کسی بھی نظام کی بقاء مخالف رائے کو برداشت کرنے میں ہے

کسی بھی نظام کی بقاء مخالف رائے کو برداشت کرنے میں ہے

نثار احمدحصیر قاسمی
شیخ الحدیث معہدالبنات، عروہ ایجوکیشنل ٹرسٹ حیدرآباد
سکریٹری جنرل اکیڈمی آف ریسرچ اینڈ اسلامک اسٹیڈیز، حیدرآباد
خلیفۂ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد جب خلافت کی باگ ڈور سنبھالا تو اس کے بعد ہی لوگوں کے سامنے کھڑے ہوئے اورایک نہایت بلیغ ومختصر خطبہ دیا، اس خطبہ میں انہوں نے جو باتیں کہی تھیں ان میں سے ایک بات یہ تھی:
’’فإنی قدولیت علیکم ولیست بخیرکم، فإن احسنت فاعینونی وإنی اسأت فقومونی، الصدق امانۃ والکذب خیانۃ،،
مجھے تمہارا والی بنادیاگیا ہے جب کہ میں تم سے بہتر نہیںہوں، اگر میں ٹھیک اوربہتر کروں تو آپ لوگ میری مدد کریں اوراگر میں غلط اوربرُا کروں تو آپ حضرات مجھے سیدھا کردیں، سچائی امانت اورجھوٹ خیانت ہے۔
ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی تعلیم وتربیت خیرالبشر وافضل الرسل کے ہاتھوں ہوئی تھی، اسی لئے انہیں اپنے اوپر مکمل اعتماد وبھروسہ اوریقین کامل ہے کہ جس درسگاہ میں انہوں نے تعلیم حاصل کی ہے اس کی تعلیم سے اورجس تربیت گاہ میں تربیت حاصل کی ہے اس کے اثرات سے وہ باہر نہیں نکلیں گے، اس ذمہ داری کو نبھانے میں ان کا معاون ومددگار وہ سماج وافراد اورجماعت ہے جن کے اندر فہم وفراست، جرأت ودانش مندی اورحق گوئی کا مادہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہواہے کہ وہ باطل وغلط کاری کو ایک لمحہ کے لئے بھی بر داشت نہیں کرسکتے تھے، ان کے اندر دنیوی مصلحت پسندی نہیں تھی بلکہ وہ جسے حق سمجھتے اس کا ببانگ دہل اعلان کرتے اورجسے باطل سمجھتے اسے کھلے عام کچلتے تھے چاہے دنیا کچھ بھی کہے یاسمجھے، وہ ایسے تھے کہ ان کا ایک ادنی فرد بھی حکمرانوں اوروالیوں کو درست کرنے کی سکت رکھتااوران کی غلطیوں کا اظہار ان کے منہ پر کرسکتاتھا، اگر حکمرانوں سے غلطی ہوتو وہ اسے ٹوکنے اوراپنا راستہ درست کرنے میں ذرہ برابر جھجھک محسوس نہیں کرتے تھے، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو احساس تھا کہ وہ ایسے فضلاء کے امور ومعاملات کا انتظام کرنے اورنظام حکومت چلانے کے ذمہ دار ہیں جو درسگاہ نبوی کے فضلاء ہیں اورہوسکتا ہے کہ ان فضلاء میں کچھ ایسے بھی ہوں جو ان سے زیادہ دین کا علم رکھنے والے، کتاب وسنت کو ان سے زیادہ یاد رکھنے والے، سنت نبوی پر عمل کرنے والے، اورکتاب وسنت کی تفسیر وتاویل کی واقفیت رکھنے والے ہوں۔
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے خطبہ سے ہر کوئی ان کے کمال تواضع کا بھی اندازہ بخوبی کرسکتاہے، کہ وہ ایک عام فرد کو یہ اختیار دے رہے ہیں کہ ان میں کا کوئی بھی جو چاہے مجھے غلطی پر ٹوک سکتااورمیری کجی کو دور کرسکتاہے، آپ ہر فرد کو اپنے سے افضل قرار دے رہے اورکہہ رہے ہیں کہ میں والی تو بنادیاگیاہوں مگر میں آپ سے بہتر نہیں ہوں جب کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں اعلان فرمادیا ہے ، اوروہ بھی رسول اللہ ﷺ کے اس اعلان کا علم رکھنے والے ہیں،اللہ کے نبی ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا:
’’اماانک یاابابکر اول من یدخل الجنۃ من امتی‘‘
جہاں تک آپ ہیں اے ابوبکر تو آپ تو میری امت میں سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ کے نزدیک ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اس مقام ومرتبہ کے باوجود ان میں نہ کبر وغرور پیدا ہوا اورنہ عجب وخودستائی، نہ ان کے دل میں ذرہ برابربھی اپنی بڑائی کا احساس پیدا ہوا اورنہ برتری کا شائبہ، بلکہ انہوں نے برملا اعلان فرمایا:
فإنی قد ولیت علیکم ولست بخیرکم الخ
مجھے آپ لوگوں کا والی وحکمراں بنادیا گیا ہے جب کہ میں آپ سے بہتر نہیں ہوں، اگر میں اچھا عمل کروں تو آپ میر تعاون کریں، اوراگر میں غلط وبرا کروں تو آپ ہمیں سیدھا کردیں، اوراسی راہ پرلگادیں جس پر رسول اللہ ﷺ تھے اورجو نظام آپ ﷺ کے زمانہ میں رائج تھا اوراس پر لوگ کاربندتھے۔
حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما نے ایک بار جمعہ کا خطبہ دیا، اوراس خطبہ کے دوران انہوں نے کہا: انماالمال مالنا والفییٔ فیئنا الخ
میرے پاس بیت المال کے اندر جومال ہے وہ میرا مال ہے، اورجو غنیمت ہے میرا ہے، ہم جس کو چاہیں گے دیںگے اورجسے چاہیںگے نہیں دیں گے، ان کے اس خطاب پر کسی نے نکیر نہیں کیا اورکوئی جواب دینے کے لئے نہیں اٹھا، اس کے بعد اگلے جمعہ کو بھی انہوں نے خطبہ دیا اوراپنے خطبہ میں یہی بات دہرائی اس بار بھی کسی نے ان پر نکیر نہیں کیا اورکوئی جواب دینے کے لئے نہیں اٹھا، پھر جب تیسرا جمعہ آیا تو اس جمعہ کو بھی انہوں نے اپنے خطبہ میں وہی بات دہرائی، تو اس بار ان کی باتوں کو رد کرنے اوران پر نکیر کرنے کے لئے حاضرین میں سے ایک شخص کھڑے ہوگئے، اورانہوں نے کہا ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا بلکہ یہ مال ہمارا (عوام کا) مال ہے، اورغنیمت بھی ہماری ہے، اورجو کوئی بھی ہمارے اوراس کے درمیان حائل ہوگا تو ہم اس کا فیصلہ تلوار سے کریں گے، امیر معاویہ خاموش اس کی باتیں سنتے رہے، اورنماز سے فارغ ہونے کے بعد انہیں اپنے پاس بلایا، انہیں اپنے ساتھ لے کر گئے اورانہیں کرسیٔ اقتدار پر بٹھادیا اورخود الگ بیٹھے، پھر لوگوں میں اعلان کرایا، اورلوگوں کو آنے کے لئے کہاجب سب لوگ آگئے تو امیر معاویہ نے خطبہ دیا اورکہا: لوگو! میں نے ایک بات پہلے جمعہ کو کہی تھی کسی نے میری بات کو رد نہیں کیا اورنہ اس پر نکیر کرنے کے لئے کوئی اٹھا، وہی بات میں نے دوسرے جمعہ کو بھی کہی مگر اس بار بھی میری باتوں کو کسی نے رد نہیں کیا، مگر تیسرے جمعہ کو جب میں نے وہی بات تیسری بار کہی تو اس شخص نے میری باتوں کا جواب دیکر مجھے حیات بخشااللہ اسے حیات بخشے اوراس شخص کی طرف اشارہ کیا، پھر امیر معاویہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے ہوئے سناہے، آپ نے فرمایاہے: سیاتی قوم یتکلمون فلایرد علیہم الخ
ایک قوم آئے گی جو غلط باتیں کرے گی تو اس کا کوئی جواب نہیں دے گا اس پر کوئی ردونکیر نہیں کرے گا، وہ سب کے سب بندروں کی طرح جہنم میں داخل ہوںگے۔
پھر امیر معاویہ نے فرمایا: مجھے ڈر ہوا کہ اللہ مجھے انہیں میں سے نہ بنادے، مگر اس شخص نے میری باتوں کو رد کرکے اورمیرا جواب دیکر مجھے جہنم میں داخل ہونے سے بچالیا اورمجھے حیات عطا کردی، اللہ اسے حیات ابدی عطا فرمائے، ہمیں امید ہے کہ اللہ ہمیں ان لوگوں میں سے نہ بنائے۔
امیر معاویہؓ کے ساتھ جو ہوا ابوبکر صدیق اورعمربن خطاب کے ساتھ بھی یہی ہواتھا، حضرت عمر نے ایک بار مہر کی زیادہ سے زیادہ مقدار محدود کرنے کا ارادہ کیا کہ لوگ اپنی بچیوں کے مہر میں مبالغہ کرنے لگے اورزیادہ سے زیادہ مہر طلب کرنے لگے تھے جو شادی کے خواہش مندمردوں کے لئے مشکلات کا باعث بن رہے تھے، تو اس خوف سے کہ شادی کہیں مشکل نہ ہوجائے، انہوں نے چاہا کہ ایک مقدار محدود کردی جائے، انہوں نے جب خطبہ دیا اوراپنی رائے کا اظہار کیا تو ایک خاتون نے برملا اس کی مخالفت کی اوران سے کہا کہ آپ کو یہ حق کہاں سے حاصل ہوگیا کہ آپ اس کو محدود کریں جب کہ خود اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے قنطار کا لفظ استعمال کیاہے، وقدآتیتم احداہن قنطارا حضرت عمر ؓ نے اپنی رائے سے رجوع کرلیا اوراپنے ارادے سے باز آگئے اوراس خاتون کے اعتراض کو قبول کیا، اس وقت صحابہ کرام حق گوئی میں پس وپیش نہیں کرتے تھے، اورچاہے والی وحاکم کا فرمان ہی کیوں نہ ہو اگر وہ اسے نامناسب سمجھتے تو اس پر تنقید واعتراض کرتے تھے اورحکمراں اس کا برُا نہیں مانتے بلکہ احسان مند ہوتے تھے کہ انہوں نے ان کی تصویب کی ہے، حکمراں کی جانب سے اگر کوئی ایسا فرمان جاری ہوتا جس کی تصریح قرآن میں یاسنت رسول میں نہ ہوتی تو وہ اس پر نکیر کرتے خواہ خلیفہ وقت ہی کی جانب سے یہ حکم کیوں نہ آیاہو، عوام حکمرانوں اورخلفاء کو بھی راستوں، مسجدوں اورگھروں میں پکڑلیتے اوران سے باز پرس کرتے تھے، خلفاء ان کی گرفت پر ناراض وبددل نہیں بلکہ خوش ہوتے تھے، نہ ان کے اندر کبرتھا نہ ناگواری، نہ نفرت تھی اورنہ تنقید کرنے والوں سے کبیدگی، نہ گرفتاری کا خطرہ تھا نہ سیاسی انتقام کا خوف، نظام اسی نہج پر ایک طویل عرصہ تک چلتارہا یہاں تک کہ دنیادار امراء حکمراں بن گئے، پھر آہستہ آہستہ تنقید ومعارضت کا دروازہ بند ہوگیا اورچاپلوسی ومفادپرستی کا دروازہ کھل گیا۔
یہ واقعہ مشہور ہے کہ حضرت عمرفاروقؓ اورایک شخص کے درمیان کچھ اختلافات پیدا ہوگئے، تو اس شخص نے حضرت عمرؓ سے کہا: ’’اتق اللہ یا امیرالمؤمنین‘‘ اے امیر المومنین اللہ سے ڈریں، تو موجود لوگوں میں سے ایک شخص نے اس سے کہا، یہ کیسی بات کہہ رہے ہو، امیر المومنین کو اللہ سے ڈرنے کے لئے کہہ رہے ہو؟ تو حضرت عمرؓ نے فرمایا اسے اپنی بات کہنے دو بلکہ وہ تو بڑی اچھی اوربھلی بات کی مجھے تعلیم دے رہا ہے، اس طرح کی بات اوراس طرح کی تنقید اگر تم نہیں کروگے تو تمہارے اندرخیر نہیں، اوراگر ہم اس طرح کی تنقیدوں کو قبول نہ کریں توہمارے اندر خیر نہیں، ہمارے ذمہ داروں کے اندر اسی طرح کے احساسات اورجذبات پائے جاتے تھے تو اسی لئے ہم خیر پر تھے، ہمارا نظام صحیح چل رہاتھا مگر جب ہم نے مفاد پرستی کو اپناشعار بنالیا اورتنقیدوں کو قبول کرنے سے انکار کردیا اوراس سے غیظ وغضب میں مبتلاہونے لگے اورتنقید کرنے والوں سے انتقام لینے پر تل گئے تو ہمار ا نظام بگڑگیا، اورہم بے جان وبے حس ہوگئے اوراس کے نتیجہ میں ہمارا شیرازہ منتشر ہوگیا، ہم ذلیل خوار ہونے لگے، جو لوگ حق گوئی میں ملامت کرنے والوں کی ملامت کا خوف نہیں کرتے اورحق بات کا اظہار برملا کرتے ہیں اوراپنے لیڈروں ورہنمائوں کی غلطیوں کی نشاندہی کرتے رہتے ہیں وہی آج ترقی یافتہ ہیں، اوران کا نظام مضبوط ومستحکم ہے، مگر ہمارا حال اس کے بالکل برعکس ہے، آج مسلمانوں کا کوئی تعلیمی ادارہ ہو یاسیاسی پلیٹ فارم، کوئی تنظیم ہو یابورڈ، مخالف رائے کو برداشت کرنے کی ان میں صلاحیت نہیں، آج جو بھی تنظیم وادارے ہیں مفادپرستوں کی ٹولیوں اورذمہ دار بننے کی تگ ودو میں اس طرح رہتے ہیں جیسے ملک کا صدارتی الکشن ہو، عہدوں کے لئے جوڑ توڑ، اٹھاپٹک اورہرطرح کے حربے استعمال کرتے ہیں جس سے ظاہر ہوتاہے کہ اخلاص وللہیت معدوم ہوچکی ہے، مفاد پرستی ان کے دلوں کو اپنا اسیر بناچکی ہے۔ اس عہدہ کو حاصل کرنے کی جان توڑ کوشش اس لئے کرتے ہیں کہ اس بیساکھی سے انہیں ملکی یابین الاقوامی سطح پر شہرت حاصل ہوجائے، پھر ان کی آمدنی کے ذرائع کے طور پر قائم کردہ ادارئوں کے لئے فتوحات کے دروازے کھل جائیں، ان کی جانفشانی اسلام ومسلمانوں کی صلاح کے لئے کم اورشریعت کے تحفظ کے لئے ضمنی ہے اوراپنی مالی حیثیت کو ترقی دینے اورناموری وشہرت کے لئے اصل وحقیقی معلوم ہوتی ہے اسی کا نتیجہ ہے کہ آج ہر جگہ ہرادارہ ہر تنظیم اورہر نمائندہ بورڈوں میں انتشار ہے، اگر ان میں اخلاص وللہیت ہوتا توایسا ہرگز نہیں ہوتا، اگر کسی سکریٹری وصدر اوران کی غلط حرکتوں پر تنقید کی جاتی ہے تو کسی نہ کسی بہانے اسے ادارے سے نکالنے اوررکنیت ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اوراپنے حوالی موالی،شاگردوں اورجوتی سیدھی کرنے والے اورہاتھ اٹھانے والے چاپلوسوں کو رکن بنایاجاتا اورصاحب رائے کو اہمیت نہیں دی جاتی بلکہ انہیں حتی الامکان دور رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے جب ہمارے اہل علم کی یہ حالت ہے تو امت کا پرسان حال سوائے اللہ کے اورکون ہوسکتاہے؟
ہمیں اگردین وشریعت عزیز اوراسلام ومسلمانوں کی فکرہے، ہم اگر واقعی اسلام کی سربلندی چاہتے، مسلمانوں کے دین وایمان کو بچانا چاہتے ہیں تو ہمیں پہلے اپنے مزاج کو بدلنا ہوگا دوسروں کی رائے اورتنقیدوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت پیدا کرنی ہوگی اپنے اندرسے حب جاہ ومال کے جذبے کو کھرچنا اوراخلاص وللہیت پیدا کرناہوگا، اخلاص وللہیت جبہ ودستار، وعظ وتقریر اوردرازیٔ زبان کا نام نہیں بلکہ اندرونی کیفیت وخداترسی اورہرعمل لوجہ اللہ ہونے کا نام ہے، ہم اگر کدورتوں کو دور نہ کرسکے اورتنقیدوں پر جذبۂ انتقام سے باز نہ آسکے تودین کے نام پر ان ساری سرگرمیوں کا کچھ فائدہ نہیں، ہمیں جان لیناچاہئے کہ کسی بھی نظام، ادارہ، تنظیم یاجماعت کی بقاء کا دارومدار مخالف رائے اورتنقیدوں کو سننے، برداشت کرنے اوراگر قابل قبول ہو تو قبول کرکے اپنی رائے بدلنے پر ہے، جس نظام سے یہ عنصر غائب ہوگا لازمی طور پر وہ ٹوٹ پھوٹ اورانتشار کا شکار ہوگا، اوریہی بات ہمارے اداروں میں ہورہاہے جو ہمیں اپنا قبلہ درست کرنے کی طرف ہمیں متوجہ کررہاہے۔
(بصیرت فیچرس)