بندگان خدا سے محبت ہی مذہب کی اصل روح ہے: میاں حضور

بندگان خدا سے محبت ہی مذہب کی اصل روح ہے: میاں حضور

فیکلٹی آف ہیومینٹیز اینڈ لینگویجز کے زیر اہتمام تیسرے حضرت نظام الدین اولیایاد گاری خطبے کا انعقاد
نئی دہلی:13؍مارچ(پریس ریلیز)
اس زمانے میں صوفی کے حوالے سے بہت غلط تصورات قائم کر لیے گئے ہیں۔ صوفی محض ہرے پیلے لباس، چند وظائف و اذکاراور عرس اور مزار کے حوالے سے چند رسوم کی ادائیگی کرنے والافرد نہیں ہوتا بلکہ صوفی در اصل پیغمبرانہ صفت کا حامل وہ شخص ہوتا ہے جو اپنی روحانی اور اخلاقی قوت سے بندگان خدا کے دلوں پر حکومت کرتا ہے۔ اس کا دل ودماغ نفرت، عداوت، حسداور تمام تر منفی جذبات سے پاک ہوتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار فیکلٹی آف ہیومنٹیز اینڈ لینگویجزجامعہ ملیہ اسلامیہ کے زیر اہتمام تیسرے حضرت نظام الدین اولیا یادگاری خطبے میں معروف صوفی شیخ ابو سعید شاہ احسان اللہ محمد صفوی عرف میاں حضور، سجادہ نشین خانقاہ عارفیہ ، الہٰ آباد نے کیا۔ ’’تصوف اور بندگان خدا‘‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ صوفی مذہبی آزادی کا داعی اور امین ہوتا ہے۔ وہ مذہبی تکثیریت کا احترام کرتا ہے اور مختلف مذاہب کو اللہ کی حکمت کا تقاضا سمجھتا ہے۔ میاں حضور نے اپنے خطبے میں کہا کہ صوفیا کے نزدیک بندگان خدا بلا لحاظ قوم و ملت ایک کنبے کی طرح ہیں اور صوفیا کا تصور محبت و رواداری انصار ومہاجرین کے مواخات، مدینے میں یہود و نصاریٰ سے رسولﷺ کا معاہدۂ امن، صلح حدیبیہ کی مصالحت اور فتح مکہ کی عام معافی سے ماخوذ ہے۔ اجلاس کی صدارت احمد میاں سجادہ نشین خانقاہ حضرت نظام الدین اولیا نے کی۔ انھوں نے خانقاہی نظام کو خدائی نظام سے ہم آہنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح خدا صرف اپنے نیک بندوں کو ہی روزی نہیں دیتا بلکہ نافرمانوں کے لیے بھی اس کی رزاقیت کا دروازہ کھلا ہے۔ اسی طرح صوفیا بھی بندگان خدا کے ساتھ مذہب و ملت کے نام پر امتیاز نہیں برتتے۔ استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے ڈین فیکلٹی آف ہیومینٹیز اینڈ لینگویجز پروفیسر وہاج الدین علوی نے کہا کہ صوفیا کے نزدیک انسان خدا کا نائب ہوتا ہے اور بندگان خدا کے دلوں کو راحت پہنچانا سب سے بڑی عبادت ہے۔ تعارفی تقریر میں پروفیسر معین الدین جینا بڑے نے خانقاہوں کی سماجی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے میاں حضور کی شخصی عظمت اور ان کے قائم کردہ اداروں میں شاہ صفی اکیڈمی، جامعہ عارفیہ اور رسالہ الاحسان کا ذکر کیا۔ اس یادگاری خطبے کی نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے دہلی اردو اکادمی کے وائس چیرمین اور شعبۂ اردو کے صدر پروفیسر شہپر رسول نے کہا کہ اعلیٰ انسانی اقدار کو فروغ دینے میں صوفیائے کرام کا اہم ترین کردار رہا ہے۔ پروگرام کا آغاز عامر حسین کی تلاوت اور اختتام ڈاکٹر رحمن مصور کے اظہار تشکر پر ہوا۔ فیکلٹی کے اس سالانہ یادگاری خطبے میں پروفیسر شرف الدین(او ایس ڈی براے شیخ الجامعہ) اور پروفیسر نزہت کاظمی، ڈین فیکلٹی آف فائن آرٹس کے علاوہ تمام صدور شعبہ، اساتذہ ، ریسرچ اسکالرز اورطلبا و طالبات نے بڑی تعدا د میں حصہ لیا۔