پرسنل لا بورڈ، شریعت اور خواتین کی ریلیوں کی مخالفت کرنے والوں کا اصلی چہرہ

پرسنل لا بورڈ، شریعت اور خواتین کی ریلیوں کی مخالفت کرنے والوں کا اصلی چہرہ

بے دینی، گمراہی، دنیا داری اور شریعت دشمنی
یہ سب مل کر مسلمانوں کے اتحاد کی کوشش کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کررہے ہیں
شکیل رشید(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)
حملہ دوطرفہ ہے ۰۰۰
نشانہ بظاہر تو آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ہے مگر حقیقتاً نشانے پر مذہبِ اسلام اور مذہبِ اسلام کے وہ پیروکار ہیں جو شریعت پر ، اپنی بساط اور اپنی حد تک عمل کی کوششیں کرتے ہیں اور دنیا کے بدلے شرعی احکامات کا سودا نہیں کرتے ۔ حملے کرنے والوں میں ایک تو وہ لوگ ہیں جو شریعت کو بھی خوب سمجھتے ہیں اور دین ودنیا کے فرق سے بھی خوب واقف ہیں اور خود کو مسلمان کہلانا بھی پسند کرتے ہیں بلکہ یقیناً مسلمان ہی ہیں مگر چاہتے یہ ہیں کہ شریعت کے بعض احکامات کچھ اس طرح سے دنیاوی احکامات کے مساوی ہوجائیں کہ انہیں اپنی سیاسی ، سماجی ، معاشی ، ہر طرح کی دوکان چمکانے میں کوئی روکاوٹ نہ پیش آئے ۔۔۔ ان میں حیرت انگیز طور پر کچھ علمائے دین بھی شامل ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو بورڈ کو اندر سے نشانہ بنارہے ہیں ، ان کی باتیں لچھے دار ہوتی ہیں ، یہ بات بات میں آئین ، قانون ،سیکولزم ، بھائی چارہ اور احادیث وقرآنی آیات کے حوالے بھی دیتے ہیں لیکن ان کی حقیقی منشا صاف صاف یوں ظاہر ہوتی ہے جیسے کہ حوض کی تہہ میں تیرتی مچھلیاں نظر آجاتی ہیں ۔
اور دوسرے وہ ہیں جو دین بیزار ہیں ، بلکہ شاید انہیں دین بیزار کہنا غلط ہویہ وہ ہیں جو دین کو پسند ہی نہیں کرتے ۔ بے دینی ان کی غذا ہے ، لامذہبیت ان کا اوڑھنا ، بچھونا ۔ یہ اصلاح کے نام پر شریعت کی شکل بدلنے کے لئے اتاولے ہوئے جارہے ہیں ۔ انہیں ’صنفی مساوات کی فکر دن رات کھائے رہتی ہے ‘ یہ خواتین کے مسائل پر شب وروز غور کرتے رہتے ہیں اور اس فکر اور اِن مسائل کےتدارک کے لئے اکثر وبیشتر خواتین کی معیت میں اپنے اوقات بتاتے نظر آتے ہیں ۔ ان میں وہ لوگ بھی ہیں جو یقیناً مسلمانوں کی جان کے دوست ہیں مگر جب بات ایمان کی ہوتی ہے تو یہ ایمان کے دشمن کی شکل میں گرجتے اور چنگھاڑتے نظر آتے ہیں ۔ اور کئی تو ایسے ہیں جن پر شک ہے کہ وہ کسی غیر ملکی ایجنسی کے رابطے میں ہیں یا ملکی ایجنسیوں کے اشارے پر کام کررہے ہیں یا کسی ایک سیاسی گروہ کو فائدہ پہنچانے کے کارخیر میں سرگرداں ہیں ۔ ان میں بھی پڑھے لکھے بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور دینی تعلیم یافتہ ، دونوں طرح کے مسلمان پائے جاتے ہیں ۔
ان دونوں ہی گروہ، بلکہ اگر یہ کہا جائے تو زیادہ درست ہوگا کہ اِن دوگروہوں میں پائے جانے والے متعدد گروہوں کے پیٹ میں حال کے دنوں میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے زیر اہتمام ’تحفظ شریعت‘ کے لئے نکالی جانے والی خواتین کی ریلیوں کو دیکھ کر زبردست مروڑ پید ا ہوئی ہے ۔ یہ ریلیاں جہاں حکام کو یہ باور کرانے کے لئے نکالی گئی تھیں کہ مسلم خواتین بھی ’ تحفظِ شریعت‘ کے لئے میدان میں اُترسکتی ہیں وہیں ان ریلیوں کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ مرکز کی مودی سرکار تک یہ واضح پیغام پہنچ جائے کہ ’ طلاقِ ثلاثہ بل‘ اس ملک کی پابند شریعت مسلم خواتین کو منظور نہیں ہے ۔ اور اگر مودی سرکار اوراس کے اشارے پر کام کرنے والی جماعتوں کا مقصد ، مٹھی بھر مسلم خواتین کو ’طلاقِ ثلاثہ بل‘ کی حمایت میں سڑکوں پر اُتار کر ساری دنیا کو یہ تاثر دینا ہے کہ خواتین اسلام مودی سرکار کے ذریعے لائے گئے بل پر خوش اور مطمئن ہیں تو لوگ یہ دیکھ لیں کہ مٹھی بھر مسلم خواتین کے مقابلے ہزاروں لاکھوں مسلمان عورتیں سڑکوں پر اترآئی ہیں اور خاموشی کے ساتھ ’طلاق ثلاثہ بل‘ کی مخالفت اور شریعت اسلامیہ کی حمایت میں اپنا احتجاج درج کرارہی ہیں ۔ ’ تحفظِ شریعت‘ کی حمایت میں نکلنے والی خواتین کی ریلیوں کی ’ شرعی حیثیت‘ کے سلسلے میں ان دنوں سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث چھڑی ہوئی ہے ۔ وہ جو بورڈ کے مخالفین ہیں ۔۔۔۔ حالانکہ ان میں سے کئی کھل کر نہیں درپردہ مخالفت کرتے ہیں ۔۔۔۔ ریلیوں کو ’ غیر شرعی‘ قرار دینے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگائے ہوئے ہیں ۔ بورڈ کی مذمت کی جارہی ہے ، بورڈ کو تحلیل کرنے کی تجویز پیش کی جارہی ہے ، بورڈ کے کام کاج کی ذمہ داریاں نبھانے والے علمائے دین کو جاہل اور شرعی احکامات سے بے خبر قرار دیا جارہا ہے ۔۔۔ یہ مسئلہ ایسا نہیں تھا کہ ایک ایسے موقع پر جب ساری امّت ’ تحفظِ شریعت‘ کے لئے خواتین کی ریلیوں کی وجہ سے ایک پلیٹ فارم پر متحد کھڑی نظر آرہی تھی ریلیوں اور بورڈ پر تنقید اور نکتہ چینی کرکے ’ امت‘ کو تذبذب میں مبتلا کیا جاتا اور انہیں ’ تحفظ شریعت‘ کی کسی مہم سے دور رکھنے پر مجبور اور اس کے سبب دشمنان ِ شریعت کو یہ خوشی حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا جاتا کہ ’ امت کا اتحاد اب اختلاف میں بدل رہا ہے ۔‘ نقادوں اور نکتہ چینوں نے یہی کیا ۔ اس سلسلے میں مولانا رضی الاسلام ندوی کی رائے انتہائی معتدل تھی پر افسوس کہ اس پر غور کرنے کی بجائے نکتہ چینی کو شیوہ بنایا گیا ۔ مولانا محمد رضی الاسلام ندوی کے ’تعمیری رخ دیجئے‘ کے عنوان سے ایک مضمون کی یہ چند سطریں ملاحظہ کریں:
’’ کیا طلاق بل کی مخالفت میں مسلم خواتین کو میدان میں اتارنا مناسب تھا یا نہیں ؟ کیا جلوسوں اور احتجاجی مظاہروں میں ان کی فعال شرکت دینی نقطۂ نظر سے درست تھی یا نہیں ؟ اس موضوع پر ایک سے زائد رائیں پائی گئی ہیں۔ راقم سطور نے دبے الفاظ میں اس معاملے میں احتیاط برتنے کا مشورہ دیا تھا۔ بعض حضرات نے زیادہ سخت الفاظ میں مسلم پرسنل لا بورڈ کی مذمت کی اور اس عمل کو غیر مذہبی اور غیر شرعی بتایا ۔ لیکن اب اس موضوع پر بحث کا وقت گذر چکا ہے ۔ اب ایک دوسرے پہلو پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ مسلم خواتین کے اِن بڑے اجتماعات سے کم از کم ایک بات تو ثابت ہوگئی ہے کہ انہیں اسلامی شریعت پر مکمل اعتماد ہے ۔ وہ اسلامی تعلیمات پر عمل کرنا چاہتی ہیں ۔ شریعت سے ہٹ کر کوئی قانون سازی انہیں منظور نہیں ہے ۔ طلاق کا معاملہ عموماً خواتین کے خلاف جاتا ہے ۔ اس کی زدعام طور سے انہی پر پڑتی ہے ، اس کے باوجود وہ اس معاملے میں بھی شریعت ہی پر عمل کرنا چاہتی ہیں ۔ پرسنل لا بورڈ کے ذمے داروں اور دیگر علما، دانشوروںاور امت کے بہی خواہوں کو خواتین کی شریعت سے تعلق کے اس والہانہ اظہار کو تعمیری اور مثبت رخ دینے کی کوشش کرنی چاہئے ۔ ‘‘
افسوس یہ کہ بہت سے اردو اخبارات نے بھی اس مہم میں مثبت کردار ادا نہیں کیا ۔ ممبئی میں خواتین کی جو عظیم الشان ریلی نکلی اس نے بہتوں کو چونکایا، چونکنے والوں میں حکام بھی شامل ہیں ۔ اس ریلی سے ایک روز قبل ایک مقامی روزنامے نے ریلی کے نکالے جانے کی خبر تو شائع کی مگر اہلحدیث اور شیعہ فرقے اور طلاقِ ثلاثہ کے سلسلے میں ان کے اور احناف کے اختلافات کو خوب اُجاگر کیا اور ساری خبر سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جیسے کہ امت مسلمہ میں اِن ریلیوں کے تعلق سے شدید اختلاف ہے ۔ شیعہ الگ ہیں ، اہلحدیث الگ ، اور احناف الگ ، اور احناف میں بھی بریلویوں ار دیوبندیوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی کہ ریلی میں ہنگامے کا اندیشہ ہے ۔ پر ریلی کامیاب رہی ، امت مسلمہ متحد رہی۔ ریلی میں سب ہی مسلک کے لوگ آئے ، شیعہ بھی اور اہلحدیث بھی ۔
اور اب ہویہ رہا ہے کہ وہ گروہ جس کا اوڑھنا بچھونا ہی ’ بے دینی‘ ہے خوب سرگرم ہے ۔ اس گروہ میں وہ خواتین بھی شامل ہیں جو سپریم کورٹ گئیں اور اب اپنے سرپہ سہرا باندھتی ہیں کہ ’ طلاقِ ثلاثہ بل‘ کی محرک وہی ہیں ۔ ایسا ہی ایک گروہ ’ انڈین مسلم فارسیکولرڈیموکریسی‘ ہے ۔ اس کے روحِ رواں جاوید آنند ہیں جو معروف سماجی کارکن اور گجرات 2002 کے فسادات میں فسادیوں کے خلاف سرگرم عمل تیستا سیتلواڈ کے شوہر ہیں ۔ اس میں نورجہاں صفیہ ناز بھی ہیں جو ’ طلاق ثلاثہ‘ کے خلاف تحریک میں پیش پیش ہیں ۔ فروز میٹھی بوروالا ہیں ۔ فلمی نغمہ نگار جاوید اختر کی حمایت بھی اسے حاصل رہتی ہے ۔ اور مصروف صحافی حسن کمال کی بھی۔ ریلی کے بعد ان ’سیکولر مسلمس‘ نے ایک پریس کانفرنس لے کر دوباتوں پر زور دیا ۔ ایک تو یہ کہ ’ ریلی مسلم خواتین کو گمراہ کرکے نکالی گئی۔ ‘ دوسری یہ کہ ’ اب مسلم پرسنل لا بورڈ کو تحلیل کردیا جانا چاہئے ۔‘ آخر الذکر بات پر سب سے زیادہ زور حسن کمال نے دیا ۔ انہوں نے بی جے پی اور وزیراعظم نریندر مودی پر یہ کہتے ہوئے تنقید اور نکتہ چینی تو کی کہ ’’یہ حکومت مسلمان عورتوں کے غم میں تڑپ نہیں رہی ہے ، جو اپنی بیوی کو نہیں سنبھال سکتے وہ کیسے مسلمان خواتین کے ہمدرد بن سکتے ہیں ؟‘‘ پر انہوں نے بہت ہی واضح طور پر یہ ماننے سے انکار کردیا کہ ہندوستان میں مسلم پرسنل لا کا وجود ہے ۔ ان کے اپنے الفاظ میں ’ ہندوستان میں مسلم پرسنل لا کہاں ہے ؟ ملک کی کوئی عدالت مسلم پرسنل لا کو تسلیم نہیں کرتی تو پھر اس کا وجود کہاں؟‘‘ ۔حسن کمال تو عدالتوں میں مسلم پرسنل لا کا وجود تلاش رہے ہیں جبکہ سچائی یہ ہے کہ ’ انڈین مسلمس فارسیکولر ڈیموکریسی‘ کے جو کرتا دھرتا ہیں ان کے گھروں میں بھی پرسنل کا یعنی اسلامی شریعت کا دوردور تک کوئی وجود نہیں ہے۔ حسن کمال نے تو خیرسے ایک ایسی خاتون سے شادی کی ہے جو ’ اہل کتاب‘ میں سے ہیں پر یہ بات جاوید آنند کے تعلق سے نہیں کہی جاسکتی ۔ رہے فیروز میٹھی بوروالا تو ان کا یہ کہنا کہ ’مسلم خواتین ‘ کو گمراہ کیا گیا ، اس لئے قابل قبول نہیں ہے کہ یہ خود لوگوں کو گمراہ کرتے پھررہے ہیں ۔ کوئی ان سے اگر یہ دریافت کرے کہ کیا ان کی بیوی نے ان پر جہیز کے مطالبے کا معاملہ نہیں درج کرایا تھا، تو دیکھئے کہ کیا جواب ملتا ہے ۔ ۔۔۔ یہ وہ گروہ ہے جس کے یہاں شادی اور طلاق کی ساری شرعی حیثیتیں اس لئے ناقابل قبول ہیں کہ یہ بقول ان کے ’ڈیموکریسی‘ وہ بھی ’ سیکولر ڈیموکریسی‘ کے خلاف ہیں ۔ حال ہی میں مذہب اسلام پر بات بے بات نکتہ چینی کرنے والی تسلیمہ نسرین کا ایک بیان آیا ہے کہ ’ خواتین کو حقیقی آزادی اسی وقت مل سکتی ہے جب انہیں جنسی آزادی حاصل ہو۔‘ میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ ’ انڈین مسلمس فارسیکولر ڈیموکریسی‘ کے ذمے داران تسلیمہ نسرین کی رائے سے متفق ہیں پر اتنا ضرور کہوں گاکہ ان کی نظر میں بھی خواتین کی آزادی کا مطلب بے پردگی ہے ۔ یہ بھی چاہتے ہیں کہ خواتین کو یہ حق حاصل ہوکہ شوہر کی مرضی کے خلاف زندگی گذاریں ۔۔۔ حسن کمال نے ریلیاں نکالنے والوں کو ’ مسلمانوں کے دشمن‘ قرار دیا ہے ۔ یعنی مولانا سجاد نعمانی سے لے کر مولانا ولی رحمانی ، مولانا سید رابع حسنی ندوی، اسماءزہرا وغیرہ وہ سب جو ’ تحفظِ شریعت‘ کے لئے کوشاں ہیں ان کی نظر میں ’مسلمانوں کے دشمن‘ ہیں ۔ اور یہ شریعت مخالف گروہ جس میں وہ جاوید اختر بھی شامل ہیں جنہوں نے بغیر کسی ’وجہ‘ کے اپنی بیوی کو طلاق دے کر شبانہ اعظمی کا ہاتھ تھام لیا ، مسلمانوں کے دوست ہیں !
یہ سارا گروپ بس یہ چاہتا ہے کہ مسلمان اپنی شناخت کو تج دیں ، نہ داڑھی رکھیں نہ مسلمان نظر آئیں ، اپنی تہذیب کو دریابرد کردیں اور ان شرعی احکامات کا جو دنیاوی مقاصد کے آڑے آتے ہوں سودا کرلیں ۔ ۔۔۔ اوالذکر گروپ بھی اسی کوشش میں ہے ، اس کی یہ مرضی ہے ۔۔۔ جیسے کہ سعودی عرب کے ولی عہد کی ۔۔۔ کہ اسلام کو اپنی مرضی کے حساب سے ’ ماڈرن‘ بنادیں ۔ ایک گروہ مزید ہے سنگھی عناصر کا گروہ ، اس میں تو بڑے بڑے شیوخ شامل ہیں ، داڑھی ، جبہ ، دستار ، ماتھے پر نماز کی کثرت سے پڑے والا نشان، مگر یہ دین کے سودے میں سب سے آگے ہیں ، کبھی یہ مودی کی محفل میں بیٹھے نظر آتے ہیں اور کبھی کسی اورسنگھی قائد کی محفل میں ۔۔۔ یہ کھلے عام شریعت کی مخالفت بھی کرتے ہیں،مذاق بھی اڑاتے ہیں اور دنیا کمانے کے لئے آرتی اتارنے اور سوریہ نمسکار سمیت یوگا کرنے کو بھی معیوب نہیں سمجھتے ۔
(بصیرت فیچرس)