آہ !مولانا سالم قاسمی صاحب رحمۃ اللہ علیہ

آہ !مولانا سالم قاسمی صاحب رحمۃ اللہ علیہ

ایک تو یہ امت یوں ہی بے سہارا ہوتی جارہی ہے، آپ بھی چھوڑ کر چلے گئے۔حق مغفرت کرے۔
آپ کو میں نےیکم نومبر1995 میں ایس آئی او کی شمالی ہند پٹنہ کانفرنس میں دیکھا اور سنا تھا۔آپ کا ایک جملہ آج بھی ذہن پر نقش ہے۔ آپ نے بہت دردمندی کے ساتھ کہا تھا کہ ’’رسول اور صحابہ نے دین کی دعوت دی، تابعین کے زمانے میں مسلک کی تبلیغ ہونے لگی، پھر تبع تابعین کے زمانے میں مشرب کو ترجیح دی جانے لگی اور آج لوگ اپنے اپنے ذاتی ذوق کی اشاعت کر رہے ہیں۔ لوگو آؤ مسلک، مشرب اور ذوق کے بجائے دین کی دعوت دو‘‘۔
آپ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے جشن عید میلاد النبی کے جلسے میں تشریف لائے تو آپ نے کنیڈی آدیٹوریم میں موجود سینکڑوں دانشوروں کے مجمع کو خطاب کرتے ہوئے اپیل کی تھی کہ رسول کی سیرت کو عصر حاضر کے تمام مسائل کے حل کے لیے ایک تحریک کے طور پہ دنیا کے سامنے پیش کیا جائے۔میرے ایک دوست مولانا عبدالسلام قاسمی صاحب جنہیں آپ کی شاگردی نصیب تھی انہوں نےنماز عصر کے بعد آپ کی مجلسوں میں آپ سے فیض اٹھایا تھا۔ انہوں نے ایک بار مجھے آپ کی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے اس بات پہ زود دیا کہ علما فتوے پہ اکتفا نہ کریں۔ فتوے کے بجائے متبادل پیش کریں۔ آپ نے مثال دی تھی کہ پہلے جائز مشروبات دودھ، پانی، شربت وغیرہ پیش کریں پھر شراب کے حرام ہونے کا فتوی کارگر ہوگا۔
آہ مولانا اب آپ کی طرح روشن دماغ اور درد مند دل کہاں رہا۔ امت کو آپ کا نعم البدل عطا ہو۔آپ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب ہو۔
ڈاکٹر خالد مبشر
جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی