’حرم کے رہنے والے ایسے نامحرم نہیں ہونگے ‘

’حرم کے رہنے والے ایسے نامحرم نہیں ہونگے ‘

نازش ہما قاسمی (ممبئی اردو نیوز؍بصیرت آن لائن)
سعودی عرب مسلمانوں کے لیے مقدس ترین جگہ ہے وہاں کی ہر چیز سے مسلمانوں کو عقیدت ہے اور ہونا بھی چاہئے؛ کیوں کہ وہیں خاتم الانبیا محمد عربی ﷺ آرام فرما ہیں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اسی سرزمین سے ہیں؛ لیکن موجودہ سعودی رہنمائوں کو دیکھ کر ایسا نہیں لگتا کہ وہ بھی انہیں کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ جس عرب کو خلیفہ ثانی عمر بن خطابؓ نے یہودیوں سے پاک کردیا تھا اسی عرب کے قائدین نے طائف میں یہودی فوج کو آباد کررکھا ہے۔ جس یہودی قوم سے اسلام میں دوستی کو منع کیاگیا ہے اسی یہودی قوم سے عرب قائدین ہاتھ ملانے پر فخر محسوس کررہے ہیں۔ جس عرب کو پرسکون رکھنے کے لیے صلاح الدین ایوبی نے یہودیوں سے جنگیں کی تھیں؛ تاکہ اسلام کے قلعے محفوظ رہیں، ان ہی یہودیوں کی چیرہ دستیوں پر موجودہ عرب حکمراں خاموش ہیں اور ان کی حمایت کرکے فلسطینی، مصری، اور شامی مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے ظالم یہودیوں کا ساتھ دے رہے ہیں۔
پوری دنیا کے مسلمانوں پر کوئی بھی آفت آتی ہے تو سب سے پہلے نگاہِ آس عرب حکمرانوں کی طرف ہی اُٹھتی ہے اور خصوصاً سعودی عربیہ کی طرف کہ یہ لوگ ہماری دادرسی کریں گے۔ اور کرتے بھی چلے آئے تھے ۔ برمی مہاجرین، شامی مہاجرین اور دیگر مہاجرین کو انہوں نے پناہ بھی دی ہے، ان کے اخراجات بھی برداشت کئے ہیں؛ لیکن شاہ سلمان کی ناخلف اولاد “محمد بن سلمان” شاید عرب روایات کو توڑکر یہودیوں سے مراسم بڑھا تے ہوئے ایک نئی روایت قائم کررہے ہیں ۔ فلسطین میں یہودیوں کے ناجائز قبضہ کو جائز بتا رہے ہیں۔وہ جو امیدیں اور آس سعودی کی طرف وابستہ تھیں اب مسلمانوں کے دلوں سے ختم ہوتی جارہی ہیں۔ مسلمان سعودی عرب اور امریکہ کی قربت کو ایک ایسے نظریے سے دیکھ رہے ہیں جس کا خمیازہ سعودی عرب کو جلد ہی بھگتنا پڑسکتا ہے۔سعودی عرب کے حکمراں اس زعم میں ہیں کہ طاقت کے بل بوتے پر ہم کچھ بھی کرلیں گے؛ لیکن شاید انہیں نہیں پتہ کہ طاقت آنے جانے والی چیزوں میں سے ہے اور جلد ہی یہ تمہارے ہاتھ سے نکل کر کسی مجبور کے ہاتھوں میں بھی آسکتی ہے؛ اس لیے اس طاقت پر غرور نہ کریں، اس کا استعمال غلط نہ کریں۔ مناسب اور بہترین کاموں میں اسے صرف کریں۔ مسلمانوں کی فلاح وبہبود پر اسے لگائیں۔ یہود ونصاریٰ سے دوستی کرکے اپنوں کو دور نہ کریں۔ اپنوں پر ہورہے ظلم کے خلاف آواز اُٹھائیں۔ انہیں مجبور کریں۔ نہ کہ ان کی سازشوں کے شکار ہوکر بکھر جائیں اور وہ اپنے مشن میں کامیاب ہوجائیں۔
یہ وقت عالم عرب کے اتحاد کا تھا؛ لیکن سعودی عرب اپنی منفرد پالیسی سے اتحاد عرب کو پاش پاش کرنے کے درپے ہے۔ وہ امریکہ کے اشارے پر قطر کا بائیکاٹ کرچکا ہے۔ شامیوں کےبہتے خون پر خاموش ہے۔ فلسطینیوں کے اجڑتے گھر پر لب کشائی نہیں کرسکتا۔ مصر کی سیسی حکومت سے مرعوب ہے۔ سعودی عرب کے حکمراں ایک نیا اسلام لارہے ہیں جس میں سعودی عرب میں سنیما گھر بھی قائم ہوں گے۔ جہاں رقاصائیں ڈانس کے ذریعے ان بدبخت حکمرانوں کو محظوظ کریں گی… ۔ شرم کا مقام ہے۔ قابل افسوس ا مر ہے کہ وہ خواتین جنہیں اسلام نے عزت وتکریم دے کر گھروں کی چہار دیواری میں محفوظ رکھا تھا اسلام کے نام لیوا انہیں بے آبرو کرکے فخر محسوس کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ سوچنے کا مقام ہے کہ ایک خاتون جس کے سر سے یہودی نے دوپٹہ کھینچ لیا تھا جس کے جواب میں خاتم الرسل محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے قریظہ پر دھاوا بول کر اس بدبختی کا بدلہ لیا تھا آج ان ہی کے نام لیوا ان یہودیوں کی ایما پر اپنی ہی ماں بہن بیٹیوں کو ڈانس کرتا دیکھیں گے۔ انہیں بے آبرو ہوتا دیکھیں گے۔ اور فخر کریں گے اور خوش ہوں گے؛ کیوں کہ یہ ان کے جدید اسلام کی روایت ہوگی۔ ان دنوں سعودی عرب میں ایک عجیب چیز یہ بھی دیکھنے میں آرہی ہے کہ جو بھی ان عرب حکمراں بالخصوص سعودی عرب کے قائدین کے خلاف آواز اُٹھا رہا ہے اسے ” پسِ دیوارِ زنداں،، ڈال دیاجارہا ہے۔ اس کا ٹویٹر اکاؤنٹ بند کردیا جارہا ہے ، اس کا عہدہ و منصب چھین لیا جارہا ہے اور جو ان کے برے افعال پر ان کی تعریفوں کے پل باندھ رہا ہے اسے انعاما ت واکرام سے نوازا جارہا ہے۔ مسلمانوں کو شاید یہ امید نہیں رہی ہوگی کہ وہ جس حرم کے رہنے والے کو مقدس سمجھ رہے تھے وہ ایسے نامحرم نکلیں گے جو سر عام اسلام کا جنازہ نکالیں گے۔ امام حرم لہو ولعب کے پروگرام کا افتتاح کریں گے۔ اور اس پر آل ریال تاویلیں کریں گے کہ یہ تاش اور جوئے ان کے قومی کھیلوں میں سے ایک کھیل ہے ۔اس میں کوئی قباحت نہیں؟ کیا امام حرم کا یہی کام رہ گیا ہے کہ وہ لہوولعب کاافتتاح کریں؟ کیا امام حرم بیت الخلائوں کا بھی افتتاح کریں گے۔ کیا امام حرم عیاش حکمرانوں کی ایما پر سنیما گھر کا بھی افتتاح کریں گے؟
جو غلط ہے اسے غلط کہا جائے۔ اس کی تاویلیں نہ کی جائیں۔ جب تک غلط کو غلط کہنے والے موجود ہیں ۔ اس طرح کی چیزیں پروان نہیں چڑھ سکتیں۔ پیسوں کے بل بوتے پر انہیں بدلا نہیں جاسکتا. جن کا ایمان وایقان ہی ریال وامریکہ ہے ان سے مسلمانوں کو کچھ امید نہیں ہے، جن کے نزدیک یہ کچھ بھی نہیں وہی حقیقت میں اسلام کے راہبر و راہنما ہیں۔ جو ان سب پر خاموش ہیں کچھ نہیں کررہے ہیں وہ یقینا پکڑ میں آئیں گے اور اللہ بدلہ لے کر انہیں قصہ پارینہ بنادیں گے؛ لیکن شیخ سعود الشریم ، شیخ عودہ اور شیخ عریفی جیسے افراد ان شاء ا للہ ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے؛ کیوں کہ انہوں نے ظالم وقت کے سامنے کلمہ حق ادا کیا ہے”کلمۃُ حقٍ عند سلطان جائر افضل الجہاد،، کا فریضہ انجام دیا ہے ۔ انہوں نے ظالم وقت سے مرعوب ہوئے بنا ان کی غلط پالیسیوں پر انگلی اُٹھائی ہے، یہی اصل حکمراں ہیں ۔ مسلمانوں کو چا ہئے کہ وہ عرب حکمرانوں سے اپنی امیدیں وابستہ کرنی چھوڑ دیں ، شیخ سعود الشریم جیسے امام حرم کو رہنما بنائیں، نہ کہ عادل الکلبانی کو جن کے نام میں ہی کلب لگا ہوا ہے، ظاہر سی بات ہے وہ کلب جیسی ہی وفاداری کریں گے۔ کلمہ حق ان کی زبان پر آہی نہیں سکتا؛ کیوں کہ انہوں نے اپنا دین وایمان حکمران وقت کو گروی رکھ دیا ہے۔ شام کے حالات پر ان کی زبان سے شیخ عریفی کی طرح ٹویٹس نہیں آسکتے ۔ قطر کے حالات پر شیخ عودہ کی طرح ان کے بیان نہیں آسکتے۔ موجودہ قضیے پر شیخ سعودالشریم کی باتیں نہیں آسکتیں؛ اس لیے ان سے امیدیں وابستہ نہ کریں ۔ اور رافضیوں اور ریال خوروں کی پالیسیوں کو نظر میں رکھتےہوئے فلسطینیوں کی حامی جماعت، شامیوں کی داد رسی کرنے والی جماعت ، افغان خونریزی پر آواز اُٹھانے والی حق گو جماعت کا ساتھ دیں ۔ ترکی کو مضبوط کریں۔۔۔ ان نامساعد حالات میں ترکی ہی روشنی کی ایک کرن ہے۔۔۔۔شیخ کلبانی، محمد بن سلمان اور سعودی ریال خوروں کے لئے ہی شاید یہ شعر کہا گیا ہے :
جناب شیخ پر افسوس ہے ہم نے تو سمجھا تھا
حرم کے رہنے والے ایسے نا محرم نہیں ہونگے
(بصیرت فیچرس)