مدارس پر غیر آئینی یلغاریں

مدارس پر غیر آئینی یلغاریں

عبدالخالق القاسمی
خادم مدرسہ طیبہ منت نگر مادھوپور مظفرپور
ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے جہاں ہر مذہب کے لوگوں کو مذہبی آزادی حاصل ہے،مگر اس وقت ملکی سطح پر بدکرداری کا مظاہرہ کرنے والی بھگوا تنظیمیں، سرکاری محکمے اور ذرائع ابلاغ مسلمانوں کے مذہبی اور خالص دینی اداروں کے سلسلے میں جھوٹے الزامات لگا رہی ہیںاور قسم قسم کے شکوک و شبہات پھیلانے میں مصروف ہیں۔وہ یہ کہ مدارس دہشت گردی کے اڈے ہیں،یہاں بم بنانے اور بم مارنے کی ٹریننگ دی جاتی ہے۔آرایس ایس، بی جےپی اور بجرنگ دل کے لیڈران آئے دن مدارس اسلامیہ کے سلسلے میں زہر افشانی کرتے رہتے ہیں۔حکومت اور بعض سیاسی پارٹیوں کی طرف سے اس طرح کی غیر ذمہ دارانہ حرکتیں دراصل ہمارے مسلم سماج میں منافرت پھیلانے کے لئے کی جارہی ہیںاس قسم کے بیانات سے ان کا مقصد دینی مدارس میں مداخلت کرکے ان کی آزادی کو سلب کرنے کے سوا اور کچھ نہیں ہےموجودہ پارلیمانی حکومت ہماری تعلیم وتربیت کے تمام تر ذرائع وسائل پر حاوی ہونا چاہتی ہے جس کے لئے پارلیمنٹ میں راتوں رات ایک قانون پاس ہوتا ہے اور آنا فانا وہ قانون پورے ملک میں نافذ ہوجاتا ہے،جیسا کہ یوپی میں یوگی سرکار نے مدارس اسلامیہ میں وندے ماترم جیسے شرکیہ ترانہ کا نفاذ کرنے کی ناکام کوشش کرکے بیجا مداخلت کی ،جس کے وجہ سے پورے ملک کی آب و ہوا مسموم نظر آرہی ہے،ملک بھر میں افرا تفری کا معاملہ ہے۔عموما پورا ملک خصوصا مدارس اسلامیہ ومکاتب دینیہ اس سے متاثر نظر آرہے ہیں۔آئے دن مدارس کے خلاف اقدام کئے جارہے ہیں فرقہ پرست بے لگام تنظیموں کے افسران مدارس کو متہم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔حال ہی میں مشہور و معروف ادارہ جامعہ عربیہ ہتھورا باندہ میں دلی سے این آئی اے کی ایک ٹیم نے چھاپہ مار کر طلبہ واساتذہ میں خوف وہراس پیدا کردیا ہے۔این آئی اے کی ٹیم نے مدرسہ انتظامیہ کو ہراساں کرنے کے لئے مختلف قسم کے سوالات کرکے انہیں الجھانے کی کوشش کی مگر ان کی ساری کی ساری کوششیں تارعنکبوت ثابت ہوئیں،حال ہی میں بدنام زمانہ وسیم رضوی نے مودی یوگی کے اشارہ پر اس ملک کے مدارس کو دہشت گردی کا اڈہ بتایااور مدارس کو بند کرانے کی سازش رچی ،یہ ہیں ہمارے ملک کے حالات ۔حکومت بدل چکی ہے ملک بدل چکا ہے۔قدیم حکومتوں کو دینی ادارے سے کوئی سروکار نہیں تھا۔تعلیم میں کسی خاص عقیدے کسی خاص فکرو مقصد پر انکا اصرار نہ تھا،مگر افسوس صد افسوس کہ موجودہ حالات میں ڈکٹیٹر شرپسند حکومت اور مہذب غنڈے لیڈران کی نگاہیں مدارس اسلامیہ پر ٹکی ہوئی ہیں،مدارس اسلامیہ کے خلاف ساری کی ساری ہلاکت خیز سازشیں ملک کے اعلی تعلیم یافتہ،بدطینت،مہذب غنڈوں اور ذہین و فطین شرپسند عناصر کے ہاتھوں ہورہی ہیں۔ہندوستان میں صلیبی وصہیونی اور بت پرست تنظیمیں مسلمانوں کی دینی درسگاہوں کو اعتقادی ومذہبی،تعلیمی وتہذیبی،سماجی وسیاسی اعتبار سے کمزور ثابت کرنے اور مدارس اسلامیہ کو پسپا کردینے کے لئے منصوبہ بند سازش رچ رہی ہیں،یہ طاغوتی وصہیونی طاقتیں منظم طریقے سے دینی ادارے کو مسمار کرنے اور ختم کرنے کا لامتناہی سلسلہ جاری کر چکی ہیںاور یہ تمام منصوبہ بند سازشیں اور تمام تر کاروائیاں صرف اور صرف اسلامی تعلیمات اور دین اسلام کو مسخ کرنے کے لئے ہورہی ہیں،ان تمام تر حوادث و تغیرات اور خطرات کے باوجود مدارس اسلامیہ بت پرست فسطائیت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انہیں للکار رہے ہیں،کیونکہ وہ خوب اچھی طرح واقف ہیں کہ مسلمان قوم کے نظام مدارس اسلامیہ نے دنیا بھر میں اپنے اپنے ملکوں کی مقامی،معاشرتی،عائلی حالات و مسائل کے پیش نظر ایک ایسا مضبوط اور ٹھوس نظام تعلیم وتربیت کو فروغ دیا ہے جس پر مغربی تھذیب وتمدن کا جادو چل نہیں سکتااور نہ ہی ان کے پاس اس سے بہتر کوئی نظام العمل ہے جسے وہ عوام الناس کے سامنے پیش کرسکیں،اس لئے وہ وقفے وقفے سے اس طرح کی حرکتیں کرتے رہتے ہیںاسلام ایک آفاقی مذہب ہے اس نے زندگی کے ہرشعبہ میں انقلاب برپا کیا ہےاور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے اور تاقیامت جاری رہے گااور اس کے انقلابی اثرات کا سب سے اہم میدان مدارس اسلامیہ ہے۔زمانہ جاہلیت میں جہاں تعلیم کا رواج بہت کم تھا،مذہب اسلام کے پھیلتے ہی تعلیمی میدان میں ہر طرح کی ترقی ہوئی ،مسلمانوں میں طلب علم کا جذبہ پیدا ہوا۔خود سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے علم حاصل کرنے کی ترغیب دلائی اور سب سے پہلے مسجد نبوی میں صفہ مدرسہ قائم کیا گیا جو اسلام کا سب سے پہلا علمی مرکز ہے جس کے معلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور علم حاصل کرنے والے حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تھے۔دراصل صفہ ہی تمام تر مدارس کا محور ہے تمام مدارس اسی منہاج کے پابند عمل ہیں۔مدارس اسلامیہ کے بنیادی اغراض ومقاصد اللہ اور بندوں کے حقوق کی ادائیگی،اچھے اخلاق کی تعلیم و تربیت اور اخلاق ذمیمہ سے اجتناب،حلال وحرام کے مابین امتیاز،اخوت ہمدردی اور برادران وطن کے ساتھ غمگساری ہیں۔یہی وہ مدارس ہیں جس نے تعلیم و تربیت ،انسان سازی اور پیغام اخوت و محبت کے میدان میں نہایت طویل اور دور رس کردار ادا کیا ہے جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی،اسوقت مختلف مقامات پر جو ادارے قائم ہیں وہ اسی نہج پر قائم ہیں ان میں نمایاں خدمات انجام دینے والے اداروں میں سرفہرست دارالعلوم دیوبند،مظاہرالعلوم سہارنپور،دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤاور دیگر مدارس و مکاتب ہیں جو خالص مذہبی بنیاد پر قائم ہیں۔مدت قیام سے اب تک ان قومی اداروں نے قوم وملت کے لئے جو بیش بہا خدمات انجام دیں ہیں وہ تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔کوئی بھی ہوشمند اور ذی شعور اور منصف مزاج انسان اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا۔موجودہ دور میں یہ مدارس اسلامیہ اور مکاتب ربانیہ اور دینی درسگاہیں مسلمانوں کا ایک بڑا قیمتی سرمایہ ہے،دین اسلام کا سرچشمہ ہےاور دین اسلام کی تحفظ و بقاء انہیں مدارس اسلامیہ کی بقاء سے ہے۔اس لئے مسلم قوم کو ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے اور مدارس اسلامیہ کی بقاء اور تحفظ کے لئے جو اقدامات ممکن ہوں انہیں اپنانے میں دریغ نہیں کرنا چاہیے۔
(بصیرت فیچرس)