کٹھوعہ اور اناو کے سانحات پر وزیر اعظم مودی کے بیان پر رد عمل

کٹھوعہ اور اناو کے سانحات پر وزیر اعظم مودی کے بیان پر رد عمل

کیا واقعی بیٹیوں کو انصاف ملے گا؟
مودی جی یقین تو نہیں آتا!
شکیل رشید(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز؍سرپرست ایڈیٹر بصیرت آن لائن)
یہ مودی کیسے وزیراعظم ہیں!
آج یہ جنہیں ’ بیٹیاں‘ کہہ کر یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ’ ’ قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا ہماری بیٹیوں کو انصاف ضرور ملے گا ‘‘ کیا وہ بیتے ہوئے ایک سال ، ایک مہینے اور ایک ہفتے قبل ’ بیٹیاں‘ نہیں تھیں؟ ’بنت اناّو‘ اس وقت بھی اس ملک کی بیٹی تھی۔۔۔ اور ملک کی بیٹی ہونے کے ناطے وزیراعظم مودی کی بھی بیٹی تھی۔۔۔۔ جب وہ کوئی ایک سال سے مسندِ اقتدار پر متمکن افراد کے ٹھکانوں کے چکر کاٹ اور یہ فریاد کررہی تھی کہ اس کا ریپ ہوا ہے ، اس کی عصمت دری کی گئی ہے ، اس کا بلاتکار کیاگیا ہے اور ایک نہیں بار بار کیا گیا ہے اور بلاتکاری کوئی اور نہیں ودھائک مہودے ، ایم ایل اے صاحب کلدیپ سینگر اور ان کے بھائی اور احباب ہیں لہٰذا کلدیپ سینگر کے خلاف ’ معاملہ‘ درج کیا جائے ۔ پر داد اور فریاد جن کانوں تک پہنچی ان کانوں نے سن کر بھی نہیں سُنی۔ یوپی کی پولس نے ، اعلیٰ ترین پولس اہلکار ، ڈی جی پی تک نے کمسن ،نابالغ بچی کی فریاد کو درخوراعتنا نہیں سمجھا ۔ بے حسی بلکہ بے شرمی اور ڈھیٹ پنے کی انتہا دیکھئے کہ جب ’ بنت انّاو‘ کے باپ کی پولس حراست میں موت ہوگئی ، ظاہر ہے موت بے انتہا پٹائی کی وجہ سے ہی ہوئی ، تب بھی کسی کے کان پر جوں نہیں رینگی، نہ پولس کے ، نہ وزیراعلیٰ یوگی کے ، نہ ہی یوپی اور مرکزی سرکار کے وزراء اور اعلیٰ افسران کے اور نہ ہی سنگھی قیادت کے ۔ بھلا پولس کیوں بہری بنی ہوئی تھی؟ کیوں پولس نے ملزمین کے خلاف کارروائی میں کوئی دلچسپی نہیں لی ؟ کیوں یوپی کی حکومت پر بے حسی طاری رہی اور کیوں بے شرمی کے ساتھ یوپی اور ملک بھر کے ’بھگوا دھاری‘ سیاست داں رکن اسمبلی کلدیپ سینگر کو ’ دودھ کا دھلا‘ ثابت کرنے کے لئے ( انکوائری کے بغیر) گلا پھاڑتے اور فریادی بچی کو ’ بے حیا‘ ’ فاحشہ‘ قرار دیتے رہے ؟ صرف اس لئے کہ کلدیپ سینگرجس پارٹی کے رکن اسمبلی ہیں اسی پارٹی کی یوپی پر حکومت ہے اور مرکز میں بھی ۔۔۔ جی ہاں ، وہ بی جے پی کے ہیں ۔ اور وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ جو ہیں وہ بھی بی جے پی کے ہیں اور فی الحال یوپی پولس کے سارے اعلیٰ افسران بھی بی جے پی کے منظورِ نظر ہیں ۔ یعنی سب کے سب ’ بھگوا دھاری‘! بھلا کسی ’ بھگوا دھاری‘ کو چاہے وہ کسی بچی کے ریپ کا ملزم ہی کیوں نہ ہو ، کوئی ’ بھگوا دھاری‘ پولس اہلکار کیسے گرفتار کرسکتا اور کپڑوں کے نیچے ’خاکی نیکر‘ پہننے والا کوئی سیاست داں کیسے اسے ’قصوروار‘ قرار دے سکتا تھا!
’ بنتِ انّاو‘ کی بات مزید کریں گے لیکن کچھ ذکر جموں کے کٹھوعہ علاقے کی ۸ سال کی ننھی شہید آصفہ بانو کا بھی کرلیں۔ ’ بنت انّاو‘ کی طرح آصفہ بانو کا بھی ریپ کیا گیا مگر دونوں پر جو بیتی اس میں زمین اور آسمان کا فرق ہے ۔ آصفہ بانو کا ریپ ہی نہیں کیا گیا اسے قتل بھی کیا گیا اور قتل کے بعد اس کے سر کو پتھروں پر پٹخا بھی گیا اور درندگی اور حیوانیت کی انتہا دیکھئے کہ اس کی لاش کے ساتھ بھی جنسی عمل کیا گیا ! ایک فرق اور ہے ، بنت انّاو‘ کا اغوا نہیں ہوا تھا اور نہ ہی اسے کہیں قید رکھا گیا تھا آصفہ کو اغوا کرکے ایک مندر میں قید رکھا گیا ۔ اور جو درندے تھے انہوں نے مندر کے تقدس کو بھی ملحوظ نہیں رکھا وہیں اس کے ساتھ زنابالجبر کیا ، اسے بے ہوشی کی دوا پلائی اور بے ہوشی کی حالت میں کئی افراد نے جن میں پولس اہلکار بھی شامل تھا اس کے ساتھ بھی جنسی عمل کیا اور جنسی عمل کے دوران ’ مذہبی رسومات‘ کی ادائیگی بھی کی گئی یعنی ایک نابالغ کمسن بچی کے ریپ اور قتل کی وحشیانہ واردات کو دھارمک بنادیا گیا ۔ ’ بنت انّاو‘ کے ساتھ یہ سب نہیں ہوا ۔ آصفہ کے ریپ اور قتل کا ’ مقصد‘ بکروال نامی پچھڑے طبقے کو خوفزدہ کرکے علاقے سے بھگانا اور ان کی خالی جگہوں پر قبضہ کرنا تھا۔ ریپ اور قتل کے لئے مسلم بچی کا انتخاب دانستہ کیا گیا کیونکہ بکروال طبقے میں مسلمانوں کی اکثریت ہے ۔ اس کا یہ مطلب قطعی نہیں ہے کہ یہ درندے کسی اور مذہب کی لڑکی کے ساتھ ایسی درندگی نہیں کرتے ، یہ اپنے ’مقصد‘ کی تکمیل کے لئے کسی غیر مسلم لڑکی کے ساتھ بھی ایسی ہی درندگی کرسکتے تھے ۔
ننھی آصفہ روزانہ گھوڑے چرانے کے لئے رسانہ کے جنگل جاتی تھی۔ محکمہ مال کے ایک سبکدوش ملازم سنجے رام نے اپنے بھتیجے دیپک کو یہ کہہ کر اُکسایا کہ ’ ہمیں مسلمانوں سے بدلہ لینا ہے ‘ اس لئے اس بچی کو اٹھا لائے ۔ 10 جنوری 2018 کو دیپک اپنے ایک ساتھی کے ساتھ آصفہ کو اٹھاکر مندر لے آتا ہے ، آصفہ کو نشے کی گولیاں کھلائی جاتی ہیں تاکہ اس کے ہوش گم ہوجائیں ۔ چھ روز تک مندر کے اندر بچی کاریپ کیا جاتا ہے ۔ 17 جنوری کو جنگل سے آصفہ کی لاش برآمد ہوتی ہے ۔اس سارے معاملے کا شرمناک پہلو یہ ہے کہ جموں کے اعلیٰ سماج کے لوگوں نے جن میں وکلا بھی شامل تھے اور بھاجپائی بھی اور ایک اطلاع کے مطابق چند کانگریسی بھی نہ صرف یہ کہ ملزمین کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کیا بلکہ پولس کی تفتیشی ٹیم نے جب عدالت میں چارج شیٹ داخل کرنے کی کوشش کی تو اس میں بھی روکاوٹ ڈالی ۔ وکلا نے انصاف کی فراہمی کے عمل میں مداخلت کی اور جموں وکشمیر کی حکومت میں شامل بی جے پی کے دووزراء چندر پرکاش گنگا اور لال سنگھ نے باقاعدہ ملزمین کے حق میں تقریریں کیں اور ایک ننھی بچی کے ریپ اور قتل کے معاملے کو ’ ہندو ۔ مسلم ‘ فرقہ پرستی کے رنگ میں رنگ دیا ۔ کیا ننھی آصفہ کے والدین جب اس کی تلاش کے لئے فریادیں کرتے پھررہے تھے ، جب اس کی لاش پانے کے بعد پولس سے انصاف کی گہار لگارہے تھے اور جب ملزمین کے حق میں بی جے پی اور ’ خاکی نیکر پوشوں‘ کی تنظیم ’ ہندوایکتا منچ‘ کے بے شرم فرقہ پرست نعرے بازی کررہے تھے تب وہ ہندوستان کی بیٹی نہیں تھی؟ اور اس ناطے سے کیا وہ اس وقت وزیراعظم مودی کی بیٹی بھی نہیں تھی ؟؟
شہید آصفہ اور ’ بنت انّاو‘ تو کل کو بھی اسی ملک کی ’ بیٹیاں‘ تھیں پر مودی ، یوگی، بھاگوت، سشماسوراج ، ارون جیٹیلی ، سبرامنیم سوامی اور ساری بھاجپا بشمول آر ایس ایس نے لب سی لئے تھے ۔ اور سچ تو یہ ہے کہ آج بھی ان سب کے لب سلے ہوئے ہیں ، اسمرتی ایرانی کی ’ منافقت‘ بھی اجاگر ہوئی ہے اور اوما بھارتی اور مینکا گاندھی کی منافقت بھی ۔
وزیراعظم مودی کے بیان پر کچھ لوگ سردھن رہے ہیں ۔ تعریفیں کررہے ہیں ۔ مودی کے وعدے پر یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ ’ اب دیکھنا آصفہ اور انّاو کی مظلومہ کو انصاف ملے گا اور زانی اور قاتل بخشے نہیں جائیں گے ‘۔ پر مجھے یقین نہیں آرہا ہے ۔ اس لئے کہ میری یادداشت ابھی کمزور نہیں پڑی ہے ۔ بی جے پی کے سارے گھناؤنے کارنامے ذہن میں تازہ ہوگئے ہیں ۔ انصاف کی فراہمی کے وہ سارے وعدے یاد آرہے تھے جو وفا نہیں کئے گئے ہیں ۔ یاد آرہا ہے کہ بی جے پی کے عہدیداران تک ایسے گھناونے معاملات میں ملوث رہے اور آج آزاد گھوم رہے ہیں جو اناو اور کٹھوعہ کے سانحات سے کم سنگین نہیں تھے ۔ یہ بی جے پی کی ہی حکومت تھی جب کوثر بی کو قتل کیاگیا تھا ۔ اور قتل کرنے سے پہلے اس کی بھی عصمت دری کی گئی تھی۔ اس معاملے میں بی جے پی کے آج کے صدر امیت شاہ کو کچھ دنوں کے لئے سلاخوں کے پیچھے رہنا پڑا تھا۔ عشرت جہاں کا قتل سامنے ہے ۔ بلقیس بانو کی عصمت دری کی خبر ابھی بھی پرانی نہیں ہوئی ہے ۔ حاملہ خاتون کی عصمت دری اور پیٹ پھاڑ کر بچے کی شکل لیتے ہوئے جنین کو ترشولوں اور تلواروں کی نوک پر اچھالنا بھی لوگ بھولے نہیں ہیں ۔ یہ سب مودی ہی کے دورِ حکومت میں ہوا ہے۔ اور نہ جانے ریپ اور قتل کی ایسی ہی کتنی وارداتیں ہیں جو گجرات 2002کے مسلم کش فسادات کے تلے دبی ہوئی ہیں ۔ اور اگر سابق آئی پی ایس افسران آر بی سری کمار اور سنجیوبھٹ کی بات مانی جائے تو یہ سب کرنے کی آزادی اس وقت کے گجرات کے وزیراعلیٰ مودی ہی نے دی تھی۔۔۔۔ لہٰدا جب مودی یہ کہتے ہیں کہ ’ ہماری بیٹیوں کو انصاف ملے گا ‘ تو دل ان کی بات پر یقین کرنے کو کسی طرح سے آمادہ ہی نہیں ہوتا ۔
سچ تو یہ ہے کہ بی جے پی کا دور ’بلاتکار‘ کی وارداتوں میں اضافے کا دور اور ’بلاتکار‘ کرنے والوں کی پیٹھ تھپتھپانے کا دور ہے ۔ شاید اسی لئے یوگی کے اترپردیش میں بچوں اور خواتین کے خلاف جرائم میں حیرت انگیز اضافہ ہوا ہے ۔ یوپی میں ریپ کی چار ہزار سے زائد وارداتیں ریکارڈ کی گئی ہیں ، بچوں کے خلاف جرائم ساڑھے چودہ ہزار سے تجاوزکرچکے ہیں ۔۔۔ مگر یوگی کو یہ سب نظر نہیں آتا ہے اسی لئے وہ ریپ ، قتل اور بچوں وعورتوں کے خلاف جرائم میں ملوث افراد کی سزائیں معاف کررہے ہیں ۔ معافی پانے والوں میں وہ ’ مجرم‘ شامل ہیں جو مظفر نگر کے فسادات کے دوران خواتین کی عصمت دریوں اور ان کے بچوں کے قتل میں ملو ث تھے ۔ مظفر نگر فسادات کے دوران اپنی عزت وآبرو کھونے والی عورتیں آج بھی انصاف کے لئے آواز اٹھارہی ہیں ، یہ سب بھی ’ ہندوستان کی بیٹیاں‘ ہیں، بلقیس بانو، کوثر بی اور عشرت جہاں بھی ’ ہندوستان ہی کی بیٹیاں‘ تھیں اور گورکھپور کے فسادات کے دوران ، جس کا الزام یوگی آدتیہ ناتھ کی اشتعال انگیز تقریر کو جاتا ہے ( اب یوگی نے خود پر چلنے والے اس معاملے کو ختم کردیا ہے ۔ کیونکہ خود ہی سیاّں ہیں اور خود ہی کوتوال ) بے آبرو ہونے والی خواتین بھی ’ ہندوستان کی بیٹیاں‘ تھیں ۔۔۔ اور یہ سب ہندوستان کی بیٹیاں ہونے کے ناطے وزیراعظم مودی کی بھی بیٹیاں ہوئیں ، مگر یہ آج تک انصاف کے لئے بھٹک رہی ہیں لہٰذا جب مودی یہ کہتے ہیں کہ ’ہماری بیٹیوں کو انصاف ملے گا ‘ تو دل میں شک پیدا ہوتا ہے ۔
پرکسی کے دل کی کیفیت نہ جانے کب بدل جائے ۔ عام طو رپر سمجھا یہ جاتا ہے کہ ملک بھر میں ذات پات اور مذہب کی تفریق سے اوپر اٹھ کر جس طرح لوگوں نے اناو اور کٹھوعہ کی وارداتوں کے خلاف احتجاج کیا اور جس طرح ساری دنیا میں کٹھوعہ کے سانحے نے ہندوستان کے سرکو شرم سے جھکایا ، اور جس طرح سے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گٹرریز نے کٹھوعہ ریپ اور قتل معاملے کی مذمت کی اور قاتلوں کی سزا کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ، اور جس طرح کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے کٹھوعہ اور اناو کو بی جے پی اور مودی کے خلاف کانگریس کے حق میں ایک سیاسی موضوع بنالیا ، اور جس طرح ساری فلمی دنیا ، سارے دانشوران اور اعلیٰ رتبہ کے لوگوں نے کٹھوعہ اور اناو کے خلاف شدید ردعمل کا اظہار کیا ، اس کی وجہ سے نریندر مودی کو یہ کہنا پڑا کہ ’ ہماری بیٹیوں کو انصاف ملے گا‘ ۔۔۔ پر ممکن ہے کہ واقعی انّاو میں برسراقتدار ٹولے کی بے شرمی اور بھاجپائی زانیوں کی ہٹ دھرمی اور کٹھوعہ میں ایک معصوم کے ساتھ انتہائی شرمناک درندگی اور قتل کی واراتوں نے مودی کے دل کی کیفیت بدل دی ہو اور واقعی انہوں نے ٹھان لیا ہو کہ ’ ہماری بیٹیوں کو انصاف ملے گا ‘۔۔۔۔ چلئے کچھ دن کے لئے ہم اس وعدے پر یقین کرنے کے لئے اپنے دل کو آمادہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں پر دل ہے کہ یقین کرنے کو تیار ہی نہیں !
(بصیرت فیچرس)