بابری مسجدسے کشمیر تک روی شنکرکامکروفریب

بابری مسجدسے کشمیر تک روی شنکرکامکروفریب

عبدالرافع رسول
سرزمین کشمیر بطل کاشمیراں کے خون سے تربترہے ۔ لہو ارزان ہے۔شہر شہر، گائوں گائوں، قریہ قریہ آہ وفغان ہے۔بستی بستی انگشت بدنداں ہے۔جنازے کندھوں سے اترنے کانام ہی نہیں لے رہے ۔ادھرآصفہ ایک درندے کی بھینٹ چڑھ جانے اورپھراس درندے کوبچانے کے لئے کنول بردار وںکالشکرسامنے آنے سے ہرسوماتم کا سماںہے۔کشمیریوں کو سنگ باز کے نام پر، کہیں آتنک واد کی دہائی دیکر اور کہیںبالائی ورکر قراردے کرمرغ بسمل کی طرح پھڑکایاجارہاہے۔ابھی شوپیان کے پانچ نوجوانوں کی تربتوں کی مٹی گیلی ہے کہ12مارچ کوپھرچارنوجوانوں کے جنازے اٹھے کہ عین اسی موقع پر جموری تماشے سے چنے گئے ہیں۔کٹھ پتلی انتظامیہ کاوزیر کشمیرتنازعے سے صاف منکرہوکرکہنے لگے کہ کشمیرسرے سے ہی کوئی جھگڑانہیںیہ صاف طورپربھارتی فیڈریشن کاحصہ ہے۔کٹھ پتلی سرکارمیں شامل یہ وزیر کشمیرتنازے سے متعلق ثابت شدہ اورخونین تاریخی حقیقت کو جھٹلاکرمودی کوتشفی پہنچاناچاہتاتھا۔ دوسری طرف شری روی شنکر اہل کشمیرکواپنے ان تمام جانی ومالی قربانیوںجو انہوں نے گذشتہ اڑھائی عشروںکے دوران پیش کیںکوبھلانے کامشورہ دے ڈالا ۔ ہندوئوں کے مذہبی لیڈر روی شنکرکوبابری مسجدکے حوالے سے بھارت کی مسلم قیادت نے گھاس نہ ڈالی تواسے کشمیری مسلمان یادآگئے اورانہیں صبروتحمل کے ساتھ اپنی تمام قربانیاں،اپنامشن بھلانے اورآزادی کی جدوجہدترک کرنے کادرس دینے کے لئے دوڑے دوڑے سری نگرپہنچے۔
روی شنکر بھارت کے مسلمانوں کواس حدتک فاطرالعقل سمجھتے ہیں کہ انہیں یہاں تک کہہ دیا کہ آپ مسجد انہیں نہیں سونپیں گے جنہوں نے بابری مسجد شہید کی ہے بلکہ ان ہندوستانیوں کو سونپیں گے جو ہندوستان کو امن کا گہوارہ دیکھناچاہتے ہیں اور آپ کا یہ سونپنا وسیع القلبی اور بھائی چارے کی اعلی ترین مثال ثابت ہوگی ۔مگرساتھ ہی متنبیہ کردیاکہ اگر عدالت فیصلہ مسلمانوں کے حق میں کرتی ہے تو پانچ سو سالوں سے رام مندر کی لڑائی لڑنے والے اکثریت کے لیے کڑوی گولی ہوگی ایسے حالات میں خون خرابہ ہوگا۔ مسلمان چونکہ امن پسند ہیں وہ دستبردار ہوجائیں اور عدلیہ کے فیصلے کا انتظار چھوڑ کر باہر فیصلہ کرلیں تاکہ ملک میں خون خرابہ نہ ہو۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ ایودھیا مسلمانوں کے لیے مرکز عقیدت نہیں ہے برخلاف ہندووں کے، وہ اس جگہ سے دلی تعلق رکھتے ہیں۔مولاناسلمان ندوی سے ملاقات کرکے اوران سے حنبلی مسلک پرفتوی لیکرروی شنکرنے علماء ہنداورمسلم پرسنل بورڈ میں دراڑ ڈالنے اورتشکیک کی ایسی خلیج پیداکرنے کی کوشش کی جسے پاٹنے کے لئے مولاناسلمان ندوی کووضاحتی بیانات دینے پرلگادیا تادم تحریر جن کاتسلسل جاری ہے۔بابری مسجدکمیٹی، مسلم پرسنل لا ء بورڈ اور مولانا سلمان ندوی کے مابین جو واقعات پیش آئے اس حوالے ہر طرف سے سوالات کی بوچھار اب بھی جاری ہے۔
اپنا سکہ جمانے اور اپنی دھاک بٹھانے کے لئے سرگرداںمولاناسلمان ندوی کومسلم پرسنل لاء کے حلقے میں مشکوک بناکرروی شنکرنے 6 مار چ 2018منگل کوانڈیا ٹو ڈے اور این ڈی ٹی وی‘‘ کو یکے بعد دیگرے اپنے انٹرویوز کے دوران کہا کہ اگر ایودھیا میں بابری مسجدکاتنازع حل نہیں ہوا تو پھر انڈیا میں شام جیسے حالات ہو جائیں گے۔شری شری روی شنکر کاکہناتھاکہ اگرانڈیاکاسپریم کورٹ یہ فیصلہ دیتا ہے کہ متنازع جگہ بابری مسجد ہے تو کیا لوگ اس بات کو باآسانی اور بخوشی قبول کر لیں گے؟ یہ 500 سال سے مندر کے لیے لڑنے والی اکثریتی برادری کے لیے تلخ گولی ثابت ہو گی۔ ایسے میں کشت و خون بھی ہو سکتا ہے۔اس لئے مسلمانوں کو خیر سگالی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایودھیا پر اپنا دعوی چھوڑ دینا چاہیے۔ ایودھیا کا معاملہ مسلمانوں کی عقیدت سے منسلک نہیں ہے۔ہندووں کے اس پیشواکاکہناتھاکہ اگرسپریم کورٹ نے مندر کے حق میں فیصلہ دیا تو پھر مسلمان شکست خوردہ محسوس کریں گے۔ ان کا عدلیہ سے یقین اٹھ سکتا ہے۔ ایسے میں وہ انتہا پسندی کی جانب جا سکتے ہیں اور ہم امن چاہتے ہیں۔اسکاکہناتھاکہ اسلام میں متنازع مقام پر عبادت کی اجازت بھی نہیں ہے جبکہ بھگوان رام کہیں اور پیدا نہیں ہو سکتے۔ سوشل میڈیا پر روی شنکر کی جانب سے انڈیا میں شام جیسے حالات پیدا ہونے یا خانہ جنگی کی بات پر مباحثہ جاری ہے۔
اسی بحث ومباحثے کے دوران 10مارچ کوروی شنکر امن کے بھاشن دینے کے لئے واردوادی کشمیرہوئے۔ ایک غیرمعروف این جی اونہ معلوم اسکی تارکہاں سے ہل رہی ہے جموں و کشمیر کارڈنیشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے روی شنکرکایہ کہناکہ ماضی کوبھلاکرآگے چلیں اوروہ ثالث بنیں گے سمجھ سے بالاتر بات ہے ۔ کشمیر کے لوگ تکلیف میں ہیں اور وہ انہیں سننے کے لئے یہاں آئے ہیں۔ لیکن وہ اس بات کوبھول رہے ہیں کہ اسے قبل کئی بارانہوں نے کشمیریوں کی سسکیوں ،آہوں اورچیخوںکوسننے کے لئے واردکشمیرہوئے ۔کیاشری روی شنکر کوگذشتہ ستربرسوں سے بالعموم اورگذشتہ اٹھائیس برس سے بالخصوص کشمیریوںکی بے چینی اوریہاں قائم بدامنی کی اصل وجوہات کاعلم نہیں۔؟؟ یہیں سے پتہ چلتاہے کہ سابق آئی بی چیف دینیشوراورشری شنکرایک ہی سکے کے دورخ ہیں۔دونوںایک ہی ایجنڈے پرکام کررہے ہیں۔شری شنکرجب پچھلی دفعہ گیلانی صاحب سے ملے تھے تواس وقت شائدان کے کانوں میں سیسہ پڑاتھاسچ یہ ہے کہ شری روی شنکرنے بزرگ کشمیری قائدکے بیان کردہ بیانیہ سے جان بوجھ کران سنی کردی اوروہ اب کی بارکشمیریوں سے کیاسنناچاہتے ہیں یہ سب دجل اور مکروفریب ہے۔ڈل جھیل کے کناروں پر واقع کنونشن کمپلیکس کے احاطے میں منعقدہ ’’پیغام محبت تقریب‘‘ مکروفریب کی محفل سے تقریرکرتے ہوئے روی شنکر کاکہناتھاکہ کشمیرمیں محبت کا ماحول پیدا کرنے کے لئے میں ہر ایک تعاون چاہتا ہوں۔ کشمیریوں کو پرانی یادوں کو بھول کر آگے بڑھنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہاکہ ہمیں آگے بڑھنا چاہیے۔ ہمیں مثبت سوچ لیکر آگے بڑھنا چاہیے۔ میں محبت کا پیغام لیکر آیا ہوں۔ روی شنکرکاکہناتھاکہ وہ چاہتے ہیں کہ کشمیر بھی سوئزرلینڈ کی طرح ایک پرامن خطہ بن جائے۔تاہم سری نگر میں واقع کنونشن کمپلیکس کے احاطے میں میںاس وقت عجیب سماں چھاگیاکہ جب شری روی شنکر کے پروگرام پیغام محبت کی شرکاء نے احتجاج کرتے اورآزادی کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے کہ انہیں دھوکے سے مذکورہ پروگرام میں شرکت کے لئے لایا گیا۔ کشمیر کی آزادی کے حق میں نعرے بازی کرتے ہوئے تقریب کے دوران سینکڑوں لوگ درمیان میں ہی اٹھ کر چلے گئے۔ سوال یہ ہے کہ لکھنوسے لیکرکشمیرتک روی شنکریہ ڈرامہ بازیاں کس کے اشارے پر کررہے ہیں ۔ لیکن یہ امرتوطے ہے کہ کشمیرکے عوام ان ڈرامہ باز گرو کی شعبدہ بازیوں سے پوری طرح با خبرہیںاوروہ روی شنکرکے آر ایس ایس کے ایجنڈے کواچھی طرح سمجھتے ہیں۔
برصغیرکے مسلمانوں کے فہمیدہ فکراویہ ہوش طبقے کواس امرکا یقین تھا کہ ہندوئوں کی جانب سے سرزمین ہندوستان کو شام بنانے کااعلان سنناپڑے گا ۔اس کی بہت سی وجوہات تھیں آر ایس ایس ممبران ،میڈیا ،بی جے پی ورکر اور مسلمانوں کو نقصان پہچا کر روزگار کمانے والے اور اپنی جیب گرم کرنے والے گا رکشک، شمبھو لال جیسے سرپھروں کے ذریعہ ایسے بیانات بار بار دلاہے گئے کہ ہندوستانی مسلمانوں کا جینا حرام ہو جائے اور بہت حد تک یہ ہوا بھی ۔تیسرے درجے کے شہری بن جا ،پاکستان جا ، قبرستان جا جیسے نعرے بھی مسلم مخالفت میں لگائے گئے۔منہ مت کھولو ،زبان بندی کے بعد طلاق اور شریعت پر حملہ ہوا .اور اب بابری مسجد کے بہانے بھارتی مسلمانوں کے قتل عام کا کام باقی رہ گیا تھااور شری شری روی شنکر کو اس پیغام کے پہچانے کی ذمہ داری سونپی گئی اب اس بیان کا ایک واضح پہلو تو یہ ہے شری شری روی شنکر سے لے کر سارا انڈیا یہ جان چکا ہے کہ مسلمانوں کی مخالفت میں آر ایس ایس کیسے کیسے منصوبے بنا رہی ہے اور یہ بھی کہ آئندہ منصوبوں کے پیش نظر مسلمانوں کو کس حد تک کمزور کیا جا سکتا ہے ۔
واضح رہے کہ کانگریس کے دور میں جب بابری مسجد کو لے کر فیصلہ آیا تو تین ججوں میں ایک جج مسلمان بھی تھے سبغت اللہ خاں کی حیثیت دراصل اس پورے معاملہ میں اس معصوم اورسہمے ہوئے مسلمان کی تھی جو تاریخی حقائق کی جگہ حکومت اور ماحول کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور تھا۔ وہ اس خطرے کا تجزیہ نہیں کرسکے جو اس غلط فیصلے کے بعد اس ملک کے مسلمانوں کو نفسیاتی سطح پر کمزور کرنے کے لیے کافی تھا۔ بلکہ یہ بھی کہنا چاہئے کہ وہ اس فیصلے سے قبل کی تاریخ پر بھی غور نہ کرسکے جس نے آزادی کے بعد سے ہی بھارتی مسلمانوں کو حاشیے پر ڈالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ فیصلہ آنے سے قبل ہی آر ایس ایس اور ہندو مہا سبھا جیسی تنظیموں نے کہنا شروع کردیا تھاکہ اگر فیصلہ ان کے حق میں نہیں آتا ہے تو وہ اسے قبول نہیں کریں گے۔ اور اس کے بعد اگر پورے ملک میں گجرات جیسا ماحول پیدا ہوتا ہے تو یہ ان کی ذمہ داری نہیں ہوگی۔ تو کیا مرکزی اور ریاستی حکومت آر ایس ایس اور ہندو مہاسبھا جیسی تنظیموں سے خوفزدہ تھی؟ فیصلہ سے تین دن قبل تک حکومت اور میڈیا دونوں نے یہ ماحول بنانے کی کوشش کی تھی کہ فیصلہ مسلمانوں کے حق میں ہوگا۔ وہ تاریخی فیصلہ جس کے انتظار میں 18 برس لگے تھے۔
انڈیاکوشام بنانے کی دھمکی دینے والوں کے علم میں ہوناچاہئے کہ اس خاکستر میں ابھی چنگاریاں موجود ہیں۔ اگر آج بھی کوئی جلیل القدر فاتح حکمران کمر سے تیغ آبدار لٹکائے، اپنا نیزہ لہراتا، اسپ تازی کو اپنی رانوں سے مہمیز دیتا طلوع ہو تو آداب غلامی سے آشنا یہ رعایا اس کی راہ میں آنکھیں بچھائے گی اور اس کے ہاتھ پر بیعت کرنے میں دیرنہیں کرے گی کہ اس کا ماضی بہادرمجاہدوں اور فاتح کمانڈروں کی ذرہ پوش یادوں کا اسیر ہے۔ مجبوری اپنی جگہ، مگرجس قوم نے بہادر جرنیل کمانڈر پیدا کئے، صلاح الدین ایوبی جیسے شجاع افراد پیدا کئے، انہوں نے لوگوں کے قلوب پر حکومت کی، ان کی فتوحات کا سلسلہ عظیم الشان ہے، پوری اسلامی تاریخ قربانیوں، ایثار، محبت، بہادری، صبر و ضبط کے واقعات سے بھری پڑی ہے،توشری روی شنکر کو اس پر ایک نگاہ ضرور ڈالنی چاہیے، پھر اس طرح گفتگو کے بارے میں سوچنا چاہیے۔
اہل ہند جواب دیں۔ کیا تمہاری سرزمین ہمارے پرکھوں کی مفتوحہ کنیز نہیںتھی؟ کیا ہمارے اسلاف نے تم ان گھڑوں کو تہذیب سکھانے کیلئے اپنا وطن نہیں چھوڑا؟ کیا ہمارے آبا نے تمہیں آداب غلامی نہیں سکھائے؟ کیا تم نے اپنے ان محسنوں کی اطاعت نہیں کی؟ کیا تم لوگوں نے صدیوں بیرونی حملہ آوروں کی جوتیاں سیدھی نہیں کیں؟ ہمارا جد امجد ظہیر الدین بابر سولہویں صدی عیسوی میں اپنی فوج کے ہمراہ یہاں آیا اور تمہاری سرزمین فتح کر کے اپنا تسلط قائم کرنے کی بنیاد رکھی۔ خوئے غلامی یونہی تو تمہاری سرشت میں شامل نہیں ہوئی۔ کہنا آسان ہے، مگر سترہ حملے کیے تھے محمود غزنوی نے، دسویں اور گیارہوں صدی عیسوی میں سترہ حملے… تب وہ خون کے دریا بہا کر یہاں اپنی سلطنت قائم کرنے میں کامیاب ہوا تھا۔ غلاماں، خلجی، تغلق، سیدی، لودھی، مغل… کس کس نے تمہیں نستعلیق اخلاقیات نہیں سکھائیں اور کس کس نے تمہیں کشتہ سلطانی و ملائی و پیری نہیں کھلایا؟ یہاں کے آخری تاجدار ہم مغل تھے۔ ہم ہندوستان اور تاریخ کے حافظے سے کبھی محو نہ ہوں گے کہ اس قوم کی تعمیر میں ہمارے پرکھوں کی صدیوں کی ریاضت شامل ہے۔
بہرکیف!کشمیرمیں آپسی بھائی چارہ کب عنقا تھاجسے زندہ کرنے کے لئے روی جی کوکشمیرآناپڑا۔البتہ یہ ضرورہے کہ انہیں کشمیریوں کاقتل عام رکوانے اورقاتل بھارتی فوجیوں کوسزادلوانے کے لئے دہلی کے معروف مقام جنترمنترپرتادم مرگ بھوک ہڑتال’’ مرن بھرت‘‘ رکھتے اورپری دنیاکوبتاتے کہ وہ ان کشمیریوں کوبچانے نکل پڑے ہیں کہ جن کاآپسی بھائی چارے کی کوئی مثال نہیں ملتی ہے۔پرافسوس کہ جنگی صورت حال کاسامناکرنے والے مظلومین جو یحاََنہتے ہیں، بے بس ہیں،بے سروسامان ہیں ،ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں ،حقیقی امن کی تمنا میںجن کی آنکھیں پتھرا چکی ہیںہی کو بدامنی کی تباہ کاریاں سمجھائی جارہی ہیں۔ امن کے راگ الاپنا تو سب کو آتا ہے لیکن اس بدامنی کی حقیقی وجوہات سے آنکھیں موند کر محض لِپ سروس انجام دینا زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ کشمیریوں کو یہ بھاشن دیناکہ ماضی کو بھول کر مستقبل کی طرف دیکھنا چاہیے۔ بات کوگھماکرنہیں بلکہ کشمیریوں کو اسی طرح صاف اورسیدھے الفاظ میں بتادیں کہ اپنی مبنی بر حق جہدوجہد ترک کردیں جس طرح بابری مسجدکوبھول جانے کادرس تم لکھنومیں دے کرآئے ہو۔ لیکن روی شنکرجی زندہ قومیں قربانیوں کو بھول کر اپنا مستقبل کیسے سنوار سکتی ہے؟ ۔کیسے وہ اپنے نوجوانوں کے گرم گرم لہو کو آبِ ارزاں کی مانند نظر انداز کریں۔ اپنی ماں بہنوں کی لٹی عصمتوں کو یک لخت فراموش کریں۔ اجڑے دیار اور بستیوں کی تاراجی کو صرف نظر کریں۔ ہمارے آباء چٹے ان پڑھ تھے۔ان پرتوحکمرانوں کی ساحری کاخوب اثرپڑاتھالیکن اب یہ ساحری بے اثرہوچکی ہے کیونکہ کازکی کامیابی کے لئے یہ قوم کمربستہ ہے۔
(بصیر ت فیچرس)