ ہو بل کہ جن اغراض ومقاصد کے لئے اس کا قیام عمل میں آیا ہے ان کی تکمیل بھی ہونی چاہئے، اس کے لئے ضروری ہے کہ اس کا ڈھانچہ پڑوسی ملک کے وفاق المدارس جیسا ہو، میں انتظامی ڈھانچے کی بات نہیں کرتا وہ آپ کیسا بھی رکھیں البتہ وفاق کا جو تعلیمی نظام ہے اس کو اپنانے کی کوشش ضرور کرنی چاہئے، جس میں نصاب تعلیم اور نظام تعلیم کی یکسانیت کے ساتھ ساتھ سالانہ امتحانات کا مشترک نظام بھی شامل ہے، یہ امتحانات وفاق کے تحت تمام مدارس میں بہ یک وقت منعقد کرائے جاتے ہیں، سوالات کے پرچے وفاق کے مرکزی دفتر سے بن کر آتے ہیں اور جوابات کی کاپیاں بھی اسی دفتر کو روانہ کی جاتی ہیں جہاں چنیدہ افراد ان کی جانچ کرتے ہیں، تمام مدارس کا نتیجۂ امتحان ایک ہی وقت میں شائع بھی کیا جاتا ہے، اگر رابطۂ مدارس بھی امتحانِ سالانہ کی یہ شکل اختیار کرلے تو بہت سے مسائل حل ہوسکتے ہیں، سب سے بڑی بات تو یہ کہ اس سے مطلوبہ استعداد سازی کا بہتر موقع ہاتھ آئے گا، نصاب تعلیم میں جو کانٹ چھانٹ کی جارہی ہے اس پر بھی پابندی لگ جائے گی، مقدارِ خواندگی میں جو کوتاہی ہورہی ہے وہ بھی نہیں ہوگی، معلوم ہوا ہے کہ رابطۂ مدارس کی مجلس عاملہ کے حالیہ اجلاس میں یہ معاملہ اٹھایا بھی گیا لیکن کچھ ایسے مدارس نے اسے چلنے نہیں دیا جو اپنی تعلیمی کمزوریوں پر پردہ ڈالے رکھنا چاہتے ہیں، حالاں کہ اگر مشترک امتحان کا سسٹم لاگو کردیا جائے تو اس سے ممبر مدارس کو یہ فائدہ ہوسکتا ہے کہ ان کے طلبہ داخلہ امتحان کے بغیر دار العلوم دیوبند میں داخلے کے مستحق ٹھہر سکتے ہیں، داخلے کے وقت دار العلوم دیوبند میں جو مارا ماری ہوتی ہے اس سے بھی نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔
ملک کے موجودہ حالات کے پس منظر میں مدارس عربیہ کے ذمہ داروں کے لئے ضروری تھا کہ وہ سر جوڑ کر بیٹھیں اور آئندہ کی حکمت عملی طے کریں، رابطے کے حالیہ اجلاس سے اس ضرورت کی تکمیل ہوئی ہے، ہمیں اس کا اعتراف کرنا چاہئے، چند روز قبل ہمارے سلسلے کے مشہور بزرگ اور عالم دین حضرت مولانا قاری صدیق احمد باندویؒ کے قائم کردہ مدرسے پر جو باندہ کے دور دراز گاؤں میں واقع ہے سرکاری ایجنسیوں نے جس طرح یلغار کرکے ذمہ داروں کو خوف ودہشت میں مبتلا کیا اسے مدارس کے لیے چیلنج سمجھنا چاہئے، یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے کہ ایک مشکوک شخص کی تلاش میں پورے مدرسے کو گھیر لیا جائے، یہ کام خاموشی کے ساتھ زیادہ اچھے طریقے پر ہوسکتا تھا، مدرسے کے ذمہ دار ہر حال میں سرکاری ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کرتے، اس صورت میں بھی انھوں نے تعاون کیا ہے، یہ حیرت انگیز بات ہے کہ مدرسے کے ذمہ داروں کو آمد وخرچ کے رجسٹروں کے ساتھ تھانے میں بلایا گیا، آخر مشکوک شخص کی تلاش کا حساب کتاب کے رجسٹروں کے ساتھ کیا تعلق ہے، ویسے بھی یہ کام انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کا ہے، مجھے نہیں معلوم کہ اس اجلاس میں باندہ کے حالیہ واقعے پر کچھ گفتگو ہوئی یا نہیں، البتہ صدر اجلاس نے اپنے خطبۂ صدارت میں علماء کرام اور ذمہ داران مدارس کو اس امر کی طرف خاص طور پر متوجہ کیا ہے کہ انہیں اپنے مدرسوں کی انتظامی اور فکری آزادی کی بقا کے لئے بیدار اور فکر مند رہنا چاہئے، کیوں کہ مدارس کا وجود اسی وقت تک ہے جب تک ان کی فکری اور انتظامی آزادی برقرار رہے، یہ بڑا اہم مشورہ ہے اور میرے خیال میں یہ مشورہ ہی اجلاس کا حاصل ہے، مقررین میں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے نظام تعلیم کی اصلاح اور طلبہ کی فکری تربیت پر توجہ دینے اور ان میں دینی حمیت پیدا کرنے کا مشورہ دیا، مولانا محمود مدنی نے مدارس کے داخلی نظام کو مضبوط اور محفوظ بنانے کی تلقین کی، مولانا سعید احمد پالن پوری نے ابتدائی تعلیم کو بہتر بنانے کی نصیحت سے نوازا، اور مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ مدارس کو برادران وطن سے ربط وضبط بڑھانا چاہئے، شرکاء اجلاس کے لئے یہ تمام مشورے اہمیت رکھتے ہیں اور ان پر عمل کرنا بے حد ضروری ہے، خاص طور پر موجودہ حالات میں ان مشوروں کو حرز جان بنانا وقت کا تقاضاہے۔
(بصیرت فیچرس)