روس کی جانب سے شام کے بارے میں قرارداد کے ویٹو پر دھچکا،حیرانی نہیں: تھریسا مے

روس کی جانب سے شام کے بارے میں قرارداد کے ویٹو پر دھچکا،حیرانی نہیں: تھریسا مے

لندن:12اپریل(ایجنسیاں)برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نے روس کی جانب سے شام میں کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کی بین الاقوامی تحقیقات کے لئے اقوام متحدہ میں ایک قرارداد کو ویٹو کرنے کو ہولناک قرار دیتے ہوئے تنقید کی ہے،ان کا کہنا تھا کہ مجھے اس پر دھچکا پہنچا ہے لیکن میں حیران نہیں ہوں۔ روس نے منگل کے روز امریکہ کی حمایت یافتہ ایک قرارداد کو ویٹو کردیا تھا،جس کے تحت شام میں کیمیاوی حملوں کی تحقیقات اور مجرمان کی شناخت کے لئے ایک عالمی مشترکہ تحقیقاتی میکنزم(جے آئی ایم) کا دوبارہ سے قیام عمل میں لانا تھا۔واشنگٹن نے بھی باغیوں کے زیر کنٹرول ڈومہ شہر میں ہفتہ کے روز مبینہ کیمیاوی حملے سے متعلق روس کی ایک قرارداد کو مسترد کردیا ہے۔تھریسا مے کا کہنا تھا کہ ہم اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ کام کررہے ہیں اور ہم تیزی سے اس مفاہمت پر پہنچ رہے ہیں کہ زمین پر کیا واقعہ رونما ہوا ہے،تمام اشارے ظاہر کرتے ہیں کہ شامی حکومت ذمہ دار تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ کیمیاوی ہتھیاروں کا استعمال نظرانداز نہیں کیا جاسکتا،ہم اپنے قریبی اتحادیوں کے ساتھ کام کریں گے کہ کس طرح سے اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ اس کے ذمہ دار انصاف کے کٹہرے میں لائے جائیں۔مے،ٹرمپ اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ہفتہ کے روز حملے پر عالمی برادری کی جانب سے جواب کے حوالے سے بات چیت کی تھی۔