موت نے ان کو عطا کی ہے حیات جاوداں

موت نے ان کو عطا کی ہے حیات جاوداں

 

❏ دیوبندیت کے عظیم ترین ترجمان،فکر نانوتوی کےموقع شناس عالم وشارح،اسلاف کے علمی و روحانی امین، مقبول وممتاز اہل دل خطیب،نکتہ آفریں شیخ الحدیث،ملت اسلامیہ ہندیہ کے مخلص قائد وسرپرست حضرت مولانا “محمد سالم قاسمی “صاحب بھی بالآخر بزم رفتگاں کاایک حصہ بن گئے؛ لیکن انھوں نے خیر کا جو ذخیرہ چھوڑا ہے وہ (ان شاءاللہ) ان کی میزان عمل کو ہمیشہ جھکاتا رہے گا ـ

آپ تو یقینا چلے گئے وہاں، جہاں ہرایک کواپنے اپنے وقت پرجاناہے کہ:

موت سے کس کورستگاری ہے

آج وہ، کل ہماری باری ہے

پرآپ اپنے نمایاں اوصاف،زندہ وتابندہ کارنامے اور دائمی فیض رسانی کی وجہ سے گردش شام و سحر کے درمیان ہمیشہ یاد آتے رہیں گے ۔

❏ مولانا کی وفات حسرت آیات پر “مدرسہ الہدایہ کنشاسا جمہوری جمہوریہ کونگو افریقہ ” میں ایک تعزیتی نشست منعقد ہوئی،جس میں معاون مدیر مولانا سراج اکرم ہاشمی نے دار العلوم دیوبند کی اہمیت وافادیت پر بھرپور روشنی ڈالی اور مؤثر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا: “دنیا کا شاید ہی کوئی قابل ذکر خطہ ایسا ہو جہاں دارالعلوم کا فیض نہ پہنچا ہو، اور وہاں فضلائے دیوبند کی خدمات کے انمٹ نقوش ثبت نہ ہوں”ـ

❏ مولانا ہاشمی نےحضرت مرحوم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوے کہا:

لعمـرك مـا وَارَى التـرابُ فَعـالَــه

ولكنــــه وراى ثيــــاباً وأعظُمـــاً

(واللہ مٹیاں صرف ان کے جسم وپیرہن کو چھپاسکیں گی،ان کے زریں اوردرخشاں کارنامے مرور ایام کے ساتھ مزید گہرے اور روشن تر ہوتے چلے جائیں گے) کیوں کہ أخـوالعـلـمِ حيٌّ خالــدٌ بعـد مـوتِـه ” اہل علم تو مر کر بھی دائمی زندگی پاتے ہیں ـ سچ ہے:

موت نے ان کو عطا کی ہے حیات جاوداں

❏ پھر مولانا ہی کی پرسوز وپرنم اور گلو گیر دعا پر مجلس اختتام کو پہنچی ۔

اللهم اغفر له وارحمه، وأسكنه في الجنة، وألهم أهله الصبر والسلوان، والله ولي ذلك، والقادر عليه.

شـریک غـم وتعزیت کننـدہ

( حافظ عبــدالعظیـــــــم )