نشہ آور اشیا ء کی کثرت ۔۔۔ایک لمحہ فکریہ

نشہ آور اشیا ء کی کثرت ۔۔۔ایک لمحہ فکریہ

مولانا محمد غیاث الدین حسامی
اللہ تعالی نے انسان کی غذا اورتفریح ِ طبع کے لئے انہی چیزوںکو متعین اور حلال کیا ہے جو انسان کی روح اور جسم کو فائدہ دیتی ہیں اور جو چیزیں انسان کے روح اور اس کے جسم کے لئے نقصاندہ اور مضرت رساںہیں انہیں حرام قرار دیا ہے ،انسانی صحت کا رازحلال اور پاکیزہ غذاؤں میں مضمر ہے، اسی لیےغذا سے متعلق اسلامی تعلیمات میں حفظانِ صحت کی پوری رعایت کی گئی ہے، اسلام کے وضع کردہ غذائی قوانین پر عمل پیرا ہونے سے انسان کی صحت پر خوش گوار اثرات مرتب ہوتے ہیں اور وہ قوی اور تندرست رہتا ہے، اور ساتھ ہی وہ مختلف متعدی امراض اورمہلک بیماریوں سے محفوظ رہ سکتا ہے،یوں توتمام چیزوں میں اصل حلت واباحت ہے مگرجن چیزوں کے بارے میں شریعت نے منع کیا ہے یاجن کے مفاسد یقینی اور واضح ہیںان کا استعمال انسان کے لئے واقعی مضر اور نقصاندہ ہے، چنانچہ اللہ نے قرآن مجید میں فرمایا’’ يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلَالًا طَيِّبًا وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ‘‘ ” اے لوگو!زمین میں جتنی بھی حلال اورپاکیزہ چیزیں ہیں انھیں کھاؤ پیو اورشیطان کی راہ پرنہ چلو،وہ تمہاراکھلا ہوا دشمن ہے” (البقرۃ ۱۶۸)اور فرمایا’’ حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيحَةُ وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ وَمَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَأَنْ تَسْتَقْسِمُوا بِالْأَزْلَامِ ذَلِكُمْ فِسْقٌ‘‘ تم پرحرام کیا گیا مرداراورنہتا ہواخون اورخنزیرکاگوشت اوروہ جانورجن پرغیر اللہ کا نام لیاگیا ہواوروہ جانور جوگلا گھٹنے سے مرا ہویا چوٹ لگنے سے مرا ہویا بلندی سے گرکر مرا ہو یا کسی دوسرے جانور سے سینگ مار کر ہلا ک کردیا ہو یا جسے درندوں نے پھاڑکھایا ہو؛لیکن تم اسے ذبح کے ذریعہ حلال کرڈالاہو (تووہ حرام نہیں) اورجو جانوربتوں کے لے ذبح کیا گیا ہو اوریہ کہ تم قرعہ کے تیروں کے ذریعے فال گیری کرویہ سب بدترین گناہ ہیں ” (المائدۃ۳)ایک دوسری آیت میں اللہ نے ارشاد فرمایا ’’ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ‘‘ اے ایمان والو! یقیناً شراب اور جوا اوربت اور فال نکالنے کے تیر یہ سب گندے شیطانی کام ہیں،ان سے بالکل الگ تھلک رہوتاکہ تم کامیاب ہو(المائدہ۹۰) اس آیت میں اللہ نے نشہ آور چیز کے متعلق چار باتیں ذکر کی ہیں (۱)اس کے لئے رجس کا لفظ استعمال کیاگیااور شریعت میں ہرقسم کے “رجس” (گندی) چیزوں اور کاموں کو حرام قرار دیاگیا ہے(۲)اور اس کو شیطانی عمل بتایا گیااور ہرشیطانی عمل شریعت میں قابل نفرت اور حرام ہے(۳)اور اس سے اجتناب کرنے کی تاکید کی گئی ہے اور اجتناب اسی چیز سے کیاجاتا ہے جو شریعت کی نظرمیں ناپسندیدہ اور حرام ہو(۴) کامیابی اور فلاح کا دارو مدار ترک منشیات پررکھا ہےگویا نشہ آور چیزوں کا استعمال حرام ممنوع ہےورنہ کامیابی کو ترک منشیات پہ موقوف نہ کیا جاتا ، اس کے علاوہ بہت سی آیات اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ انسان کے لئے ہر چیز چاہے بطورِ غذا ہویاتفریحِ طبع کے لئے ہو حلال نہیں ہے جو چیزیں اس کی صحت کے لئے نفع بخش ہیں اس میں اصل حلت ہے اور جو چیزیں اس کے لئے نقصان د ہ ہیں اس میں اصل حرمت ہے۔
شریعت ِ مطہر ہ نے جن چیز وں کو انسان کے لئے حرام قرار دیا اور جو چیزیں انسان کے روح و جسم کونقصان پہنچانے والی ہیںان میں ایک نشہ آور چیز بھی ہے ،( ہم نے لفظ ’’ نشہ آور ‘‘ اسلئے کہا ہےتاکہ اس میں وہ تمام چیزیں آجائے جو شراب کے علاوہ ہیں ،اور آج معاشرے میں سب سے زیادہ استعمال کی جارہی ہیں: جیسےشراب، تمباکو، نشیلی بیڑی،نشیلی سگریٹ،گٹکھا،گانجہ،سیندھی،بھنگ،چرس،کوکین، حقہ،افیم ،ہیروئین،وہسکی،سیمپین،بئر،ایل ایس ڈی،حشیش ، شراب چاکلیٹ وغیرہ )عربی زبان میں نشہ آور چیز کے لئے ’’ مُسْکِرٌ‘‘کا لفظ استعمال کیا جاتاہے، اور جمہور کے نزدیک ’’ خَمْرٌ‘‘کا لفظ بھی ہر نشہ آور چیزکےلئے بولا جا تا ہے ، حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے خمر کی حقیقت ان الفاظ میں بیان کی ہے ’’ والخمرُ ما خَامَرَ العقلَ‘‘ خمر وہ ہے جو عقل کو ڈھانپ لے( یعنی بےکارکردے)(صحيح البخاری، باب الخمر من العنب، حدیث نمبر ۵۵۸۱) اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’كل مُسكِر خمرو كل مسكر حرام‘‘ہر نشہ آور چیزخمر ہے او رہر نشہ آور چیز حرام ہے(مسلم شریف ، باب بیان ان کل مسکر خمر، حدیث نمبر۲۰۰۳)ان احادیث میں منشیات کی وہ تمام اقسام کو حرام قرار دیا گیا ہے جو انسانی عقل اور اعصاب پر اثر انداز ہوتے ہیں، اور اس کے استعمال کی وجہ سے انسان مہلک بیماریوں میں مبتلاہوتا ہے ،اس کے علاوہ قرآن و حدیث میں نشہ آور چیزوں کے استعمال کی خوب مذمت کی گئی ہے ، اسے نجس و ناپاک اور قابل نفرت شیطانی عمل قراردیاگیا ہےاور اس سے بچنے اور اجتناب کرنے کا سختی سے حکم دیاگیا ہے ، اور اس کے استعمال کرنےوالوں کے لئے سخت وعیدیں سنائی گئی ہیں، چنانچہ قرآن مجید میں اللہ رب العزت نےفرمایا’’ إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ‘‘شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے سبب آپس میں تمہارے درمیان بغض و عداوت کے بیج بوئےاور تمہیں( اسی میں مشغول رکھ کے ) اللہ کےذکر اور نماز سے روک دے تو کیا تم(ان چیزوں سے)بازنہیں آؤگے( یعنی ان چیزوں سے باز آجاؤ)(المائدہ۹۱)اور رسول اللہ ﷺ نے اپنی حدیث میں فرمایا ’’الْخَمْرُ أُمُّ الْخَبَائِثِ فَمَنْ شَرِبَهَا لَمْ تُقْبَلْ مِنْهُ صَلَاتُهُ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، فَإِنْ مَاتَ وَهِيَ فِي بَطْنِهِ مَاتَ مَيْتَةً جَاهِلِيَّةً‘‘شراب تمام برے کاموں کی جڑ ہے؛ لہذا جو شخص اس کو پئے گا اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں ہوگی اور اگر وہ اسی حالت میں مرے گا تو وہ زمانۂ جاہلیت کی موت مرے گا ( المعجم الاوسط ، باب من اسمہ شباب، حدیث نمبر ۳۶۶۷)اسی طرح حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شراب پیے گا اللہ تعالیٰ اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں کرے گا اور اگر وہ توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ معاف کرے گا۔اور اگر وہ دوبارہ پیتا ہے تو اللہ تعالیٰ چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں کرے گااور اگر وہ توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ معاف فرمائے گا،پھر اگر وہ پیتا ہے تو چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں کرے گااوراگر توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے معاف کرے گا،اور اگر وہ چوتھی بار پیتا ہے تو اللہ تعالیٰ چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں فرمائے گا اور اگر وہ توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ بھی قبول نہیں کرے گااور اس کو نہر خبال سے پلائے گا ، نہر خبال کے بارے میں لوگوں نے دریافت کیا تو آپ ؓ نے فرمایا یہ جہنمیوں کے پیپ کی نہر ہے اس سے اللہ شرابی کو پلائے گا (ترمذی،باب ماجاء فی شارب الخمر ، حدیث نمبر۱۸۶۲)حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرمُسْکِر( نشہ آور) اور مُفَتِّر(اعضاء کو بےکار اور مختل کرنے والی)چیز سے منع فرمایا(ابو داؤد، باب النہی عن المسکر، حدیث نمبر۳۶۸۶)حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ جو کوئی والدین کی نافرمانی کرنےوالا،صدقہ دے کر احسان جتانےوالا اور عادی شرابی ہے جنت میں داخل نہیں ہوںگے(دارمی باب فی مدمن خمر ، حدیث نمبر۲۱۳۹)حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ سے روایت ہے کہ ایک شخص یمن کے مقام جیشان سےآپ ﷺ کی خدمت میں حاضرہوئے اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شراب کے بارے میں پوچھا جو ایک اناج سے نکالاجاتا تھاجسے مِزَر کہا جاتا تھا اور وہ ان کے ملک میں پی جاتی تھی،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ کیا اس میں نشہ ہے؟ تو اس نے جواب دیاہاں!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نشہ آور چیز حرام ہے،بے شک اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ جو کوئی نشہ آور چیزپیے گا تو اس کو طِیْنَۃُ الخَبَال سے پلایا جائے گا،انہوں نے پوچھا اے اللہ کے رسولﷺ یہ طِیْنَۃُ الخَبَال کیا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنمیوں کا پسینہ یا پیپ ہے(مسلم شریف، باب بیان ان کل مسکر خمر ، حدیث نمبر ۷۲)
محققین اور علمائے کرام نے بھی منشیات کے برے اثرات پر طبی ومذہبی نقطہ نظر سے روشنی ڈالی ہے،علامہ ابن حجرؒنے کئی محققین سے حشیش (نشہ آور چیزوں )استعمال کرنے کے 120طبی اور روحانی نقصانات بیان کیے ہیں،ابن سینا کہتے ہیں کہ نشہ آور چیزوں کے استعمال سے بڑی مقدارمیں منی خشک ہوجاتی ہےاور اس طرح آدمی کےقوتِ مردانگی کو ختم کردیتی ہے،ابن بیطار کہتے ہیں کہ بعض لوگوں نےنشہ آور چیزوں کا استعمال کیا تو وہ پاگل ہوگئے،علامہ ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں جو نقصانات شراب میں پائے جاتے ہیں اس سے زیادہ حشیش (نشہ آور چیزوں ) میںپائے جاتے ہیں ،کیوں کہ شراب کے اکثر نقصانات دین کو متاثر کرتے ہیں، مگر حشیش دین اور جسم دونوں کو متاثر کرتا ہے( بحوالہ منشیات کے استعمال کے نقصانات)مولانا ادریس کاندھلویؒ اپنی تفسیر معارف القرآن میں شراب کےکئے نقصانات ذکر کئے ہیں (۱)نشہ کرنے سے انسان کی عقل پر پردہ پڑجاتاہے اور اس کی عقل بے کار ہوجاتی ہے (۲)شرابی کی زبان اور اعضا ء اس کےاختیار اور قابو میں نہیں رہتے، اس سے غیر معتدل حرکتیں سرزد ہوتی ہیں، اور اس کے ہوش و حواس بالکل ختم ہوجاتےہیں ،اور اپنے افعال و اقوال کے عواقب سے بے پرواہ ہوجاتا ہے (۳) شراب انسان کے اندر حیوانی جذبہ کو بڑھا وا دیتی ہیں بسا اوقات نوبت یہاں تک پہونچتی ہے کہ دامنِ عفت و عصمت کوداغ دار کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتاہے، اور صنفی آوارگی اور جنسی خواہش کی تکمیل پر آمادہ ہوجاتاہے (۴)شراب کی وجہ سے انسان عبادت اور ذکر الہی سے بالکل غافل ہوجاتا ہے؛ بلکہ فرائض ِ زندگی کی بھی اس کے نزدیک کوئی قدر و قیمت نہیں رہتی (۵)شراب مال و دولت کی بربادی کا سبب ہے ، زندگی بھر کا تمام مال شراب کی نذر ہوجاتا ہے ، بسا اوقات اس قدر تنگی ہوجاتی ہے کہ آدمی خود کشی کی طرف مائل ہوجاتا ہے یا دوسرے جرائم کو کرنے پر آمادہ ہوتا ہے(۶)شراب خوری باہمی دشمنی اور عداوت کا سبب بنتی ہے اور آپسی تعلقات میں بگاڑ پیدا کرتی ہےاور ہر شریف النفس آدمی شرابی سے نفرت کرتا ہے (۷)شرابی کی طبیعت جادۂ اعتدال سے منحرف ہوجاتی ہے اور اس کے تمام جسمانی قوتیں کمزور ہوجاتی ہیں ،نتیجتاً وہ مختلف بیماریوں میں مبتلاء ہوجاتاہے (۷)شرابی قویٰ کی کمزور ہونے کی وجہ سے اکثر کام کاج سے جی چراتا ہے ، بغیر شراب کے کا م نہیں کرسکتا (معارف القرآن ، سورہ ٔ مائدہ ۹۰)یہ اور اس جیسے بہت سارے اسباب ہیں جس کی وجہ سے شریعت مطہرہ نے شراب اور ہر نشہ آور چیز کوچاہے تھوڑی ہو یا زیادہ بالکل حرام قراردیاہے ، یہاں پر کسی کو یہ اعتراض نہیں ہونا چاہئے کہ نشہ آور چیزیں تھوڑی مقدار میں استعمال کرنے کی وجہ سے نشہ نہیں چڑھتا اور عقل صحیح رہتی ہے ، یہ عذر عذرِ لنگ ہے کیونکہ روز تھوڑی تھوڑی استعمال کرنےسےجسمانی صحت پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں ، پھر یہ کہ اسلام میں ہر مضر چیز چاہئے تھوڑی ہو یا زیادہ اس سے منع کیاگیا جیسے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ’’ما أسكرَ كثيرُهُ ، فقليلُهُ حرامٌ‘‘جو چیز زیادہ مقدار میں نشہ دیتی ہے تو اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے(ترمذي، باب ماجاءمَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ، حدیث نمبر۱۸۶۵)
منشیات سے مراد ایسی دوائیں ہیں جن کے استعمال سے سرور و انبساط کی کیفیت محسوس ہو، دنیا سے بے نیازی اور بے خودی کی کیفیت طاری ہو جائے اور نیند، بے ہوشی، مدہوشی اور بدمستی طاری ہو کر تمام دکھ درد بھول جائیں،ابتداء میں تو سکون کا متلاشی بے انتہا فرحت محسوس کرتا ہے مگر جب نشہ ختم ہوتا ہے تو اس کی طلب پھر بے چین کر دیتی ہے اور اس کے حصول کے لئے وہ پھر کوشاں ہو جاتا ہے،یہاں تک کہ اس کی زندگی کا مقصد ہی نشہ کرنا رہ جاتا ہے ،پھر جب کثرتِ مئی خوری اور نشہ آور چیزوں کی عادت پڑجاتی ہے تو اس سے سیکڑوں امراض پیدا ہوتے ہیں جو انسانیت کے لئے سمِ قاتل ہیں، شراب، تمباکو،بیڑی، نشیلی سگریٹ،گٹکھا،گانجہ،چرس ، شراب چاکلیٹ وغیرہ سےپیدا ہونے والی بیماریوں میں حلق کی خرابی،جگرکی خرابی،امراض قلب،اسقاط حمل،قلت عمر،معدہ کازخم،فاسد خون،تنفس کی خرابی،ہچکی،کھانسی،پھپھڑوں کی سوجن،کینسر،سردرد،بے خوابی،دیوانگی، ضعف اعصاب،فالج،مراق،ہارٹ اٹیک،ضعف بصارت،دمہ، ٹی بی، خفقان،ضعف باہ،بواسیر،دائمی قبض،گردے کی خرابی،ذیابطیش وغیرہ اہم بیماریاں ہیں، ان میں بعض ایسی بیماریاں ہیں جو انسان کو موت کے منہ میں ڈھکیل دیتی ہیں،ماہر اطباء کے قول کے مطابق تمباکو میں تین خطرناک قسم کے زہریلے اجزاء کی ملاوٹ ہوتی ہے، ان اجزاء میں ایک روغنی اجزاء سے بناہوا نیکوٹین ہے،اگر اس روغن کو نکال کراس کا صرف ایک قطرہ کتے ،بلی یا کسی بھی جانور کو کھلایا جائے تو فورا وہ موت کے منہ میں چلا جائے گا۔
منشیات اس وقت دنیا کا سب سے بڑا سنگین مسئلہ ہے، پوری دنیا میں اس کے خلاف مہم چلا رہی ہے ، ان کےا سمگلروں کو سزائے موت دی جاتی ہے، جیلوں میں ڈالا جاتا ہے، جائیداد ضبط کی جاتی ہے، ان کے استعمال کو روکنے کے لئے تقریباً ہر ملک میں سرکاری اور خانگی ، مذہبی اور ملی تنظیمیں کام کررہی ہیں؛ لیکن یہ لعنت دبے پاؤں کینسر کے مرض کی طرح بڑھ رہی ہے اس میں کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں؛ لیکن اگر سنجیدگی سے اس مسئلہ کا حل تلاش کیاجائے تو بڑی حد تک اس پر قابو پایا جاسکتا ہے ،اوراس کےسدِ باب کے لئے چند اسباب اختیار کرنا ناگزیر ہے ،(۱)سب سے پہلے تو منشیات کی خرید و فروخت پر پابندی لگانا ضروری ہے ، اگر حکومتی سطح پر یہ کام نہیں کیا گیا تو تمام تنظیموں اور جماعتوںکی طرف سے جتنی اجتماعی طورپر آوازیں اٹھا ئی جائیںگی وہ سب صدا بہ صحرا ثابت ہونگی ،کاش حکومت ذرائع آمدنی کی طرف نظر نہ کرکے اس کےمفاسد اور نقصانات کی طرف نظر کرتےہوئے اس پر پابندی لگاتی تو آج معاشرے سے اس لعنت کو جڑ سے اکھاڑنے میں بڑی حد تک مدد ملتی، (۲)سرکاری یا خانگی ذرائع ابلاغ کے ذریعے منشیات کی ہر قسم کی تباہ کاریوں کو اتنا تسلسل کے ساتھ پیش کیا جائے کہ عوام کے دلوں میں اس کی نفرت بیٹھ جائے ، الیکٹرانک میڈیا اور ریڈیو کے ذریعہ بے ہودہ فلمیں اور بے حیا ڈرامیںدکھانے کے بجائے منشیات کے نقصانات دیکھا ئے جائے اور ایسے پروگرام ترتیب دئے جائےجس میں معاشرتی برائیوں خصوصا منشیات کی روک تھام کی طرف توجہ ہواور اس سے ہونے والے معاشی اور معاشرتی نقصانات کو اجاگر کرے وقتاً فوقتا ماہرین تعلیم، ڈاکٹروں، طبیبوں، ماہرین نفسیات، علما، دانشور اور صحافیوں کو اپنے خیالات پیش کرنے کے لئےمدعوکریں ، محکمہ صحت اور محکمہ بہبود کی جانب سے منشیات کے خلاف مؤثر اشتہارات دئیے جائیں(۳)ہر روزہ یا ہفت روزہ اخبارات اور ماہانہ رسائل و جرائد منشیات سے ہونے والے تباہ کاریوں کو واضح کرنے اور اس سے قوم کو بچانے کے لئے بھرپور کردار ادا کریں،اداریے،مراسلات، مضامین، انٹرویوز، مذاکرات، کارٹون، مزاحیہ اور سنجیدہ کالموں میں ان پر خوب لکھا ئے ، منشیات خاطی حضرات کو دی گئی سزاؤں کو بڑی سرخیوں کے ساتھ شائع کریں، ان کے منفی پہلو واضح کریں۔(۴) سرکاری اور خانگی اسکول و کالج اور یونیورسٹی کےنصاب تعلیم میں ایسے مضامین شامل کئے جائیں جو منشیات کے خلاف ہو ، اور اس کو ماہر ین تعلیم سے پڑھایا جائے (۶)اور سب سے اہم کام جو سب کے لئے ضروری ہے وہ ہے دین اسلام کے ساتھ گہرا تعلق ، جتنا دین سے تعلق مضبوط ہوگا اسی قدر لغویات، لہو و لعب اور منشیات سے بچنا آسان ہوگا اس کے لئے قرآن و سنت کی تعلیم عام کیا جائے،اوراس سے ہونے والے فوائد سےتمام عالم انسانی کو آگاہ کیاجائے، حقیقت یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات میں ہی تمام پریشانیوں کا حل موجود ہے۔
(بصیرت فیچرس)