ملت ایک عظیم شخصیت سے محروم ہو گئی۔۔۔۔۔۔

ملت ایک عظیم شخصیت سے محروم ہو گئی۔۔۔۔۔۔

مکرمی!
آج سہ پہر سرزمین دیوبند سے یہ المناک خبر آئی کہ دار العلوم دیوبند وقف کے سرپرست اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے نائب صدر حضرت مولانا محمد سالم قاسمی صاحب کی وفات حسرت آیات ہوگئی، انا للہ و انا الیہ راجعون
مرحوم ملت اسلامیہ ہند کے اہم رہنما تھے، دارالعلوم دیوبند کے مشہور فضلاء میں شمار ہوتے تھے، حکیم الاسلام قاری محمد طیب علیہ الرحمہ کے صاحبزادے اور جانشین تھے، دارالعلوم دیوبند سے 1948 میں فراغت کے بعد پچھلے 70 سالوں سے درس و تدریس، تصنیف و تالیف، خطابت و صحافت، تزکیہ و احسان اور دعوت و تبلیغ کے میدان میں سرگرم عمل رہے. اعتدال و توازن اور توسع و کشادہ نظری مرحوم کا وصف امتیازی تھا. مشترک ملی اداروں سے سرگرم وابستگی رہی، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت، آل انڈیا ملی کونسل اور اسلامی فقہ اکیڈمی جیسے موقر اداروں کو فیض پہونچا تے رہے. ملی اتحاد کے زبردست حامی تھے، جامعۃ الفلاح کئی بار تشریف لائے اور یہاں کے علمی سیمیناروں میں شرکت فرما کر ممنون کیا. جامعہ کے زیر اہتمام دہلی میں مدارس کنونشن منعقد ہوا، اس کی بھی صدارت فرمائی، مدارس میں اصلاح کے حامی تھے اور زمانے کے تقاضوں کے مطابق نصاب و نظام میں ارتقاء چاہتے تھے. تقریر بہت مربوط اور منظم کرتے تھے، اس سلسلے میں اپنے والد ماجد کے نقش قدم پر چلتے تھے، از اول تا آخر پوری گفتگو انتہائی مربوط ہوتی تھی۔ اپنی تقریر میں برملا اس کا اظہار کرتے تھے کہ آج دین کے بجائے مسلک کی تبلیغ ہوتی ہے جبکہ تبلیغ، دین کی ہونی چاہیے۔
ملک اور بیرون ملک بکثرت اسفار فرماتے تھے اور اپنے مواعظ حسنہ سے مستفید کرتے تھے. دار العلوم دیوبند میں فراغت کے بعد ہی سے تدریسی خدمت انجام دیتے رہے اور 1982 میں ناگفتہ بہ حالات کے بعد دار العلوم وقف کا قیام عمل میں آیا تو وہاں طلبہ کو مستفید کرتے رہے. آپ کی عصری مجالس بہت مفید اور علمی ہوتی تھیں. ملت کے ہر حلقے میں مقبول اور معتمد علیہ تھے. ایسی شخصیت کا داغ مفارقت دینا، ایک عظیم سانحہ ہے، یقیناً آپ کی وفات سے ایک بڑا خلاء پیدا ہو گیا ہے، ملت اسلامیہ ہند مسلسل اپنے قائدین کو کھو رہی ہے. کل ہی مولانا عبد الوہاب خلجی صاحب کی وفات ہوئی اور آج 94 برس کی عمر میں مولانا محمد سالم قاسمی صاحب چل بسے. اللہ مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے، ان کی خدمات کو قبول فرمائے، ان کی لغزشوں کو درگزر کرے اور متعلقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین
مولانامحمدطاہرمدنی
قومی جنرل سکریٹری راشٹریہ علماء کونسل