طاقتور اتحادی مثلث

طاقتور اتحادی مثلث

سمیع اللہ ملک
پاکستان، روس اور چین طاقتور اتحادی بننا چاہتے ہیں اور ان کی یہ خواہش ان تینوں ممالک کے رابطوں کو مستحکم کر رہی ہے۔پاکستان اور روس کے درمیان سردجنگ کا طویل اور تلخ دورانیہ سالوں پر محیط ہے لیکن اس کے باوجودیہ دونوں ممالک اب چین کے ساتھ مل کرطاقتور اتحادی مثلث بنانے کیلئے بیتاب ہیں، روس اور پاکستان خوشگوار باہمی تعلقات کے ذریعے خطے میں امن و امان چاہتے ہیں۔ ماسکو اوراسلام آبادکے تعلقات اب مخالف سمت میں سفر نہیں کرسکتے، امریکا کو اب افغانستان یا اس خطے میں امن سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ، خطے میں امن و امان اور افغانستان کے مسائل کے حل کیلئے چین ،روس اور پاکستان کا اتحاد بہت ضروری ہے۔
افغان جنگ اور اس کی وجہ سے سرحدوں پر فروغ پانے والی دہشت گردی اور انتہا پسندی سے نمٹنے کیلئے ان ممالک کے درمیان دو فریقی اور سہ فریقی مذاکرات ہوچکے ہیں، پاکستان کو فروری میں دہشت گردی کے حملوں کا سامنا رہا ہے جبکہ ماسکو بھی بم حملوں کی زد میں رہا ہے، پاکستان اور ماسکو میں دہشت گردی کی حالیہ لہر اس بات کا اشارہ کر رہی ہے کہ دہشتگردی ایک بار پھر ان دونوں ممالک کی سرحدوں پر دستک دے رہی ہے۔چین اپنے صوبے سنکیانگ میں ایک عرصے سے دہشتگردی کا سامنا کر رہا ہے لیکن اب سی پیک منصوبے کی کامیابی کیلئے گوادر سے سنکیانگ تک امن و امان کو یقینی بنانے کیلئے پرعزم ہیں۔
اسلام آباد، ماسکو اور بیجنگ کے درمیان بڑھتے ہوئے رابطے امریکا کے مفاد میں نہیں ہیں اس لئے امریکا اپنے مفادات کیلئے افغانستان میں شام جیسی صورتحال پیدا کر نے کی کوشش کرے گاتاکہ یہ تین ملکی اتحاد ایشیا کی صورتحال تبدیل نہ کر سکے اسی لئے افغانستان میں امن اور خطہ میں استحکام کیلئے روس، پاکستان اور چین نے اپنی کوششوں کو تیز کردیا ہے۔ پاک فوج کے ذرائع نے ٹرمپ انتظامیہ کو خبردار کیا ہے اگر افغان مسئلے کا پائیدار حل نہیں نکالا گیا تو یہ کام اب روس کرے گا۔
موجودہ حالات میں امریکا اور پاکستان کے تعلقات اب پہلے جیسے نہیں، اسی لیے ایک طرف پاکستان اب روس کے ساتھ اپنے تعلقات استوار کرنا اور دوسری طرف روس اور بھارت کے تعلقات کا خاتمہ چاہتاہے۔ چین، روس اور پاکستان کے تعلقات نہ صرف پوری دنیا کیلئے حیران کن ہیں بلکہ اس اتحاد میں ایران اور ترکی بھی طاقتور اتحادی مثلث کا حصہ بننا چاہتے ہیں تاکہ مستقبل میں ملکوں کے درمیان معاشی، تجارتی اور فوجی تعلقات بہتر ہو سکیں۔کچھ عرصہ پہلے ایران نے افغان جنگ کے سیاسی حل کیلئے روس،چین اور پاکستان کے اتحادی دائرے میں شامل ہونے کی خواہش کا اظہار کیا تھا، یورپی یونین میں ترکی کی شمولیت کی امیدیں دم توڑ چکی ہیں اور ترکی اب اس اتحادی دائرہ میں شمولیت کا خواہاں ہے۔
حالیہ دنوں میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق روس، چین اور پاکستان کا تین ملکی بین الاقوامی اتحاد خطہ میں امن و استحکام کیلئے کوشاں ہے اور شائع ہونے والی بہت سی دوسری رپورٹس یہ بھی بتاتی ہیں کہ ماسکو،اسلام آباد اور بیجنگ کے دفتر خارجہ اور فوج کے حکام نے افغان جنگ کا سیاسی حل تلاش کرنے کیے لیے بات چیت کی ہے۔ تین ملکی اتحادی مسلسل اس بات کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ واشنگٹن اب افغان جنگ کو ختم کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتااوراسلام آبادپردباو ڈال رہاہے کہ خطہ کے اہم ملکوں کو مذاکرات میں شامل کر کے جلد ازجلد افغان جنگ کے مسئلے کااپنی مرضی کاسیاسی حل نکالا جائیجبکہ افغان جنگ کے مسئلے پر روس، چین اور پاکستان کے درمیان کئی بار مذاکرات ہوچکے ہیں اور ان میں سے اکثر میں امریکا اور بھارت کو شریک نہیں کیا گیا ہے، رواں مہینے کے آخر میں روس ایک بار پھر افغان مسئلے پر مذاکرات کرنا چاہ رہا ہے اور اس میں دوسرے ممالک کی شرکت بھی متوقع ہے ، ان مذاکرات کا مقصد افغان حکومت اور طالبان کے درمیان سمجھوتا کروانا ہے تاکہ افغانستان کی طویل جنگ کا خاتمہ ہو سکے۔
پاکستان، روس اور چین خطہ میں پائیدار امن کا قیام چاہتے ہیں یہ تینوں ممالک صرف معاشی، سفارتی اور دفاعی تعلقات ہی بہتر بنانا نہیں چاہتے بلکہ یہ اپنی سرزمین اور اپنی سرحدوں سے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا مکمل خاتمے کیلئے مشترکہ کوششیں جاری ہیں۔اطلاعات کے مطابق داعش کے سیکڑوں جنگجو افغانستان میں داخل ہوچکے ہیں اور داعش کی موجودگی ان ممالک کیلئے بڑے مسائل بھی پیدا کرے گی یہی وجہ ہے کہ یہ تینوں اتحادی ممالک امن کا قیام یقینی بنانا چاہتے ہیں تاکہ سی پیک بھی محفوظ رہے اور اس کے ساتھ ساتھ ایشیا میں اقتصادی اور کاروباری مواقع بھی پیدا ہوں۔ روس کے پاکستان اور چین سے بہترین تعلقات کے بعد اب یہ تینوں ممالک علاقائی منصوبوں پر مل کر بہتر انداز میں کام کر سکیں گے۔
روس اور پاکستان کے درمیان مفاہمت 2011ء میں اس وقت شروع ہوئی، جب امریکا نے پاکستان پر اسامہ بن لادن کو پناہ دینے کا الزام لگایا اور ایک خفیہ آپریشن میں اسے ہلاک کردیا اس کے ساتھ ساتھ نیٹو افواج نے ہوائی حملہ کر کے24 پاکستانی فوجی جوانوں کو شہید کردیا، یہی دونوں واقعات پاک امریکا تعلقات میں بگاڑ کا سبب بنے ہیں۔ آنے
والے سالوں میں پاکستان کی پرخلوص کوششوں کے باوجود کچھ ممالک سے تعلقات اور رابطے ختم ہورہے ہیں، ایسے میں پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کو تبدیل کیا اور اسے وسیع بنیادوں پر استوار کرتے ہوئے ماسکو سے اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کا فیصلہ کیا۔2014 ء میں روس نے پاکستان پر سے اقتصادی پابندی اٹھالیں، روس کے اس مثبت اقدام نے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سیکورٹی شراکت داری کے دروازے کھول دیے اور ستمبر میں پہلی بار ان دو ریاستوں کے مابین مشترکہ فوجی مشقوں کا آغاز ہوا ہے۔
امریکا کے طالبان سے بات چیت نہ کرنے کے واضح مؤقف کے باوجود پاکستان، روس اور چین نے حالیہ ملاقاتوں میں افغان جنگ کے اختتام اور افغانستان میں امن و استحکام کیلئے کابل اور طالبان کے درمیان پرامن مذاکرات پر اتفاق کیا ہے۔افغان جنگ کو ختم کرنے کیلئے چاہے شام جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے روس، پاکستان اور چین مل کر اس کا پرامن حل نکالیں گے، اگر تین ملکی اتحاد افغان جنگ کو پرامن طریقے سے ختم کرنے میں کامیاب ہوگیا تو یہ اتحادی مثلث طاقتور ترین اتحاد میں شمار کیا جائے گا اور یہ تینوں ممالک ایک دوسرے کے مزید قریب آئیں گے۔
(بصیرت فیچرس)